پھر دھنس رہا ہے عراق خانہ جنگی کے دلدل میں

0

اگرچہ اس وقت پورا مغربی ایشیا بار ود کے ڈھیر پر ہے مگر عراق، شام اور لبنان میں جو تپش پہنچ رہی ہے وہ ان تینوں ملکو ں میں خلفشار شدید خانہ جنگی کی شکل اختیار کرچکی ہے اور اس کا نقصان وہاں کے تمام شہریوں کو ہوگا اس میں تو تردد نہیں ہے۔ امریکہ کو سب سے زیادہ فکر لبنان کی ہے اور وہاں حزب اور اسرائیل کے درمیان محاذ نہ کھلے اس کے لیے اس نے ایک اعلیٰ سطحی کرائسس مینجمنٹ گروپ بنایا ہے اور کئی سینئر سفارت کار فریقوں کے درمیان جنگ بندی کی کوشش کررہے ہیں۔ امریکہ شام اور عراق کی طرح لبنان میں براہ راست ملوث نہیں ہے ورنہ دیگر دونوں ممالک میں امریکہ کے فوجی اس مفادات کو تحفظ فراہم کرانے کے لیے تعینات ہیں۔ قارئین نے یہ بھی محسوس کیا ہوگا کہ امریکہ کی غزہ میں جنگ بندی میں دلچسپی نہیں ہے اور 7اکتوبر سے پہلے اس مسئلہ فلسطین کے حل کے تئیں امریکہ کی عدم دلچسپی رہی ہے۔ اس کا پورا فوکس اسرائیل کو تحفظ فراہم کرانا اور حماس کا خاتمہ کرنا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ امریکہ فلسطین کے لوگوں کو آزاد کرانے اور ان کے خود مختار ملک کے قیام کو لے کر دلچسپی لے رہاہے۔ یاسر عرفات کی قیادت والی پی ایل او کے خلاف اور اس کو اسرائیل اور اس کا سرپرست اعلیٰ امریکہ اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے وہ یاسر عرفات جامع اور ہشت پہلو شخصیت تھی جس کا لوہا پوری دنیا نے مانا۔ اس کے مقابلے میں پی ایل او سے متصادم حماس کو امریکہ اور اس کے حواری ایک دہشت پسند تنظیم اور جماعت قرار دیتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پی ایل او کو بے اثر کرنے کے لیے اسرائیل نے حماس کو سپورٹ دی۔
بہر کیف غزہ کی لپٹیں اب پورے خطے کو اپنی زد میں لے چکی ہیں۔ حماس کی حمایت کے پاداش میں امریکہ اور اسرائیل ، برطانیہ کے ساتھ مل کر پورے خطے میں ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں اور عسکری گروہوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔ مغربی ایشیا کی ایک اہم اقتصادی اور عسکری قوت یو اے ای نے امریکہ کو ایک بارپھر وارننگ دی ہے کہ یہ تنازع اور اسرائیل کا بربریت آمیز سلوک خطے کے دیگر ملکوں کو بھی اپنی زد میں لے رہا ہے۔ خیال رہے کہ یو اے ای —امریکہ کا حلیف ملک ہے، دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط اقتصادی تعاون اور عسکری سمجھوتے ہیں۔
ایران اور اسرائیل نواز مغرب کے درمیان یہ کشیدگی عراق کو اپنی زد میں لے چکی ہے اور ایک بھیانک رخ اختیار کرچکی ہے۔ امریکہ ان علاقوں پر بم برسا رہا ہے ، جہاں ایران کا اثرورسوخ ہے اور ایران کرد غلبہ والے کرد ستان کے علاقوں اور شام کے ان علاقوں میں فوجی کارروائی کررہا ہے جو مشتبہ طور پر آئی ایس آئی ایس اور القاعدہ کے کنٹرول والے علاقے قراردیے جاتے ہیں۔ ان حالات میں عراق کی پوزیشن بہت خراب ہوگئی ہے۔ عراق نے اپنے علاقوں میں ایران کی پاسداران انقلاب کے بعد ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرلیے ہیں اور یہ کارروائی اگرچہ امریکہ کے دبائو میں ہوسکتی ہے ، مگر بہرحال ایران کی طرف سے ہونے والے حملے اس کے اقتدار اعلیٰ کی خلاف ورزی ہے۔ ایران اورامریکہ کے درمیان جھڑپوں کا اثر عراق پر براہ راست پڑ رہا ہے، اس کی سب سے بدترین مثال امریکہ کے ذریعہ ایک محدود سطح پر خدمات انجام دے رہی، ایک ایئر لائنز پر امریکہ کی پابندی سے لگایا جاسکتا ہے ، فلائی بغداد ایئرلائنس اور اس کے مالک سی ای او بشیر عبدالحادم علوان الشعبانی پر الزام ہے کہ وہ ایران کی القدس فورس کو تعاون دے رہے ہیں۔ امریکہ عراق میں اپنی پابندیوں کا دائرہ وسیع کرنے کا پروگرام بنارہا ہے، عراق میں سرگرم ایران نواز خطیب حزب اللہ پر پابندیاں عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے، الزام ہے کہ خطیب حزب اللہ گروپ مذکورہ بالا ایئر لائنس کے ذریعہ عراق سے امریکی کرنسی اور امریکہ میں بنے اسلحہ کو لبنان پہنچا رہاہے۔ خطیب حزب اللہ پر ایرانی لڑاکے بھی لبنان پہنچانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ دراصل امریکہ عراق پر دبائو ڈالتا رہا ہے کہ وہ ایران کو الگ تھلگ چھوڑے اور عراق اور شام میں امریکہ ٹھکانوں اور مفادات پر حملوں کی وجہ سے پورے خطے میں پراکسیوں کے درمیان زبردست معرکہ ہے۔ اکتوبر کے وسط میں امریکہ کے ٹھکانوں پر 140حملے ہوچکے ہیں۔ ایران نواز گروپ فخریہ ان حملوں کا کریڈیٹ لیتے ہیں اور اس کو غزہ میں اسرائیلی جارحیت سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔
دراصل عراق جو کہ ایک طویل عرصہ سے خانہ جنگی اور خارجی فوجی مداخلت کا شکار ہے۔ ان حالات میں مزید الجھ کر رہ گیا ہے ۔ امریکہ عراق میں ایران نواز گروپوں کے مفادات او رٹھکانوں پر کارروائی کررہا ہے۔ اپنے ملک کو پراکسی جنگ کا میدان پھنسا دیکھ کر عراق کے وزیر اعظم کا بوکھلانا فطری ہے۔ امریکہ نواز اورایران نوازوں میں جھڑپیں بڑھ رہی ہیں۔
تقریباً دو ہفتہ قبل امریکی فوج کے ایک حملہ میں کئی فوجی زخمی ہوگئے ہیں۔ عراق کے مزاحمتی گروپوں کے حملوں اور جوابی امریکی کاررائی کے درمیان ملک میں جنگی تصادم بڑھنے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔ امریکہ کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ وہ عراق میں کسی بھی طرح کی صورت سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ یہ حملہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عراق خارجی طاقتوں کی پراکسی اور براہ راست جنگی کارروائی کی آماجگاہ بنتا جارہاہے ۔ یہی اہل عراق کی تشویش ہے۔ خطیب حزب ایک جنگجو گروپ ہے۔ ایران کی حمایت اس کو حاصل ہے او راس کے فوجی کیمپوں میں وہی تمام اسباب اورآلات ہیں جو کسی بھی جنگی گروپ یا جماعت کے ہوسکتے ہیں ۔ امریکہ کا الزام ہے کہ خطیب حزب اللہ کے کنٹرول والے مقامات میں جدید اسلحہ، یو اے ای اور دیگر اسلحہ اورآلات کی تربیت کے انتظامات ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ تنظیم عراق کی فوج کے علاوہ وہ فوجی طاقت ہے جس کا کنٹرول عراق کی جمہوری طور پر منتخب سرکار کے پاس نہیں ہے۔ 2009میں ہی امریکہ نے اس گروپ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ اس وقت پابندی عائد کرتے ہوئے امریکہ نے کہا تھا کہ یہ تنظیم امریکہ اور عراق کی فوج پر حملہ کررہی ہے اور عراق کی جغرافیائی سالمیت کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔ عراق ایران اور امریکہ دونوں کی اپنے ملک میں فوجی جوابی کارروائی کے درمیان اپنے آپ کو پھنسا ہوا محسوس کررہا ہے۔ n

عراق کے کرد باغی ترکی کیلئے دردسر

عراق میں صرف امریکہ او رایران کی افواج سرگرم نہیں ہیں بلکہ کردوں کے غلبہ والے علاقوں پر ترکی کی بھی گہری نظررہتی ہے۔ جنوری ماہ کے وسط میں ترکی کے نو فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا اس کے جواب میں ترکی نے عراق کے تقریباً 30مقامات پر حملہ کیا۔ عراق میں کردوں کی علیحدگی پسند تنظیم کردستان ورکر ز پا رٹی (پی کے کے) اور پیوپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی بی)پر ترکی وقتاً فوقتاً کارروائی کرتا رہا ہے، امریکہ کو ان جماعتوں پر بہت بھروسہ ہے اور آئی ایس آئی ایس کے خلاف کارروائی میں ان تنظیموں کو اہمیت دیتا ہے۔ امریکہ اورترکی کے درمیان کردوں کو لے کر سخت اختلافات ہیں اور دونوں ممالک میں اختلافات اور جھڑپیں عراق کی سلامتی، جغرافیائی یکجہتی اور استحکام کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ ترکی میں انتخابات سے قبل دہشت پسندانہ کارروائیوں اور اس سے قبل فوج اور دیگر بااثرفریقوں کے ذریعہ بغاوتوں کی کوششوں کے لیے ترکی—امریکہ اور دیگر غیر ملکی طاقتوں کو مورد الزام ٹھہراتا رہا ہے۔ ترکی کی سیاسی جماعت اخوان المسلمون اسلام پسندوں کی جماعت ہے۔ ترکی ناٹو کا ایک اہم ملک ہے اور ناٹو ممالک کے ممبر کی حیثیت سے ترکی کی فوج کو تمام اقتصادی طور پر مضبوط اور عسکری طاقتوں کے ساتھ تال میل اور مشقیں کرنے کا تجربہ ہے۔ وہاں ایک طویل عرصہ تک فوجی حکومت یا فوج کے زیر اثر حکومت رہی ہے اور فوج اور اس وقت کی عدلیہ عبداللہ گولن جیسے دانشوروں کے ساتھ مل کر ترکی کے اقتدار پر حاوی رہے ہیں۔ مگر اب حالات دوسرے ہیں۔ ترکی کے کرد اسلام پسندوں کی جمہوری طو ر پر منتخب حکومت کا رویہ مغرب کے لیے بالکل مختلف ہے اوریہ رویہ عراق شام دونوں ملکوں میں امریکہ کے عزائم کے نفاذ میں حائل ہے۔ ترکی کردباغیوں کے معاملہ میں بہت سنجیدہ ہے۔ عراق میں علیحدگی پسندوں کے خلاف مہم شروع کرتے ہوئے 2022میں ترکی نے آپریشن کلالاک (Operation Clawlock)کرکے کئی مقامات پر اپنے فوجی اڈے قائم کیے تھے۔ شام کی طرح عراق بھی اپنی سرزمین سے ترکی کی افواج کے انخلا کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ مگر ترکی کے اندیشے غلط نہیں ہیں ۔ کردباغی عراق میں ترکی کے اداروں اور مفادات کونقصان پہنچانے کی کومسلسل کوشش کرتے رہے ہیں۔ حال ہی میں شمالی عراق میں کردوں نے حملہ کرکے ترکی کے کئی فوجیوں اور چھ افسروں کومارڈالا تھا۔ شمالی عراق میں ترکی کا جنگی اڈہ بہت پہلے1984سے قائم ہواتھا۔n

عراق میں غیرملکی مداخلت کی شروعات

عراق میں غیرملکی افواج کی جارحیت کا سلسلہ مارچ-اپریل 2003سے شروع ہوا۔ اس وقت وہاں صدام حسین کا اقتدارتھا۔اس مہم میں امریکہ اور برطانیہ کی فوجیں شامل تھیں۔ 2003-11کے درمیان اس مہم کو دوادوار میں تقسیم کیاجاسکتا ہے۔ 2007میں امریکی تشدد میں تخفیف کے بعد اپنی فوج کی موجودگی کو کم کردیا۔ بعدازاں دسمبر2011میں امریکی فوج کا انخلا ہوگیا۔ اس پوری مدت میں امریکہ کے 4500فوجی ہلاک اور 32000زخمی ہوگئے تھے۔ 2002میں امریکہ کے صدرجارج ڈبلیوبش نے عراق پر الزام لگایاتھا کہ عراق میں بڑے پیمانے پرتباہی مچانے والے ہتھیار بنائے جارہے تھے۔ 11دسمبر2001کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد عراق نے القاعدہ کے دہشت گردوں کی تلاش میں فوجی مہم کوتیز کردیا۔

 

 

 

 

 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS