نائن الیون کا سچ اور مسلمان

0

قربان علی

1978-79 کے دوران اس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر کے قومی سلامتی کے مشیر رہے زیڈ- بریزنسکی نے ایک انٹرویو میں 1979 میں افغانستان میں یو ایس ایس آر (سوویت) فوجوں کے داخل ہونے کے بارے میں کہا تھا کہ ’ہم نے وہاں یو ایس ایس آر (روسی) فوجوں کے لیے ایک جال بچھایا تھا اور وہ اس میں پھنس گئے۔‘ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے سوویت روس کے مخالف مجاہدین کو مالی طورپر مدد پہنچائی تھی اور اس سلسلے میں صدر جمی کارٹر نے 3 جولائی 1979کو ایک خفیہ دستاویز پر دستخط کیے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ سوویت روس کی فوجیں دسمبر 1979 میں افغانستان میں داخل ہوئی تھیں اور ان کی مخالفت کرنے والوں میں اوسامہ بن لادن اور اس کے مجاہدین حامی بھی شامل تھے۔ ان مجاہدین کو ایک دوسرے امریکی صدر رونالڈ ریگن نے بھی مدد دی تھی۔
1980 کی دہائی میں ایران- عراق کے درمیان جنگ ہوگئی۔ اس جنگ میں امریکہ نے کھل کر عراق کا ساتھ دیا۔ یہاں تک کہ اس پر عراق کو کیمیائی ہتھیار تک مہیا کرانے کے الزام لگے۔ بعد میں 1990 کی خلیجی جنگ میں، جو کویت پر عراق کے حملے سے شروع ہوئی، امریکہ نے کھل کر اس میں حصہ لیا اور سعودی عرب سمیت کئی عرب ملکوں کو جن میں کویت اور قطر بھی شامل ہیں، ان کی حفاظت کے نام پر کافی پیسہ وصول کیا اور ان پر بھاری قرض لاد دیا جو یہ ملک ابھی تک چکا رہے ہیں۔ بعد میں عراق کا کیا حشر ہوا کسی سے چھپا نہیں ہے۔
اس کے بعد 1992 میں ایک امریکی سیاسی سائنس داں سیموئل پی ہٹنگ ٹن نے ایک تھیسس گڑھی جس میں کہا گیا کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد لڑائیاں اب ملکوں کے درمیان نہیں بلکہ تہذیبوں کے درمیان لڑی جائیں گی اور ان میں لوگوں کے مذہب اور ان کی ثقافتی شناخت کلیدی طور پر تنازع کے ایشوز ہوں گے۔ بعد میں ایک کتاب کی شکل میں انہوں نے اپنی اس تھیسس کو وسعت دی جس کا عنوان تھا ، ’دی کلیش آف سویلائزیشن اینڈ دی ری میکنگ آف ورلڈ آرڈر‘۔ اس تھیسس میں مسلمانوں خاص کر عربوں کا بالواسطہ ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ مہذب لوگ نہیں ہیں اور ان کے ساتھ شائستگی کے ساتھ برتائو نہیں کیا جاسکتا۔
پھر 9/11 کو امریکہ کے نیویارک شہر میں ورلڈ ٹریڈ ٹاور کو گرائے جانے کا واقعہ پیش آیا جس نے پوری دنیا میں ایک طوفان برپا کر دیا۔ اس واقعے کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کی ایک نئی تعریف گڑھی۔ اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’کروسیڈ‘ (مذہبی جنگ کے لیے استعمال ہونے والا لفظ) ہے اور اس میں یا تو آپ ہمارے دوست ہیں یا دشمن۔ انہوں نے 9/11 کے واقعے کے لیے اوسامہ بن لادن اور اس کی تنظیم القاعدہ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے افغانستان میں جنگ کا اعلان کر دیا۔ حالانکہ اب افغانستان میں طالبان حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اوسامہ بن لادن 9/11 کے حملوں میں شامل تھا۔ طالبان نے کہا ہے کہ 20 سال کی جنگ کے بعد بھی اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اس جنگ کی کوئی منطق نہیں تھی، اسے امریکیوں کے ذریعے جنگ کے بہانے کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ جب لادن امریکیوں کے لیے مصیبت بنا تو وہ افغانستان میں تھا لیکن اس کے اس حملے میں شامل ہونے کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔

دو دنوں کے سنجیدہ غور و فکر کے بعد 100 سے زیادہ عرب دانشوروں اور 22 عرب ملکوں کے وزرا نے ایک تجویز پاس کی جس میں کہا گیا تھا کہ ’اپنی خراب شبیہ کو بہتر بنانے کے لیے عرب ملکوں کو مغرب کی ایک ’’پبلک ریلیشن کمپنی‘‘ کی مدد لینی چاہیے اور اپنا ایک ٹیلی ویزن چینل شروع کرنا چاہیے۔‘ اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عرب ملکوں اور ان کے دانشوروں کی سوچ کتنی محدود ہے۔

2003 میں امریکہ نے یہ کہہ کر عراق پر حملہ کیا تھا کہ اس کے پاس ’عام تباہی کے ہتھیار‘ ہیں۔ جب یہ بات اس کے سائنس داں تک ثابت نہیں کرپائے توجارج ڈبلیو بش نے کہا کہ ’عراق کے صدر صدام حسین کے بغیر دنیا زیادہ محفوظ ہوگی‘ اور پوری دنیا کو ایک اور جنگ میں دھکیل دیا جس کا نتیجہ پوری عرب دنیا آج تک بھگت رہی ہے۔ تو پھر کیا یہ مانا جائے کہ امریکہ اپنے معمولی سیاسی- سفارتی فوائد کیلئے سازشیں کرتا ہے اور اس میں دوسرے ملکوں، مذہبی اور ثقافتی گروپوں کو پھنساکر طویل مدتی سیاست کرتا ہے؟ اس کی گزشتہ 75 برسوں کی تاریخ تو یہی بتاتی ہے۔ چاہے دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپان کے ہیروشیما اور ناگاساکی شہروں پر ایٹم بم گرانے کا معاملہ ہو یا ویتنام جنگ۔ صومالیہ، یمن اور لیبیا ہوں یا عراق اور افغانستان کی جنگ، ہر جگہ امریکی سازشوں کے ثبوت دیکھنے کو ملتے ہیں۔
تو کیا 9/11 کے واقعے کے بعد جس کے بارے میں کافی کچھ لکھا جا چکا ہے اور ابھی تک پختہ طور پر یہ ثابت نہیں ہوا ہے کہ اس کے پیچھے سازش میں کون شامل تھا، یہ مانا جائے کہ یہ واقعہ مسلمانوں خاص کر عربوں کو سبق سکھانے کے لیے انجام دیا گیا؟ اور کیا عرب اور مسلمان اس جال میں پھنس گئے اور آخر اس جال سے نکلنے کا ان کے پاس کوئی راستہ بچا ہے یا نہیں؟
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پچھلے 40-42 برسوں میں مسلمانوں کی دہشت گرد تنظیموں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ان کی وہابی- سلفی سوچ نے امریکی تشہیر کی اس معاملے میں مدد ہی کی ہے کہ زیادہ دہشت گرد مسلمان ہی ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جاناچاہیے۔ حالانکہ جن طالبان کو امریکہ القاعدہ کا معاون اور حامی مانتا تھا اور 2001 میں جن کی حکومت کو نیست و نابود کر کے افغانستان میں اس نے ایک نئی حکومت بنوائی تھی، پھر دو سال پہلے انہیں طالبان کو ’گڈ‘ اور ’بیڈ‘ بتاکر ان کے ساتھ سمجھوتہ کیا اور 20 سال کی جنگ کے بعد انہیں ہی افغانستان سونپ کر نکل لیا۔ اس میںحیرت کی کوئی با ت نہیں ہے۔ یہ امریکہ کا پرانہ طریقہ رہا ہے لیکن سوال یہ بھی ہے کہ آخر مسلمان کیا کریں؟ 2001 کی افغان جنگ سے پہلے اس سوال پر بات کرنے کے لیے 22 عرب ملکوں نے عرب لیگ کے بینر تلے قاہرہ میں ایک سربراہ اجلاس منعقد کیا تھا۔ اس مضمون کا مضمون نگار اس اجلاس کو کور کرنے کے لیے قاہرہ میں موجود تھا۔
دو دنوں کے سنجیدہ غور و فکر کے بعد 100 سے زیادہ عرب دانشوروں اور 22 عرب ملکوں کے وزرا نے ایک تجویز پاس کی جس میں کہا گیا تھا کہ ’اپنی خراب شبیہ کو بہتر بنانے کے لیے عرب ملکوں کو مغرب کی ایک ’’پبلک ریلیشن کمپنی‘‘ کی مدد لینی چاہیے اور اپنا ایک ٹیلی ویزن چینل شروع کرنا چاہیے۔‘ اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عرب ملکوں اور ان کے دانشوروں کی سوچ کتنی محدود ہے۔ وہ اس ملک سے مقابلہ کرنے کی سوچ رہے تھے جو ان سے ہر معاملے میں کم سے کم 50 سال آگے ہے۔ میڈیا میں بھی اور سفارت کاری میں بھی لیکن دنیا بھر کے مسلمانوں کو اب اس بات پر ضرور غور کرنا چاہیے کہ اس ’ٹریپ‘ (جال) سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here