طالبان کا تصاویر بنوانے سے گریز، وجہ عقیدہ ہے یا سکیورٹی؟

0
Image: Alamy

کابل(ایجنسی):یہ 1996 کی بات ہے، جان سمپسن اُس وقت بی بی سی کے لیے افغانستان میں رپورٹنگ پر مامور اپنے ایک ساتھی کے ساتھ جلال آباد کی جانب رواں دواں تھے۔ وہ قندھار سے گزر رہے تھے کہ کچھ لوگوں نے بتایا کہ آج وہاں ایک بڑا اجتماع ہے۔ انھوں نے دیکھا کہ شہر کے مرکز میں ہزاروں افراد کا مجمع تھا اور بیچ میں ’ایک ٹرک یا شاید سٹیج‘ پر ایک شخص کھڑا تھا۔
’یہ طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر تھے۔ ان کے ہاتھ میں مبینہ طور پر پیغمبر اسلام سے منسوب چوغہ تھا۔ وہاں موجود لوگ انتہائی پُرجوش تھے اور عقیدت کے ساتھ نعرے لگا رہے تھے۔ انھوں نے اپنے سر پر باندھی پگڑیاں ملا عمر کی جانب اچھالنا شروع کیں تاکہ انھیں اس لباس سے مس کر سکیں۔‘یہی وہی دن تھا جب ملا عمر کو وہاں موجود لوگوں نے ’امیرالمومنین‘ کا خطاب بھی دیا تھا۔
جان سمپسن اِس سے قبل خفیہ طور پر عکس بندی کر رہے تھے مگر اب انھوں نے دیکھا کہ ہر کوئی صرف لباس کی جانب متوجہ ہے تو انھوں نے اپنے کیمرہ مین کو کہا کہ وہ کیمرہ نکالیں اور عکس بندی کریں۔ مجمع میں کسی نے ان کی جانب دھیان نہیں دیا اور یوں ملا عمر کی پہلی اور واحد ویڈیو سامنے آئی۔وہ ملا عمر ہوں، ان کے جانشین یا دیگر اہم طالبان رہنما سبھی تصاویر یا ویڈیو بنوانے سے کتراتے رہے ہیں۔ اس کی وجہ مذہبی عقائد بتائی جاتی ہے۔
جان سمپسن بتاتے ہیں کہ 1994 میں جب اس گروپ کی باقاعدہ تشکیل کا اعلان ہوا تب طالبان رہنماؤں کے ویڈیو انٹرویو لینا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔
’ایک بار ایک رہنما نے مجھے کہا کہ میں صرف ان کے ہاتھ کی ویڈیو اس وقت بنا سکتا ہوں جب وہ چائے کا کپ پکڑ رہے ہوں۔ انھوں نے واضح کیا کہ ان کے بازو یا جسم کا کوئی بھی حصہ ویڈیو میں نہیں آنا چاہیے۔‘اسی طرح ایک اور رہنما نے ان سے کہا کہ وہ کمر سے نیچے نیچے اُن کی ویڈیو بنا لیں لیکن دھڑ کیمرے میں نہیں آنا چاہیے۔ ان کے خیال تھا کہ مذہب میں اتنی لچک موجود ہے۔
تاہم اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد اس رویے میں لچک بھی سامنے آئی ہے اور اس وقت افغانستان میں طالبان کی عبوری کابینہ کے متعدد ارکان کی تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں۔طالبان کے موجودہ سربراہ ملا حسن اخوند کی تصویر سنہ 2016 میں خود طالبان نے اس وقت جاری کی جب ملا محمد منصور کی ہلاکت کے بعد ان کی سربراہی کا اعلان کیا گیا تھا۔
جان سمپسن کا خیال ہے کہ اس کی وجہ مختلف مذہبی عقائد ہی ہیں۔ ’بیس، پچیس سال پہلے بھی ایسا نہیں کہ طالبان کے پاس کوئی باقاعدہ، تحریری اصول تھا کہ تصویر نہیں بنوانی۔ اس وقت بہت کم مگر ایسے لوگ بھی تھے جن کا ہم انٹرویو کرتے اور انھیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ ہم انھیں ٹی وی پر دکھائیں۔‘
اسلام کے ماننے والوں میں بھی چند گروہ ایسے ہیں جو کسی زندہ شے کی تصویر کشی یا مجسمہ سازی کو غیر اسلامی قرار دیتے ہیں اور طالبان کے کئی اہم رہنماؤں کی تصاویر نہ ہونے کی وجہ بھی یہی بتائی جاتی ہے کہ مذہب میں اس کی ممانعت ہے۔
سنہ 2000 میں لکھی جانے والی کتاب ’طالبان: ملیٹنٹ اسلام، آئل اینڈ فنڈامینٹل ازم ان سینٹرل ایشیا‘ کے مصنف احمد رشید کا کہنا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ اسے مذہبی عقائد کے منافی سمجھا جاتا تھا۔
’وہ سمجھتے ہیں کہ آپ پیغمبر اسلام کی شبییہ نہیں بنا سکتے تو آپ کو انسان کی تصویر نہیں بنانی چاہیے، ایک تو انھوں (طالبان) نے یہ کہا۔ مگر اب انھوں نے میڈیا کو اس سے متعلق یہ وضاحت نہیں دی کہ اب وہ (خود کو) میڈیا پر بھی دکھا رہے ہیں، ٹی وی کو بھی مان رہے ہیں، انٹرنیٹ کو بھی مانتے ہیں، مگر اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی کہ کیوں۔ لیکن میرے خیال میں ان پر یہ اثرات القاعدہ سے آئے ہیں، کیونکہ القاعدہ نے بڑے پیمانے پر ماس میڈیا کو بہت شاندار انداز میں پراپیگنڈہ کے لیے استعمال کیا۔‘
’جب اسامہ بن لادن قندھار میں تھے تو ان کا طالبان پر بہت اثرورسوخ تھا اور تب تھوڑی بہت تبدیلی آئی تھی۔ جب ایک بار یہ سمجھ لیں کہ اب بین الاقوامی سطح پر ظاہر ہونا ہے تو پھر انھوں نے تسلیم کر لیا کہ اب لوگ تصاویر بھی لیں گے اور اب تو سوائے حقانی نیٹ ورک کے لوگوں کے سب ہی میڈیا پر آ رہے ہیں۔‘
واضح رہے کہ حقانی نیٹ ورک کے موجودہ سربراہ اور افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کی کوئی بھی ایسی تصویر تاحال موجود نہیں جس میں ان کا چہرہ واضح طور پر دکھائی دیتا ہو۔ ان کی ایک ہی ویڈیو موجود ہے جب انھوں نے سنہ 2010 میں بطور ایک ملٹری کمانڈر الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو دیا تھا۔ وہ چادر میں لپٹے ہیں اور ان کے چہرے کا ایک حصہ کسی حد تک دیکھا جا سکتا ہے۔
ان کی اسی تصویر کی بنیاد پر مختلف سکیچز بنائے گئے جنھیں امریکی اداروں نے ان کی گرفتاری یا ان سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے اشتہاروں میں بھی استعمال کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے والد اور حقانی نیٹ ورک کے بانی جلال الدین حقانی کی متعدد تصاویر موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ احمد رشید کا خیال ہے کہ حقانی نیٹ ورک میں تصاویر کھنچوانے سے اجتناب کی بنیادی وجہ مذہب کی بجائے سکیورٹی نظر آتی ہے۔
احمد رشید کے مطابق ’حقانی نہیں چاہتے کہ وہ منظر عام پر آئیں۔ مثال کے طور پر خود سراج الدین حقانی کے سر کی قیمت دس ملین ڈالر امریکہ نے مقرر کر رکھی ہے۔‘
سینیئر صحافی ہارون رشید کا کہنا ہے کہ ’جب ملا عمر حکومت میں تھے تو تصاویر پر مکمل پابندی تھی یہاں تک کہ اخبار میں بھی کوئی تصویر نہیں چھپتی تھی مگر پھر سوشل میڈٰیا آیا تو اس کے بعد میرے خیال میں طالبان نے عسکری مقاصد کے لیے اس کو استعمال کرنا شروع کیا۔‘
ہارون رشید کہتے ہیں کہ طالبان نے اپنے ان مرکزی رہنماؤں کی تصاویر کو ان کی ’امیج بلڈنگ‘ یا تشہیر کے لیے بھی استعمال کیا جو اب دنیا میں موجود نہیں۔
’ملا عمر کے مرنے کے بعد تصاویر ریلیز کی گئیں۔ اب شاید وہ سمجھ گئے ہیں کہ جنگ صرف میدان جنگ میں گولیوں سے نہیں جیتی جا سکتی۔ آپ کو ایک شبیہ بھی چاہیے لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ تصویر ایک خطرہ بھی ہے۔ جس قسم کی ٹیکنالوجی آئی، جیسا کہ چہروں کی پہچان اور ڈرونز وغیرہ اور اس کے مدمقابل جو گوریلا جنگ یہ لڑ رہے تھے اس میں بہتر آپشن یہی تھا کہ آپ کی میڈیا پر موجودگی کم ہو۔‘
’آپ کا نظر نہ آنا آپ کو محفوظ رکھتا تھا۔ اس لیے وہ خود کو چھپا کر ہی رکھتے۔ ان کی اس حکمتِ عملی کی بڑی وجہ آرٹیفشل انٹیلیجنس تھی کہ انھوں نے اپنی پوری تحریک کے دوران تصاویر سے گریز کیا اور بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ طالبان کے لوگ گرفتار ہوئے اور وہ رہا ہو گئے کیونکہ ان کو کوئی پہچان نہیں سکا۔‘
تاہم ہارون رشید کے مطابق ’اب چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے طالبان کو سامنے آنا پڑ رہا ہے۔ جیسا کہ طالبان کے موجودہ سربراہ حسن اخوند اور ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی تصاویر آ گئی ہیں، لیکن اس بحث سے بالاتر کہ طالبان کے موجودہ سربراہ زندہ ہیں یا نہیں، طالبان ان کی تصاویر کے معاملے میں خاصے محتاط ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ انھیں اب بھی خطرہ ہے۔‘
خیال رہے کہ ہبت اللہ اخوندزادہ کی تصویر 2016 میں اس وقت افغان طالبان نے جاری کی تھی جب انھیں طالبان کی سربراہی سونپی گئی تھی تاہم اب افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد اگرچہ انھیں اس حکومت کا سرپرست قرار دیا گیا ہے لیکن ان کی کوئی تازہ تصویر منظرِ عام پر نہیں آئی۔
ہارون رشید اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ طالبان پر سفری پابندیاں تصویر نہ لینے کی وجہ تھیں۔ ’سفر کے لیے تو جہاں انھیں ضرورت پڑتی تھی تصاویر بنوائی جاتی تھیں۔ اس سلسلے میں ملا محمد منصور کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ان کا پاسپورٹ موجود تھا مگر پبلسٹی اور شہرت کے لیے تصاویر استعمال نہیں کی جاتی تھیں۔‘
بی بی سی نے طالبان کے ترجمان اور ان کی افغان حکومت میں نائب وزیرِ داخلہ ذبیح اللہ مجاہد سے اس معاملے پر طالبان کا موقف جاننے کی کوشش کی لیکن تاحال ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
افغان طالبان کی طرح تصاویر نہ بنوانے کا یہ چلن سرحد پار پاکستانی طالبان میں بھی رہا ہے۔ ہارون رشید کہتے ہیں کہ ’اسی قسم کا ٹرینڈ پاکستانی طالبان میں رہا۔ بیت اللہ محسود تصاویر نہیں بنواتے تھے تاہم حکیم اللہ محسود کو تصاویر بنوانا پسند تھا۔‘ہارون رشید کے مطابق پاکستانی طالبان کی جانب سے یہ کہا جا تا تھا، ’تصویر کا ہمیں کیا فائدہ ہو گا؟‘
ان کے مطابق ’پاکستان کے خلاف لڑنے والے طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود نے 2008 میں ایک بار جنوبی وزیرستان میں صحافیوں کو بلوایا تو وہاں یہ پریشانی تھی کہ اب ٹی وی کے صحافی آئے ہیں تو تصاویر کیسے بنوائی جائیں۔ اس موقع پر ہر کوئی انھیں مشورے دے رہا تھا۔ کوئی کہتا سامنے چادر پکڑ لی جائے، کوئی مشورہ دیتا کہ کیمرہ کہیں ایسی جگہ رکھا جائے جہاں ان کا چہرہ نہ لیا جا سکے۔ ایک موقع پر تو انھوں نے کہا کہ اگر کل کسی اخبار یا ٹی وی پر میری تصویر آئی تو اس صحافی کی خیر نہیں ہو گی۔‘

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS