کتابوں کا تاج محل،رضا لائبریری،اپنی حالت پہ ماتم کناں: پروفیسر اسلم جمشید پوری

0

پروفیسر اسلم جمشید پوری

تاج محل دنیا کا آٹھواں ایسا عجوبہ ہے،جسے جتنا دیکھو دل نہیں بھرتا۔وہ عمارت بار بار پس منظر میں نمودار ہوتی ہے اور اپنے پاس بلاتی ہے۔تاج محل کچھ اس طرح ہمارے اندر سما گیا ہے کہ وہ ہماری تہذیب و ثقافت کا اٹوٹ حصہ بن گیا ہے۔اس کی شہرت اور مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے،اب اس کا استعمال علامتوں اور تشبیہوں میں ہونے لگا ہے اور اس کے زائرین سے ہونے والی آمدنی، ہندوستان کی تاریخی عمارتوں میں سب سے زیادہ ہے۔تاج محل جیسی بے نظیر محبت کی یادگاریں صدیوں میں تشکیل پاتی ہیں۔
آج سے چالیس پچاس سال قبل رضا لائبریری کو ’’کتابوں کا تاج محل‘‘ اس کے پہلے ڈائریکٹر مولانا امتیاز علی خاں عرشی نے کہا تھا۔ امتیاز علی خاںعرشی اردو،عربی اور فارسی کے عالمی سطح کے محقق و ناقد تھے۔انہوں نے اپنی تحقیق سے اردو تحقیق کو استناد اور استحکام بخشا۔اعلیٰ پائے کے نثر نگار اور شاعر تھے۔ آپ نے کئی درجن معیاری کتب ہمیں دیں۔ان کی معروف کتابوں میں،’’مکاتیبِ غالب‘‘، ’’انتخاب ِ غالب‘‘، ’’دیوانِ غالب نسخۂ عرشی‘‘،’’نادرات ِ شاہی‘‘، ’’ دستور الفصاحت‘‘،’’ وقائع عالم شاہی‘‘،’’تاریخ ِ محمدی‘‘، ’’کتاب الاجناس‘‘،’’تفسیر القرآن الکریم‘‘، ’’استناد نہج البلاغہ‘‘وغیرہ کا شمار ہوتا ہے۔وہ ایک مستند اور قادر الکلام شاعر بھی تھے،مگر کبھی اپنا کلام شائع ہونے کو نہیں بھیجا۔ ان کی وفات کے کافی برسوں بعد2005 میں ان کی صاحبزادی ڈاکٹر زہرا عرشی، فرزند ڈاکٹر ممتاز عرشی اور شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی نے امتیاز علی خاںعرشی کا مجموعۂ کلام ’’ انتخاب ِ عرشی‘‘ کے نام سے شائع کیا تھا۔مولانا امتیاز علی خاںعرشی اس کتب خانے کے پہلے ڈائریکٹر تھے، وہ تا دم ِ حیات اس عہدے پر بنے رہے۔
تاج محل والی بات امتیاز علی خاںعرشی نے یوں ہی روا روی یا کسی رو میں نہیں کہی تھی بلکہ انہوں نے کافی غور و خوض کے بعد یہ بات کہی تھی۔دراصل پوری دنیا میں رضا لائبریری، رامپور کی منفرد شناخت ہے۔یہ ایک تاریخی لائبریری ہے۔اس کی وسیع عمارت، خوبصورت لان، فوارے، سیڑھیاں، پھولوں کی مہک، بڑے بڑے ہال، بلند بالا عمارت،نقش و نگار،کتابوں کا ذخیرہ، نادر و نایاب مخطوطے، قدیم ترین قرآن، گیتا، رامائن نایاب تصاویر وغیرہ کا اجماع۔
رامپور رضا لائبریری کا قیام آج سے تقریباً ڈھائی سو سال قبل1774ء میں رامپور کے نواب فیض اللہ خان کے زمانے میں ذاتی کتب خانے کے طور پر ہوا۔آہستہ آہستہ خاندان کے دیگر نوابین نے بھی اس کتب خانے کی تو سیع اور خزانۂ کتب میں اضافہ کیا۔ بعد میں جب ملک آزاد ہوا تو 1950ء میں اسے حکومت نے اپنے دائرۂ اختیار میں لے لیا۔ویسے اس عظیم کتب خانے کا نام نواب رضا علی خاں کے نام سے موسوم ہو گیا۔جن کا1966ء میں انتقال ہوا تھا، انہوں نے رضا لائبریری کو عوام کے لیے کھول دیا تھا۔نواب رضا علی خاں نے ریاست رامپور کی تعلیم کی طرف زیادہ توجہ دی۔انہوں نے رضا کالج،رامپور کے علاوہ بہت سارے اسکول،کالج اور ادارے قائم کیے۔ان کی بیٹی قمر لقا،جن کا ابھی چند سال قبل انتقال ہوا،نے بھی تعلیم کی طرف کافی توجہ دی۔ایک اسکول آج بھی ان کے نام پر قائم ہے۔
یہ بات بھی مسلم الثبوت ہے کہ غالب کئی بار رامپور آئے۔اس وقت نواب یو سف علی خاں ریاست رامپور کے والی تھے۔غالب ان کے استاد بھی تھے۔ان کا دیوان،جو سونے کے پانی سے لکھا ہوا ہے،آج بھی رضا لائبریری کی زینت بنا ہوا ہے۔پروفیسر عزیزالدین جب رضا لائبریری کے ڈائریکٹر بنے تو انہوں نے اسے اصل کی طرح سنہرے رنگوں سے چھپوایا۔غالب کے رامپورکے نواب کلب علی خاں سے بھی بڑے اچھے تعلقات تھے۔بلکہ نواب یوسف علی خاں نے نذرانے اور ماہانہ پنشن کا جو سلسلہ شروع کیا تھا، اسے نواب کلب علی نے جا ری رکھا۔غالب کئی کئی دن نواب کے مہمان ہوا کرتے تھے۔
رامپور کے اس نواب خاندان نے نادر و نایاب کتابی اور قلمی نسخے اور پرانی تصاویر جمع کیں۔مختلف رسائل و جرائد کی فائلیں اکٹھا کیں۔ہر طرح کی پریشانی اور مصائب کا سامنا کیا مگر کتب خانے کو اور وسیع کر تے رہے۔بہت سے نوابوں نے اس کی عمارت کی توسیع پر خاص توجہ کی۔آج اس کی دیکھنے لائق عمارت ہے۔جس چبوترے پراب اس کی شاندار عمارت ایستادہ ہے وہ عام زمین سے لگ بھگ پندرہ بیس فٹ اونچا ہوگا۔ایسا لگتا ہے ہم کسی قلعے کی زیارت کر رہے ہیں۔پہلے اس کی عمارت پیچھے کی جانب تھی۔
رامپور رضالائبریری کے کئی ڈائریکٹر اردو،عربی،فارسی اور تاریخ کے نامور عالم رہے ہیں،جن میں امتیاز علی خاں عرشی، اکبر علی خاں عرشی زادہ، ڈاکٹر وقارالحسن صدیقی، پروفیسر شاہ عبد السلام، پروفیسر ایس ایم عزیزالدین، پروفیسر سید حسن عباس لائبریری سے وابستہ رہے اور کتب خانے کے فروغ میں بڑ ھ چڑ ھ کر حصہ لیا۔وقارالحسن صدیقی کے زمانے میں لائبریری میں ہر طرح کا کام ہوا۔لائبریری میں کتب کا اضافہ ہوا۔بہت سے سمینار اور خطبے ہوئے۔ پروجیکٹس پر کام ہوا۔جرنل کی تسلسل کے ساتھ اشاعت ہوئی۔
اس لائبریری میں لاکھوں کتابیں، ہزاروں رسائل وجرائد، مذہبی کتابیں، ہزاروں سال پرانے مخطوطات، حضرت علی کے ہاتھوں کا لکھا ہوا قرآن،سونے کے پانی سے لکھی کئی کتابیں، تصویروں سے مزین قدیمی رامائن، نقاشی شدہ کتب، اردو، فارسی، عربی، انگریزی، ہندی، بلوچی، سرائیکی، ترکی، ڈچ، فرانسسی، جرمن، روسی، چینی، جاپانی، بنگلہ، بلغاری و دیگر زبانوں کی ہزاروںکتابوں کا ذخیر ہ موجود ہے۔ساتھ ہی بہت سی زبانوں کے اخبارات اور رسائل و جرائدکثیر تعداد میں ہیں۔
رضا لائبریری،رامپور سے ایک معیاری ادبی جرنل ’’رضا لائبریری جرنل‘‘ شائع ہوتا ہے۔اس جرنل میں عربی،فارسی اور اردو کے معیاری ادبی مضامین،تحقیقی تنقیدی مقالات،اشاریے،خطوط کے عکس،لائبریری کی کیٹلاگ وغیرہ شائع ہوتے ہیں۔شعبۂ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میںر وما خان نے ’’ رضا لائبریری جرنل کی ادبی خدمات‘‘ موضوع پر ایک ایم فل کا مقالہ لکھا جا چکا ہے۔ رامپور کے معروف ادیب ڈاکٹر اطہر مسعود خان،جنہوں نے لائبریری کے حوالے سے خاصا کا م کیا ہے،نے رضا لائبریری جرنل کا وضاحتی اشاریہ بھی تر تیب دیا ہے۔
دنیا کی اتنی عظیم الشان لائبریری،جسے کتابوں کا تاج محل کہا جاتا ہے،آج تک ڈیجیٹلائز نہیں ہوئی۔تسلیم کہ اس کام میں کروڑوں روپے،کئی برس، وقت اورکافی عملہ چاہیے،مگر ابھی تک اس کام کی شروعات نہیں ہوسکی ہے۔کسی ڈائریکٹر نے اس طرف اقدام نہیں کیے۔لہٰذاآج انٹر نیٹ کے زمانے میں اتنی عظیم لائبریری،کالج،یونیورسٹیز کے علاوہ ہندوستان کی بڑی لائبریریز اور دنیا کے بڑے کتب خانوں سے اس کا جڑائو نہیں ہے۔اس لیے اس سے استفادہ کرنے والوں کی مجبوری ہے کہ انہیں رامپور آنا پڑتاہے۔یہ صوبائی اور مرکزی سرکار کی ذمہ داری ہے کہ جلد سے جلد اسے ڈیجیٹلائزکرائے۔
افسوس اور حیرت ہوتی ہے کہ اس لائبریری میں 2020کے بعد سے اب تک ڈائریکٹر کا عہدہ خالی ہے اور ضروری کام نمٹانے کومقامی ڈی ایم کے پاس ڈائریکٹر کے عہدے کا اضافی چارج ہے۔تین چار بار اس عہدے کا اشتہار شائع ہو چکا ہے۔انٹرویو بھی ہوچکے ہیں۔جس میں اردواورفارسی کئی پروفیسرز شریک ہوچکے ہیں۔لیکن ہر بار کوئی مناسب امیدوار نہیں ملتا۔اس بار پھر اشتہار نکالا گیا ہے۔شاید حکومت کو کسی ایسے امیدوار کی تلاش ہے،جو ان کااپنا ہواور لائبریری میں ان کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا سکے۔خدارا دنیا کے اس کتابوں کے تاج محل کو برباد ہونے سے بچالیں اور اسے پوری دنیا کے تشنگانِ علم وادب کے استفادے کے لیے دروازے وا کریں۔کتابوں کا یہ تاج محل اپنی حالتِ زار پر ماتم کناں ہے۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS