انتظامی لغزش کی صورت میں سپریم کورٹ کو از خود مداخلت کا حق

0

خواجہ عبدالمنتقم

جمہوریت کے تینوں ستونوں یعنی عاملہ(انتظامیہ)، عدلیہ اور مقننہ سے ہمیشہ یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں رہ کر ہی کام کریں گے لیکن کبھی کبھی ارباب حکومت کو یہ شکایت رہتی ہے کہ عدلیہ ان کے کام میںدخل اندازی کرتی ہے اور وہ اس طرح کے احکامات صادر کرتی ہے جن سے اس قسم کی مداخلت کا گمان ہوتا ہے۔حال ہی میں وزیر قانون نے بھی اپنے ایک بیان میں اس جانب اشارہ کیا تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی صورت حال کیوں پیدا ہوتی ہے؟اس سوال کا جواب صرف اور صرف یہی ہے کہ جب انتظامیہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی برتے اور شہریوں کے آئینی حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام رہے ،سیاست دانوں پر حملے ہونے لگیں اور کھان پان و لباس تک کو تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگے تو عدالت پر اس بات کی ذمہ داری اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ وہ ایسے معاملے میں مداخلت کرے اور ایسا فیصلہ دے کہ جس سے لوگوں کو انصاف ملے چونکہ عدالت کو شہریوں کے حقوق کا کسٹوڈین یا محافظ مانا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ انتظامیہ کی لغزشوں کو خاموش تماشائی بن کر نہیں دیکھ سکتی۔ اسے بے جا مداخلت نہیں کہا جا سکتا۔یہ تو عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات پر نظر رکھے کہ انتظامیہ کوئی ایسا کام تو نہیں کر رہی ہے جس سے آئین یا اس کے تحت بنائے گئے قوانین کی خلاف ورزی ہورہی ہو۔ اس ضمن میں ہمیں اپنی سپریم کورٹ کی تعریف کرنی ہوگی کہ اس نے حکومت وقت کی مفادعامہ سے متعلق کسی پالیسی میں مداخلت نہیں کی۔حال ہی میں ایس سی/ایس ٹی کے لیے پروموشن میں ریزرویشن کے معاملہ میں اس کادخل دینے سے انکار کرنا اس کی تازہ ترین مثال ہے۔
جب جب سپریم کورٹ کو یہ احساس ہوا کہ آئین میں سیاسی بنیاد پر ترمیم کی جارہی ہے یا کیے جانے کا امکان ہے تو اس نے بر وقت مداخلت کی ہے۔کیشوآنند بھارتی والے معاملے(اے آئی آر 1973ایس سی 1461) میں سپریم کورٹ نے اگر مداخلت نہ کی ہوتی اور یہ فیصلہ نہ دیا ہوتا کہ اگرچہ پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کر نے کا اختیار تو حاصل ہے لیکن وہ اس کے بنیادی ڈھانچہ کو نہیں بدل سکتی تو اب تک ہمارے اس آئین کی ،جس کا شمار دنیا کے بہترین دساتیر میں ہوتا ہے، دھجیاں اڑ چکی ہوتیں۔ عدلیہ کی فعالیت کی، جسے کبھی کبھی مداخلت کا نام دے دیا جاتا ہے،اتنی مثالیں اور فیصلے موجود ہیں جنھیں قلمبند کرنے کے لیے ہزاروں صفحات درکار ہیں۔ یہ سپریم کورٹ ہی ہے جس نے کتنے ہی قوانین یا ان کی کچھ دفعات کو وقتاً فوقتاًکالعدم قرار دیا ہے۔مثال کے طور پر اس نے اپنے ایک کلیدی فیصلہ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 66A کو اس بنیاد پر کالعدم قرار دے دیا تھاکہ اس سے اظہار رائے کی آزادی پر منفی اثر پڑتا ہے۔ پولیس اس دفعہ کا استعمال ان لوگوں کے خلاف من مانے ڈھنگ سے کررہی تھی اور انھیں گرفتار بھی کر رہی تھی جو حکومت وقت اور سیاسی رہنماؤں کے بارے میں تنقیدی مواد پوسٹ کر رہے تھے۔ دہشت گردی کے تدارک سے متعلقTerrorist and Disruptive Activities (Prevention) Act جسے عرف عام میں لوگ ٹاڈا کے نام سے جانتے ہیں، سے متعلق بہت سے معاملات سپریم کورٹ کے سامنے آئے اور اس کی کئی دفعات کے بے جا استعمال کی جانب عدالت کی توجہ مرکوز کرائی گئی اور عوام کی جانب سے بھی اس قانون کی بابت شدید تنقید کی گئی تو اس قانون کو واپس لیا گیا۔1993 میںسپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ ایسوسی ایشن بنام یونین آف انڈیا والے معاملے(اے آئی آر2015ایس سی5457 ) میں اپنی اس رائے کا اظہار کیا تھا کہ سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری کے معاملے میں انتظامیہ کے مقابلے میں چیف جسٹس آف انڈیا کو ترجیحی حیثیت حاصل ہے۔
سپریم کورٹ کتنے ہی معاملوں میں خود Cognizance لیتی رہی ہے۔Suo Motoکی بنیاد اس تصور پر ہے جو سترہویں صدی میں عدلیاتی فعالیت کی شکل میں بطور “Epistolary Jurisdiction”, رونما ہوا اور جس کی واحد غرض یہ تھی کہ سماجی و معاشی اعتبار سے پسماندہ اور غیر مراعاتی طبقات کو بھی انصاف مل سکے اور وہ عدلیہ تک رسائی سے محروم نہ رہیں۔ “Epistolary Jurisdiction” سے مراد ہے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ عدالت کا وہ دائرہ اختیار جس کی رو سے وہ، حسب صورت، آئین کی دفعہ 32 و دفعہ 226کے تحت کسی بھی ایسے خط و مراسلہ کو رٹ پٹیشن میں تبدیل کر کے اس کی سماعت کر سکتی ہیں جو کسی نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے ارسال کیا ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کو دفعہ 32کے تحت اور ہائی کورٹ کو دفعہ 226کے تحت بنیادی حقوق میں سے کسی بھی حق کے نفاذ کے لیے ہدایات یا احکام یا رٹ جن میں رٹ حاضری ملزم، رٹ تاکیدی، رٹ امتناعی، رٹ اظہار اختیار اور رٹ مسل طلبی کی نوعیت کے رٹ، ان میں جوبھی مناسب ہو، جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
ہماری سپریم کورٹ، جیسا کہ ہم نے اوپر قلمبند کیا، خود کتنے ہی معاملوں میں Cognizanceلے چکی ہے۔ اس نے عدالتی واقفیت کی بنیاد پر یعنی خود نوٹس لیتے ہوئے مرکزی حکومت سے کہا کہ وہ گوگل، یاہو، فیس بک(جس کا اب نیا نام Meta ہے)وہاٹس ایپ کے ساتھ کام کرے اوران keywords کی(یعنی ایسے الفاظ یا جملوں کی، جن کے ذریعے لوگ کسی پوسٹ کو سرچ انجن میں آسانی سے ڈھونڈ سکتے ہیں)نشان دہی کرے اور ان کے بارے میں ایسے سجھاؤ دے جن کی بنیاد پر ان ویڈیوز کو ہٹایا جا سکے جن میں زنابالجبر، اجتماعی زنا بالجبر اورchild pornography (بچوں کی فحش نگاری)کو دکھایا گیا ہے۔کچھ عرصہ سے نہ صرف ہماری سپریم کورٹ بلکہ ہائی کورٹ بھی اپنی فعالیت کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں اور سماج کے مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرنے کی جانب سرکار کی توجہ مرکوز کرتی رہی ہیں۔ یہ مداخلت نہیں، یہ تو سول سوسائٹی کے حقوق کی مدافعت یا دعوت مدافعت ہے۔
سپریم کورٹ نے گزشتہ دو سالوں میں 46 معاملوں میں ازخود Cognizance لیا ہے۔ان میں تعزیری ناانصافی، ماحولیاتی تحفظ ،کووڈ، پولیس کی زیادتی، قیدیوں کی رہائی، مختلف النوع پناہ گاہوں میں مقیم افراد کے ساتھ زیادتی وغیرہ سے متعلق معاملات شامل ہیں اور ہم سب کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ جب تک ہمارے ملک میں جمہوریت ہے وہ اپنا کردار اسی طرح نبھاتی رہے گی۔ یہاں اس بات کا ذکر بے محل نہ ہوگا کہ سپریم کورٹ نے جن معاملات کا خود نوٹس لیا ہے ان میںبیشتر معاملات وہ ہیں جو میڈیا کے ذریعہ منظرعام پر لائے جاتے رہے ہیں۔اس طرح میڈیا نے بڑے بڑے اسکینڈلوں کا پردہ فاش کرکے نہ صرف ہمارے ملک میں بلکہ دیگر ممالک میں بھی انصاف رسانی کے عمل میں عدلیہ کا ہاتھ بٹایا ہے اور اس نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق واقعات کو منظرعام پر لانے، ارباب حکومت کو ان سے آگاہ کرنے اور اس جانب عدلیہ کی توجہ مرکوز کرنے کے معاملے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہمارے ہی ملک میں سیاست دانوں اور دیگر شعبۂ حیات سے تعلق رکھنے والے افراد و تنظیموں سے متعلق بہت سے معاملات ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک پہنچے، ان میں کچھ کو سزا بھی ملی، ان کی بدنامی بھی ہوئی اور ان کی ساکھ کو نقصان بھی پہنچا۔
(مضمون نگار آزاد صحافی،مصنف و سابق بیوروکریٹ ہیں۔ وہ این سی پی یو ایل کے لاء پینل کے رکن بھی ہیں اورامیٹی یونیورسٹی میں وزیٹنگ پروفیسر رہ چکے ہیں)
[email protected]