بھلا دی گئیں جنگ آزادی کے مجاہدوں کی کہانیاں

0
Image: islamicbuk.com

مسلم مجاہد آزادی پر مشتمل کتاب نوجوانوں کونذر کی گئی
نئی دہلی (ایجنسی):ہم اپنے بادشاہوں، نوابوں اور راجاؤں کی تاریخ تو خوب پڑھتے سنتے آئے ہیں۔ بہت سی فلمیں اور ٹیوی سیریز بھی ان پر بن چکی ہیں۔ مگر ہم اپنی جدید تاریخ میں موجود ایسے لوگوں کی کہانیوں سے تقریبا ناواقف ہیں جنھوں نے ملک کی آزادی کے لیے جانیں لٹادیں۔
اس وقت ملک کے لوگوں اور خاص کر مسلم کمیونٹی کے نوجوانوں کے لیے یہ جاننا لازمی بیحد ضروری ہے کہ ان کے باپ داداؤں نے اس ملک کے لیے کس قدر قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بارے میں جان کر ہی آپ اپنے ماضی، بزرگوں اور تاریخ پر ایک نئے جوش کے ساتھ فخر کر پائیں گے۔ کوئی اس ملک کی تعمیر میں ہماری حصے داری انگلی اٹھائے گا تو آپ سینہ تان کر ان کو جواب دے پائیں گے۔ اسی سوچ کے ساتھ مصنف سید عبید الرحمن ایک بیحد خاص کتاب لے کر آئے ہیں۔
آزادی کی لڑائی میں شامل ۱۲۸ ایسے مسلم لیڈروں کے بارے میں پختہ حقائق کے ساتھ لکھی گئی ان کی نئی کتاب’بائیو گرافکل انسائیکلو پیڈیا آف انڈین مسلم فریڈم فائٹر‘خاص طور پر قوم کے نوجوانوں کو نذرکی گئی ہے۔
عبید بتاتے ہیں کہ اس کتاب میں بھلے ہی مسلم مجاہدین کا ذکر ہو مگر اس کا ایک میسیج بالکل صاف ہے۔ اس دور میں فرقہ پرستی جیسی چیزکا نام ونشان نہیں تھا۔ اس میں جتنے فریڈم فائٹر کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے کتنوں کے ساتھ ہندوؤں نے کندھے سے کندھا ملاکر جنگ آزادی لڑی تھی۔ ایسے ناموں کی اس کتاب میں کمی نہیں ہے جو ہندو راجاؤں اور دوسرے لیڈران کے پیچھے مضبوطی سے کھڑے رہے۔ آج کے دور میں جو فرقہ پرستی دکھائی دے رہی ہے یہ اصل میں انگریزوں کی ہی دین ہے۔ اس دور میں ایک سے ایک بڑھ کر مولانا اور اسلامک اسکالر ہوئے جو لگاتار اپنے ہندو بھائیوں کے ساتھ مل کر لڑے ان کے بیچ کبھی بھی دھرم آڑے نہیں آیا۔
اس کتاب میں ویسے تو مولانا ابوالکلام آزاد، ڈاکٹر ذاکر حسین، حسرت موہانی، حکیم اجمل خان، بہادر شاہ ظفرجیسے ناموں کو بھی شامل کیا گیاہے، لیکن اس کی خاصیت یہی ہے کہ اس میں وہ نام بھی شامل ہیں جن کے کرداروخدمات کو لوگ بھلا چکے ہیں یا پھر ان کا نام ہی سامنے نہیں آسکا۔ اس میں بیگم انیس قدوائی، بیگم قدسیہ اعجازرسول، عظیم اللہ خان، مولوی ظفر تھانیسری، سید حسین، برکت احمد، محبوب احمد، قاضی نذرالاسلام جیسے نام شامل ہیں۔
عبید کہتے ہیں کہ اس کتاب میں جو معلومات دی گئی ہیں وہ پوری طرح تحقیق اور دستاویز پر مبنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب میں آپ کو ۴۰۰سے زیادہ اردو اور انگریزی کتابوں اور دستاویزات کے حوالے ملیں گے۔

آپ کے تاثرات
+1
1
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here