اثاثوں کو سرمائے کی شکل دینے سے متعلق حقیقت

0

ہردیپ ایس پوری

جھوٹ اس وقت تک نصف دنیا گھوم چکا ہوتا ہے جب سچائی اپنے جوتوں کے تسمے باندھ رہی ہوتی ہے۔ یہ مشہور کہاوت جھوٹ کے استعمال کے طریق کار کو بیان کرتی ہے۔ نصف سچائی اور غلط اطلاعات دونوں ہی عوام میں دہشت اور بے چینی پھیلاتی ہیں۔ ہماری اہم حزب مخالف کی جماعت لگاتار اپنے حوالوں میں اسی کا سہارا لیتی ہے تاکہ اپنے سیاسی وجود کو برقرار رکھ سکے۔
سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم کا کہنا ہے کہ ’’بڑا جھوٹ سامنے آچکا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ ایسا ہی ہوا ہے۔ خود ان کا فریب بے نقاب ہوا ہے۔‘‘ انہوں نے خود اپنی جماعت کے فریب کو بے نقاب کیا ہے۔ جوچیز کانگریس کے دورحکومت میں ملک کے لیے بہتر تھی وہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت میں ملک کے لیے بہتر نہیں ہے۔ ان کے یہ تمام تر الزامات فرضی افکار اور ادھوری سچائیوں سے پر ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ معمر رکن پارلیمنٹ اور سابق مرکزی وزیر کو اپنی سیاسی حیثیت بچانے کے لیے ایسا کرنا پڑا جس میں وہ ناکام رہے۔
یہ دعویٰ کہ مودی حکومت نے محض یک جنبش قلم سے ہندوستان کے پبلک اثاثے کو صفر کر دینے کا خطرہ پیدا کردیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو وہ یہ نہیں سمجھتے کہ نیشنل منی ٹائزیشن پائپ لائن(این ایم پی) کی تجویز کے تحت کیا کیا جانا ہے، یا پھر سمجھتے تو ہیں تاہم وہ اسے منطقی انداز میں توڑ مروڑ کر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ وہ دانستہ طور پر کلیدی سرمایہ نکاسی کو اثاثوں کو سرمایہ کی شکل دینے کے عمل کے ساتھ ملا کر پیش کر رہے ہیں۔ بات صرف یہ ہے کہ این ایم پی کے تحت کوئی بھی اثاثے فروخت کے لیے نہیں ہیں۔ انہیں کھلی اور شفاف بولیوں کے لگائے جانے کے عمل کے ذریعہ نجی شراکت داروں کو پٹے پر دیا جانا ہے اور یہ پٹے ایسی شرطوں پر دیے جائیں گے جو مفاد عامہ کی پہلے سے کہیں زیادہ حفاظت کر سکیں گے۔ پوراعمل ملکی قوانین اور ملک کی عدالتوں کے تقاضوں کے مطابق کیا جائے گا۔ نجی شراکت دار اثاثوں کا رکھ رکھاؤکرے گا اور لیز کی مدت مکمل ہونے پر انہیں حکومت کو واپس لوٹا دے گا۔

آخر میں، چدمبرم نے الزام لگایا ہے کہ حکومت نے این ایم پی کے متعلق ہر چیز کو صیغۂ راز میں رکھا، یہ بات حقائق کے برعکس ہے۔ اثاثوں کے منی ٹائزیشن کا اعلان 7 ماہ قبل فروری 2021 کے مرکزی بجٹ میں کیا گیا تھا۔ قومی سطح پرمشاورتوں اور متعدد ادوار کے ویبناروں کا اہتمام کیا گیا تھا۔ گزشتہ ہفتے جس چیز کا اعلان کیا گیا ہے، اس کا تعلق ایک لائحۂ عمل اور روڈمیپ سے ہے۔ اس سے قبل حکومت نے 2016 میں ایک اسٹرٹیجک ڈس انویسمنٹ کی پالیسی کا اعلان کیا تھا۔

سابق وزیر خزانہ ان تمام اختراعی نئے ذرائع سے کلی طور پر نابلد معلوم ہوتے ہیں اور انہیں یہ بھی خبر نہیں ہے کہ حکومت نے انہی نئے ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے اثاثوں کو سرمائے کی شکل میں لانے کی اجازت دی ہے۔ بنیادی ڈھانچہ سرمایہ کاری ٹرسٹوں(آئی این وی آئی ٹی) اور زمین جائیداد سے متعلق سرمایہ کار ٹرسٹ(آر ای آئی ٹی)، جو میوچوئل فنڈ کے مماثل سرمایہ کاری بہم پہنچائیں گے اور یہ سرمایہ کاری بنیادی ڈھانچے اور زمین جائیداد تک پہنچے گی، ہندوستان کے عوام اور مقتدر مالی سرمایہ کاروں کو ہمارے قومی اثاثوں میں سرمایہ لگانے کا موقع فراہم کریں گے۔ چند آئی این وی آئی ٹی اور آر ای آئی ٹی پہلے ہی اسٹاک منڈیوں میں درج فہرست کیے جا چکے ہیں۔
جس چیز کو سابق وزیر خزانہ غلط طریقے سے اثاثے کو سرمائے کی شکل میں بدلنے پر سالانہ 1.5 لاکھ کروڑ روپے کا کرایہ کہتے ہیں، وہ اصلاً اس سے کہیں زیادہ فائدہ دے گا اور اس مالی ذریعہ کو اعلیٰ سرکاری سرمایہ کاری کا ذریعہ بنا دے گا جس سے نیا بنیادی ڈھانچہ تعمیر ہوگا۔ اثاثوں کو سرمائے کی شکل میں دینے کے پس پشت یہی منطق کارفرما ہے۔ بدقسمتی سے 2جی، کول گیٹ، سی ڈبلیو جی اور آدرش جیسے گھوٹالوں کے توسط سے یوپی اے اس سے قبل ایک مختلف قسم کے منی ٹائزیشن پر اپنی توجہ مرکوز کرچکی ہے۔
حکومت کو ہندوستان کے بنیادی ڈھانچوں کو ملک کے ایماندار ٹیکس دہندگان پر غیر ضروری بوجھ نہ ڈالتے ہوئے عالمی درجے کے بنیادی ڈھانچے کی شکل میں بدلنے کے لیے مالی وسائل درکار ہیں۔ گزشتہ سات برسوں کے دوران شاہراہوں کی مجموعی طوالت میں ڈیڑھ گنا سے بھی زیادہ کا اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ طوالت70برسوں میں پیدا ہوتی تھی۔ گزشتہ سات برسوں کے دوران شہری سیکٹر میں کی گئی مجموعی سرمایہ کاری2004سے2014کے درمیان دس برسوں میں کی گئی سرمایہ کاری کے مقابلے میں7 گنا سے بھی زیادہ ہے۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ بیانیہ کو توڑنے مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش میں چدمبرم نے یوپی اے حکومت کی جانب سے سرکاری اثاثوں کو سرمائے کی شکل میں بدلنے کے چند ترقی پسندانہ چھوٹے اقدامات سے بھی صرف نظر کیا ہے۔ دہلی اور ممبئی ہوائی اڈوں کی نجکاری یوپی اے حکومت میں عمل میں آئی تھی جب چدمبرم بذاتِ خود وزیر خزانہ اور وزرا کے اس گروپ کے چیئرمین تھے جو اس معاملے میں فیصلہ لینے کے لیے ذمہ دار تھا۔ چدمبرم لکھتے ہیں کہ ریلوے ایک اسٹرٹیجک سیکٹر ہے اور اسے نجی شراکت داری کے لیے نہیں کھولنا چاہیے۔ انہوں نے2008میں ایسا کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا جب یوپی اے حکومت نے نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کی ازسر نو ترقی کے لیے کوالیفکیشن کے سلسلے میں تجاویز طلب کی تھیں۔ یہاں تک کہ یوپی اے کے دور اقتدار کے بعد کانگریس جن ریاستوں میں برسر اقتدار رہی ہے، جنہوں نے عوامی اثاثوں کو سرمائے میں بدلنے کے پالیسی ساز فیصلے لیے ہیں۔ ماہ فروری 2020 میں ممبئی-پنے ایکسپریس وے کو حکومت مہاراشٹر کی جانب سے8262کروڑ روپے کے لیے منی ٹائز یا سرمائے کی شکل میں بدلا گیا تھا۔ چدمبرم اور ان کی پارٹی وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے قلم کو جنبش کرنے سے باز رکھنے پر قادر تھے۔
سابق وزیر خزانہ نے چند شعبوں میں اجارہ داری کے امکانی خدشات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے امریکہ کی مثالیں دی ہیں جہاں تکنیکی کمپنیوں پر عتاب نازل ہوا ہے۔ جنوبی کوریا نے کیبولس پر بندش لگائی ہے اور چین نے انٹرنیٹ کے کچھ بڑے اداروں پر قدغن لگائی ہے۔ یہ سب غیر مسابقتی طور طریقے ہیں۔ بھارت میں بھی ایسے ادارے ہیں جو غیر مسابقتی طریق کار سے مربوط ہیں۔ ہر شعبے کے لیے مخصوص قواعد و ضوابط ہیں، ہندوستان کا مسابقتی کمیشن موجود ہے، کنزیومر کورٹس ہیں، ان سب کے پاس اختیارات ہیں اور وہ حکومت ہند کے تحت آزاد ہیں۔ کسی بھی غیر مسابقتی طریق کار پر قدغن لگا سکتے ہیں، ان کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں۔ حکومت نے بھی منڈی مسابقت کے لیے عہد کر رکھا ہے اور ایک ایسا طریق کار وضع کرے گی جو منڈی کے اختیارات کے کسی طرح کے ارتکاز کے امکانات کو کم سے کم کرے گا۔ چند شعبوں میں، مثلاً ریلوے کی لائنیں بچھانے کے کام میں، جہاں ایک فطری اجارہ داری قائم ہے وہاں اثاثوں کو سرمائے میں بدلنے کا کوئی عمل نہیں ہوگا۔
سابق وزیر خزانہ نے روزگار سے متعلق اندیشوں کا بھی اظہار کیا ہے۔ اٹل بہاری واجپئی حکومت کے زمانے میں نجکاری سے متعلق کیے گئے مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ روزگار کی نمو اصلاً اس وقت عمل میں آتی ہے جب کوئی بھی آپریشن مؤثر طریقے سے انجام پاتا ہے۔ اثاثوں کو سرمائے کی شکل میں بدلنے سے نہ صرف یہ کہ روزگار میں اضافہ ہوگا بلکہ یکسر نئے طرز کے روزگار فراہم ہوں گے جب حکومت اپنے مالیاتی فوائد کو ازسر نو سرمایہ کاری کے تحت لائے گی۔ کثیر النوع اثرات مرتب ہوںگے۔ایک ایسا شخص، جو بذات خود وزیر خزانہ رہا ہو، اسے اس کا احساس ضرور کرنا چاہیے۔
آخر میں، چدمبرم نے الزام لگایا ہے کہ حکومت نے این ایم پی کے متعلق ہر چیز کو صیغۂ راز میں رکھا ، یہ بات حقائق کے برعکس ہے۔ اثاثوں کے منی ٹائزیشن کا اعلان 7ماہ قبل فروری 2021 کے مرکزی بجٹ میں کیا گیا تھا۔ قومی سطح پرمشاورتوں اور متعدد ادوار کے ویبناروں کا اہتمام کیا گیا تھا۔ گزشتہ ہفتے جس چیز کا اعلان کیا گیا ہے، اس کا تعلق ایک لائحۂ عمل اور روڈمیپ سے ہے۔ اس سے قبل حکومت نے 2016 میں ایک اسٹرٹیجک ڈس انویسمنٹ کی پالیسی کا اعلان کیا تھا۔
ہماری حکومت ترقی پسندانہ عمل اور عوام کے حق میں اصلاحات کرنے کے لیے پابند عہد ہے۔ ہم یقین کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ راز میں رکھنا اور ہر چیز کو چھپانا، یہ کانگریس کا طریق کار ہے۔ یہ حکومت شفافیت اور قومی مفادات کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرتی۔
(مضمون نگار پٹرولیم و قدرتی گیس اور ہاؤسنگ و شہری امور کے مرکزی وزیر ہیں)

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS