غیر مسلموں کے ساتھ رسول اکرمؐ کا حسن سلوک

0

محمد طارق نعمان گڑنگی

نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت و نوازش اور شفقت و مہربانی کا مظاہرہ ہر خاص و عام پر ہوا۔ اس سے بڑی رحمت اور کیا ہوگی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد، تاریکی میں بھٹکتے، ظلم و جور کے عادی، اخلاق حسنہ سے عاری اور تہذیب وتمدن سے ناواقف لوگوں نے اسلام کی روشنی پاکر، پوری دنیا کو منور کرکے انسانیت کا اعلی نمونہ پیش کیا۔ اللہ پاک کی ساری مخلوقات، انس و جن، حیوانات، نباتات اور جمادات سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت سے مستفید ہوئے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ: ہم نے آپ کو سارے جہانوں کے لیے رحمت ہی رحمت بناکر بھیجا ہے۔ اگر سوال کیا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے لیے کیسے رحمت ہوئے جس نے آپ کی دعوت و رسالت کو قبول نہیں کیا؟ تو اس کا جواب حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے درج بالا آیت کی تفسیر میں واضح کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں: “جواللہ اور یوم آخرت پر ایمان لایا، اس کے لیے دنیا اور آخرت میں رحمت لکھ دی گئی اور جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لایا (غیر مومن رہا،اس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح دنیا میں رحمت ہیں کہ(وہ زمین میں دھنسائے جانے اور آسمان سے پتھر برسائے جانے جیسے عذاب سے بچا لیا گیاجن سے گزشتہ امتیں دوچار ہوئی تھیں۔ غیر مسلموں کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت و شفقت، نوازش و کرم اور عفو و درگزر کے لاتعداد نمونے ہیں جن میں چند نذر قارئین کئے جاتے ہیں۔
طائف میں رسول اکرم ؐپر ظلم اور ملک الجبال کی حاضری:رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال سن 10 ھ نبوی میں طائف کا دعوتی سفر کیا۔ آپؐ نے طائف میں دس دنوں تک قیام کیا۔ آپؐ نے سردارانِ طائف: عبد یالیل، حبیب اور مسعود کو اسلام کی دعوت دی۔ مگر انہوں نے آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور بڑی سختی سے پیش آئے۔ مغموم ورنجیدہ آپؐ وہاں سے واپس چلے۔ طائف کے اوباش اور بازاری لڑکوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر مارنے کواکسایا گیا۔ ان اوباشوں نے اس طرح پتھر برسائے کہ آپ زخمی ہوگئے اور آپ کے جسم اطہر سے خون ٹپک رہے تھے۔ جب آپ قرن ثعالب میں پہنچے؛ تو ہوش آیا۔ آپ نے اپنا سر اٹھایا ؛ تو دیکھا کہ بادل آپ پر سایہ فگن ہے۔ اس میں جبریل علیہ السلام ہیں۔ انہوں نے آپ کو آواز دی اور کہا: آپ سے آپ کی قوم کی بات اور انہوں نے آپ کو جو کچھ جواب دیا، بے شک اللہ نے سن لیا ہے۔
اللہ نے آپ کے پاس پہاڑوں کے فرشتے کو بھیجا ہے؛ تاکہ اس قوم کے حوالے سے جو آپ چاہیں، اس فرشتے کو حکم دیں۔ پھر پہاڑوں کے فرشتے نے آپ کو پکارا، سلام کیا پھر اس نے کہا: اے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )!پھر اس نے وہی بات کہی جو جبرئیل علیہ السلام نے کہی تھی۔ اس حوالے سے آپؐ جو چاہیں(میں کروں گا)۔ اگر آپ چاہیں تو میں ان پر اخشبین (مکہ مکرمہ کے دونوں طرف جو پہاڑ ہیں: بو قبیس اور قعیقِعان) کو ملا دوں؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا۔ترجمہ: مجھے امیدہے کہ اللہ پاک ان کی نسل سے ایسے لوگوں کو پیدا کریں گے، جو اللہ وحدہ کی عبادت کریں گے، ان کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ (صحیح بخاری)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑ کے فرشتے کو جو جواب دیا، اس میں وہاں کے ان ناعاقبت اندیش لوگوں کے حوالے سے، آپ کی رحمت و شفقت، نوازش وکرم اور صبر و حلم کا اعلی نمونہ ہے، کیوں کہ آپ رحمت بناکر بھیجے گئے تھے۔ اگر آپ کی رحمت کا ظہور نہ ہوتا اور آپ فرشتے کو اجازت دیدیتے؛ تو ان بدبختوں کا فورًا صفایا ہوجاتا۔
غورث بن الحارِث کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کا ارادہ:”غزوہ ذات الرقاع” سے واپسی کے موقع پر، ایک دیہاتی کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عفو و درگزر، رحمت وشفقت، مہربانی ونوازش، شجاعت و بہادری اور توکل علی اللہ کے حوالے سے نہایت ہی اہم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ” نجد” کے علاقہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ جہاد کے لیے گئے۔ جب لوٹ کر آرہے تھے؛ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کثیر خاردار درختوں کی وادی سے گزر رہے تھے۔ قیلولہ کا وقت ہوگیا۔ صحابہ کرام کے ساتھ آپ اسی مقام پر رک گئے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم درختوں کے سائے میں پھیل کر، تھوڑی دیر کے لیے آرام کرنے لگے۔تلوار کو درخت پر لٹکا کر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی کیکر کے درخت کے نیچے قیلولہ کے لیے لیٹ گئے۔ اچانک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پکار رہے ہیں۔ جب صحابہ کرام آپ کے پاس آئے؛ تو دیکھا کہ ماجرا ہی کچھ اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی بیٹھا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بتایا کہ آپ سوئے ہوئے تھے۔ جب آپ نیند سے بیدار ہوئے؛ تو دیکھا کہ وہ دیہاتی شخص (غورث بن الحارِث) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار جو درخت پر لٹکی تھی کو میان سے باہر نکالتے ہوئے آپ سے کہتا ہے کہ “تم کو مجھ سے کون بچائے گا؟” اس پر آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ “اللہ”۔اس پر تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دیہاتی کو بغیرکسی سزا اورانتقام کے رہا فرمادیا۔(صحیح بخاری: 4135) اس واقعے کے بعد، رسول اللہ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کے ارادہ سے آنے والے غیر مسلم کے ساتھ، پوری طاقت وقوت کے باوجود، بدلے کی کارروائی نہیں کی۔ آپ نے اس کے اس جرم پر مواخذہ نہیں کیا، اپنی طاقت کا مظاہرہ نہیں کیا اور انتقام لینا مناسب نہیں سمجھا؛ بلکہ آپ علیہ السلام نے عفو و درگزر سے کام لیا۔ بظاہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی عفو وکرم اور رحمت ونوازش کا نتیجہ تھا کہ ایک روایت کے مطابق وہ شخص دائرہ اسلام میں داخل ہوگیا۔(فتح الباری: 7 /428)
ایک غیر مسلم قیدی کو آزاد کرنے کا حکم: حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ قبیلہ بنی حنیفہ کے سردار تھے۔ یہ قبیلہ مکہ اور یمن کے درمیان “یمامہ” میں واقع ہے۔ ایک بار حضرت ثمامہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ “اللہ آپ کو اس پر قابو دے دیں”(السنن الکبری للبہقی: 9/112، حدیث: 18031) آپ کی دعا قبول ہوئی اور ویسا ہی ہوا۔ حضرت محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کی ٹیم نے ان کو گرفتار کیا اور لاکر مسجد نبوی کے ستون میں باندھ دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرتے، تو پوچھتے: “ثمامہ تمہارا کیا خیال ہے؟” انہوںنے کہا: اے محمد !(صلی اللہ علیہ وسلم ) میرا خیال اچھا ہے۔ اگر آپ مجھے قتل کریں گے؛ تو ایک خونی مجرم کوقتل کر یں گے۔ اگر آپ احسان کریں گے؛ تو شکر گزار پراحسان کریں گے۔ اگر آپ مال چاہتے ہیں؛ تو جتنا چاہیں لے لیں”۔یہ سلسلہ تین دنوں تک چلتا رہا؛ مگر انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ا طلِقوا ثمامۃ!(صحیح بخاری: 4372) ترجمہ: “ثمامہ کو آزاد کردو”۔
یہاں یہ پہلو قابل غور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غیر مسلم قیدی آزاد کرنے کا حکم صادر فرمایا؛ جب کہ یہی قیدی ماضی میں آپ علیہ اسلام کے قتل کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ مگر آپ علیہ السلام نے ان پر پوری قدرت حاصل کرلینے کے بعد،ان کو آزاد کردیا۔ پھر انہوں نے اسلام قبول کیا اور عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔ جب وہ مکہ پہنچے؛ تو ان سے کسی نے پوچھا: کیا تم بددین ہو گئے؟ انہو ںنے جواب دیا: نہیں(میں بد دین نہیں ہوا ہوں)۔ اللہ کی قسم!میں اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسلمان ہوگیا ہوں۔ اللہ کی قسم،یمامہ سے تم لوگوں کے لیے گندم کا ایک دانہ بھی نہیں آئے گا؛تا آں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بھیجنے کے حوالے سے اجازت مرحمت فرمائیں۔ (صحیح بخاری: 4372)۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS