دین کی اشاعت وتبلیغ اور لمحۂ فکریہ

0

قمراخلاقی امجدی
دین کی خدمت کے بہت سے پہلو ہیں۔ انسانی مزاج کے مطابق مختلف نہج سے دین کی خدمت میں لوگ مصروف بھی ہیں ۔ تعلیم وتعلم،اصلاح معاشرہ، خدمت خلق،تزکیہ نفس اورتصوف جیسے بہت سے میدان ہیں جن میں تنظیمی وانفرادی سطح پر دینی خدمات انجام دی جارہی ہیں لیکن بعض وجوہ سے جتنا فائدہ ہونا چاہئے اتنا نہیں ہوپارہا ہے۔ ہر میدان میں کام کرنے والوں کی اپنی اہمیت ہے ۔ہر شخص یا جماعت جو دین کی خدمت میں لگا ہے وہ اپنے حصہ کا کام اخلاص کے ساتھ انجام دے اور دوسروں کو عزت واحترام دے تو دنیا کا منظر نامہ ہی الگ ہوجائے گا۔ اسلامی معاشرہ شریعت مطہرہ کا ترجمان اور مسلمان چلتا پھرتا دین کا داعی ہوگا۔ امامت اصلاح کا اہم ذریعہ:امامت عوام کی اصلاح کا اہم ذریعہ ہے۔جمعہ کا خطاب مسلمانوں کی اصلاح کا بہت بڑاذریعہ ہے۔ کوشش ہو کہ رٹی رٹائی تقریر سے ہٹ کر مقتضائے وقت پر بیان دیا جائے، باتیں قرآن و احادیث کی روشنی میں رکھی جائیں۔حکمت اور وقت کے اعتبار سے مثبت اور منفی رویہ اختیار کیا جائے،صرف مثبت یا صرف منفی طریقہ دینی مزاج کے خلاف ہے۔ امامت میں سارے مقتدی مزاج کے موافق نہیں ہوتے ، ایسے مواقع پر مکمل سنجیدگی اور صبر سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ عشا بعد یا کوئی مناسب وقت میں عقیدہ کی اصلاح اور مسائل ضروریہ کی تعلیم دی جانی چاہئے۔آج بھی مسلمانوں کی اکثریت ضروری دینی مسائل سے آگاہ نہیں ہے۔امامت کے ذریعہ رشدوہدایت کی دنیا میں بڑا کام انجام دیا جاسکتا ہے۔موجودہ حالات کافی نازک ہیں ۔ مسلمانوں کے پاس اصلاح کے لیے امامت اور جمعہ کا خطاب انمول تحفہ ہے ان کا استعمال کرتے ہوئے قوم کے لیے کچھ کر گزرنے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہئے۔
درس و تدریس:یہ گراں قدر فریضہ ہے جو آج بھی سخت تر ہے۔مساجد کے ائمہ ، بڑے بڑے اسٹیج کے خطبا،درس گاہوں کے اساتذہ، خانقاہوں کے گدی نشیں وغیرہ اس کے ہی پروردہ ہیں۔ایک مدرس آج بھی کئی فنون کی کتابیں ایک ہی دن میں پڑھاتے ہیں۔ ابھی منطق پڑھایا پھر فقہ یا فلسفہ یا حدیث کا درس دیا۔ غرض ہر گھنٹی کے بعد مدرس کا مزاج، لب و لہجہ تبدیل ہوتا ہے،افہام وتفہیم کا مادہ بھی تبدیل کرنا پڑتا ہے،طلبہ کی ذہنیت کو سمجھنا پڑتا ہے،بسا اوقات عبارت مشکل ہوتی ہے، ایک بار نہیں کئی بار انداز و الفاظ بدل کر سمجھانا پڑتا ہے،ایک کتاب پڑھانے کے لیے ایک مشفق اور بہتر استاد کو کم از کم دو تین عربی اردو کی کتابوں کوپڑھنا پڑتا ہے۔ گویا اساتذہ دین وملت کے لعل و گوہر ہیں لہذا ان کی اتنی عزت ہونی چاہیے جتنی ماں باپ یا پیرومرشد کی کی جاتی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ ایک استاد ایک شاگرد کو چھہ سات سال پڑھاتا ہے لیکن شاگرد کا رویہ استاد کے تعلق سے محبت و احترام والا نہیں رہتا۔ اس کے برخلاف شیخ آتے ہیں اور صرف ایک دن رومال پکڑوایا بس کام ہوگیا۔ جب کہ استاد ہی وہ شخصیت ہیں جنھوں نے علم کے زیور سے آراستہ کیا۔
پیری مریدی:صوفیائے طریقت کی ظاہری علوم شرعیہ سے وابستگی اور اس پر عمل درآمد بے حد ضروری ہے۔ یہ میدان دل جیتنے کا ہے، اس میدان میں زبان و بیان کا میٹھا ہونا بے حد ضروری ہے۔ افسوس اب خانقاہوں میں نہ تزکیہ نفس رہا اور نہ ہی صفائے قلب کا درس، بس یونہی رومال پکڑوالیا اورکافی ہو گیا۔ خیر آج فقط ارادت سے ہی بہت سارے لوگوں کے ایمان محفوظ ہیں۔اس میدان میں ڈھونگی پیر بہت ملیں گے اس لئے بہت محتاط ہوکر کسی کا دامن پکڑنا چاہئے۔ویسے بھی یہ ارادت واجبی اور لازمی نہیں ہے ہاں حفظان عقیدہ کے لیے مفید ضرور ہے۔
اہم بات:اصلاح معاشرہ کے لیے دور حاضرہ میں مذکورہ تینوں طبقے باہم متصادم نظر آتے ہیں۔بہت سارے معاملات میں ایک عالم پیر پر الزام عائد کرتے نظر آتے ہیں،جبکہ پیر عالم پر۔حالانکہ اصلاح و تبلیغ کے لئے سب ایک ہی پلیٹ فارم پر ہیں۔ پھر نہ جانے یہ فاصلہ کیوں پیدا ہو کیا اورنہ جانے یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا۔ ہر علاقہ کی خانقاہوں،تمام مساجد کے ائمہ، علما اور اساتذہ کو آپس میں جڑکر لوگوں کی اصلاح وتبلغ اور تعلیم وتعلم کی کوشش کرنی چاہیے۔
اسٹیج :اسٹیج پر پیروں کا قبضہ ہے علما کی بھی اسٹیج پر حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ ہم شعرا کی بڑی مذمت کرتے ہیں کہ شعرا ایسے کرتے ہیں ویسا کرتے ہیں، جبکہ اس طرح کی تنقید خطیب پر بھی روا ہے۔ مجلس میں کسی چیز پر بیان کرنے یا کسی معاملے میں حالات و تقاضہ کا خیال نہیں بس کھڑے ہوئے اور شروع ہوگئے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے،اصلاح و تبلیغ دین کے لئے ہمارا ایک شعبہ آج کئی شعبوں میں بدل چکا ہے۔ پیر کی نہج الگ،عالم کا رویہ مختلف،شعرا کے معاملات بھی الگ، کیا یہ سب یونہی چلتا رہیگا یا حالات وتقاضہ کے پیش نظر سب مل بیٹھ کر اس مسئلہ پر کچھ سوچیں گے اور کوئی حل تلاش کریں گے؟۔
( خانقاہ قادریہ،کھرساہاشریف،سیتامڑھی بہار)

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here