’آپریشن گنگا‘ کے گہرے مضمرات

0

پرانوں میں گنگا کو صرف ندی نہیں، ماں کا درجہ دیا گیا ہے۔ صدیوں سے گنگا ملک کے لیے ابدی لائف لائن کا کردار نبھا رہی ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہوسکتا کہ یوکرین کے جنگی علاقہ میں پھنسے ہندوستانیوں کو بحفاظت واپس لانے اور انہیں نئی زندگی دینے کے مشن کو حکومت ہند نے ’آپریشن گنگا‘ کا نام دیا ہے۔ اور اس لیے اس کے مضمرات گہرے اور دوررس نظر آتے ہیں۔
24فروری کو یوکرین پر روس کے حملہ سے پہلے ہی وہاں رہ رہے ہندوستانیوں کو یوکرین چھوڑنے کی حکومت کی ایڈوائزری کے باوجود تقریباً 16,000 ہندوستانی شہری یوکرین میں پھنسے رہ گئے۔ حالات کی سنگینی کو ذہن میں رکھتے ہوئے مودی حکومت نے مداخلت کرنے اور ان ہندوستانی شہریوں کو نکالنے کا فیصلہ کیا، جنہوں نے بار بار صلاح کے باوجود جنگ زدہ ملک کو ’رضاکارانہ طور پر‘ نہیں چھوڑا تھا۔
بہرحال، حکومت ہند نے ’آپریشن گنگا‘ کے تحت یوکرین میں پھنسے ہر ایک ہندوستانی کو واپس لانے اور سفر کا خرچ برداشت کرنے کا عہد کیا۔ ’آپریشن گنگا‘ کے تحت، ہندوستانیوں کو پہلے بسوں اور آمدورفت کے دوسرے ذرائع سے پولینڈ، ہنگری اور رومانیا کے سفارت خانہ لے جایا گیا۔ پھر انہیں چارٹرڈ ایئرانڈیا کی اڑانوں کے ذریعہ دہلی اور ممبئی لایا گیا۔ 26فروری کی شام 219ہندوستانی شہریوں کو لے کر ایئر انڈیا کی پہلی فلائٹ رومانیا کے بخاریسٹ سے تقریباً 6گھنٹے کا سفر طے کرکے ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچی۔ وزارت خارجہ کے مطابق تب سے اب تک کل 48 فلائٹس میں 10 ہزار 348 ہندوستانیوں کو واپس لایا جاچکا ہے۔ اس میں ہفتہ کو 11اڑانوں سے لوٹے2,200ہندوستانیوں کو بھی جوڑ دیا جائے تو بحفاظت گھر لوٹے ہندوستانیوں کے اعداد و شمار 12,500سے کچھ زیادہ کے ہوجاتے ہیں۔ حکومت نے سبھی ہندوستانیوں کی واپسی کے لیے 10مارچ کی ڈیڈلائن طے کی ہے اور چار چار مرکزی وزرا کو مہم پر لگانے کے ساتھ ہی جس طرح وزیراعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں جنگی سطح پر اس مہم کو انجام دیا جارہا ہے، اسے دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ حکومت اپنا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوگی۔
’آپریشن گنگا‘ کے تحت وسیع پیمانہ پر ہورہی کوششوں نے ملک کے عام آدمی کو بھی اس حیات بخش مہم سے وابستہ کردیا ہے۔ ملک نے پہلے بھی بحران زدہ علاقوں سے ہندوستانیوں کو واپس لوٹتے دیکھا ہے، لیکن عام طور پر ایسا تعلق پہلے نہیں دیکھا گیا۔ زیادہ پیچھے نہ جائیں تو وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں موجودہ حکومت نے ہی 7سال میں ایسی کئی نکاسی مہمات چلائی ہیں۔ جون 2014میں، تقریباً 46ہندوستانی نرسوں کو تنازعات سے گھرے عراق میں آئی ایس آئی ایس کی قید سے چھڑایا گیا تھا۔ یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان جنگ کے بعد 2015میں ’آپریشن راحت‘ کے تحت حکومت ہند کی جانب سے4,500سے زیادہ ہندوستانیوں اور 960غیرملکیوں کو بچایا گیا تھا۔ 2019میں لیبیا میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان ہندوستان نے سی آر پی ایف کی ایک پوری کی پوری ٹکڑی کو ریسکیو کیا تھا۔ گزشتہ سال اگست میں، حکومت ہند نے طالبان کے قبضہ والے افغانستان سے 6الگ الگ اڑانوں کے ذریعہ 260ہندوستانیوں سمیت 550سے زیادہ لوگوں کو بحفاظت نکالا تھا۔
ان تمام مواقع پر مرکزی حکومت، متعلقہ ریاستی حکومتوں، ریسکیو کیے گئے ہندوستانیوں کے واقف کار-رشتہ داروں اور کچھ دیگر لوگوں کو چھوڑ کر ملک میں زیادہ ہلچل نہیں دیکھی گئی۔ لیکن اس مرتبہ حالات مختلف ہیں۔ شاید حکومت کی سرگرمی کے ساتھ ہی اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ پھنسے لوگوں میں زیادہ تر طلبا-طالبات ہیں، جو ڈاکٹر بننے کا خواب لے کر یوکرین کے کئی شہروں میں رہ کر پڑھائی کررہے ہیں۔ جس زندگی کو سنوارنے کا ہدف لے کر یہ اسٹوڈنٹس یوکرین پہنچے تھے، روس کے حملہ سے وہی زندگی اچانک خطروں میں گھر گئی۔ اچانک آئی اس آفت نے اس سوال کو قومی گفتگو کا حصہ بنادیا ہے کہ آخر ایسی کون سی کشش ہے جو ہمارے بچوں کو بیرون ملک جاکرپڑھنے کے لیے حوصلہ افزائی یا مجبور کرتی ہے؟
اس لحاظ سے ’آپریشن گنگا‘ نے زندگی بچانے کے ساتھ ساتھ ملک میں تعلیمی نظام سے وابستہ بنیادی کمزوریوں اور مسائل کی جانب توجہ مبذول کراکے ان بچوں کی زندگی سنوارنے کے سوال کو بھی وابستہ کردیا ہے۔ ہر سال ہزاروں ہندوستانی طلبا پڑھائی کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں۔ یہ کوئی انکشاف نہیں ہے، بڑی بات یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر بچے میڈیکل کا کورس کرنے کے لیے باہر جاتے ہیں۔ اس میں بھی روس، چین، یوکرین، آذربائیجان، آرمینیا، فلپائن اور یہاں تک کہ بنگلہ دیش ان کی پسند کے ممالک ہوتے ہیں۔ ملک کو اس کی ایک خاص وجہ بتاتے ہوئے خود وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ سال 2014سے پہلے ملک میں 90ہزار سے بھی کم میڈیکل سیٹیں تھیں۔ گزشتہ 7برس میں اس میں 60ہزار نئی سیٹیں جوڑی گئی ہیں۔ اس کے باوجود یہ طلبا کی بڑھتی تعداد کے مقابلہ میں بے حد کم ہے۔ سیٹوں میں ریزرویشن کا کوٹا سسٹم اس چیلنج کواور مشکل بناتا ہے۔ اس معاملہ میں سابقہ حکومتیں تو پہلے سے ہی کٹہرے میں تھیں، اب آل انڈیا کوٹے میں او بی سی ریزرویشن نافذ کرکے موجودہ حکومت بھی سوالوں سے نہیں بچ پائی ہے۔ لیکن بیرون ملک جانے کی سب سے بڑی کشش شاید وہاں دستیاب سستی تعلیم کا متبادل ہے۔ ہندوستان کے کئی پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کی سالانہ فیس اتنی ہے کہ چین، قزاخستان، فلپائن، یوکرین اور آرمینیا جیسے ممالک میں پورا ایم بی بی ایس کورس کیا جاسکتا ہے۔ ان سبھی ممالک میں بغیر کسی انٹرنس ایگزام کے35سے 40لاکھ روپے میں میڈیکل کی ڈگری مل جاتی ہے۔
راحت کی بات یہ ہے کہ موجودہ قیادت اس مسئلہ کے تعلق سے سنجیدہ نظر آئی ہے۔ گزشتہ ماہ شعبہ صحت کے لیے بجٹ اعلانات پر ایک ویبنار میں وزیراعظم نے اس بات کو اٹھاتے ہوئے پرائیویٹ سیکٹر سے اس سیکٹر میں داخل ہونے اور ریاستی حکومتوں سے اس تعلق سے اراضی الاٹمنٹ کے لیے اچھی پالیسیاں بنانے کی اپیل کی تھی۔ ویسے خود وزیراعظم نے سال 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے اس سمت میں قابل ستائش پہل کی ہے۔ وزیراعظم کے حصہ میں یہ بات جاتی ہے کہ گزشتہ 7سال میں میڈیکل کی انڈرگریجویٹ سیٹوں میں 72 فیصد اور پوسٹ گریجویٹ سیٹوں میں 78 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ جب حالیہ برسوں میں بڑی تعداد میں منظورشدہ ایمس سمیت دیگر میڈیکل کالج کام کرنا شروع کردیں گے، تو اس تعداد میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ کورونا کے دور میں بھی حکومت نے اس سمت میں کئی بڑے اعلان کیے ہیں جن پر تیزی سے کام شروع ہوگیا ہے۔ آنے والے دنوں میں حکومت ہر تین پارلیمانی حلقوں پر ایک میڈیکل کالج قائم کرنے جارہی ہے۔ اس کے علاوہ ضلع اور ریفرل اسپتالوں کو اپ گریڈ کرکے نئے میڈیکل کالج بنانے کے منصوبہ پر بھی کام ہورہا ہے۔ اس پروجیکٹ کے پہلے مرحلہ میں 58ضلع اسپتالوں اور دوسرے مرحلہ میں 24اسپتالوں کو میڈیکل کالج میں بدلے جانے کی منظوری دی جاچکی ہے۔ ان 82اسپتالوں میں سے 39اسپتالوں پر کام شروع ہوچکا ہے، جب کہ بچے ہوئے کا تعمیراتی کام جاری ہے۔ تیسرے مرحلہ میں بھی 75ضلع اسپتالوں کو میڈیکل کالجوں میں تبدیل کیاجائے گا۔ حکومت کو امید ہے کہ جب تینوں مرحلے پورے ہوجائیں گے تو ملک میں انڈرگریجویٹ کی دس ہزار اور پوسٹ گریجویٹ کی 8ہزار سیٹیں بڑھ جائیں گی۔
حالانکہ سیٹوں میں اضافہ کے باوجود کوٹا سسٹم اور سستی میڈیکل تعلیم تب بھی حکومت کے سامنے چیلنج بنی رہ سکتی ہے۔ لیکن حکومت کی اس بات کے لیے تو ستائش کی ہی جانی چاہیے کہ اس نے تبدیلی کی سمت میں قدم بڑھانے شروع کردیے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ’آپریشن گنگا‘ میں اس شروعات کے مہم میں تبدیل ہونے کے امکانات بھی نظر آنے لگے ہیں۔
(کالم نگار سہارا نیوز نیٹ ورک کے
سی ای او اور ایڈیٹر اِن چیف ہیں)