اسلام میں تصوف کا مقام

0

خواجہ مقصود احسن، فرخ آباد

اسلام ایک ہمہ گیر مذہب ہے جس کے دو نظام ہیں، ایک ظاہری نظام جس کا نام شریعت ہے، دوسرا باطنی نظام جو ایک روحانی نظام ہے جس کو طریقت کہتے ہیں۔ شریعت قانون الٰہی ہے جو ایک مسلمان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لئے ایک ضابطہ حیات اور دستور العمل ہے،جس میں عبادت کے ظاہری ارکان سے لے کر معاشی اور سیاسی طریقہ کار کا تعین ہے جس پر چل کر نظام ملی کو برقرار رکھا جا سکتا ہے، اور اپنی زندگی قانون الٰہی کے مطابق بسر کر کے توشہ آخرت فراہم کیا جا سکتا ہے۔ شریعت ہر خاص و عام کے لئے یکساں حکم اور قانون رکھتی ہے، جس میں کسی طرح کے ردّ و بدل کی گنجائش نہیں ہے۔اسلام کا روحانی اور باطنی نظام جسے طریقت کہتے ہیں اس کا تعلق نیتِ خیر اور جذبہ صادق سے ہے، اس طریقہ پر چل کر عبادت میں خشوع و خضوع پیدا ہوتا ہے جس سے تزکیہ باطنی اور صفا قلب کے اوصافِ حمیدہ پیدا ہوتے ہیں اور بنیادی اعتقاد توحید، رسالت اور میعاد پر یقین کامل پیدا ہو کر عرفانیت کی منزلیں نصیب ہوتی ہیں، جس کے بعد ایک مسلمان ”مومن” کہلانے کا مستحق ہو جا تا ہے، ایک مومن کا دل امراضِ روحانی بغض، حسد، کینہ، انتقام، عداوت سے خالی ہو کر، اس میں خوفِ خدا، صلہ رحمی، ایثار، قربانی کی صفات پیدا ہوتی ہیں، طریقت سے ہی معرفت اور حقیقت کے رازہائے سربستہ قلبِ مومن پر منکشف ہوتے ہیں، معقولات و منقولات کے ذریعہ معرفت الٰہی حاصل کرنے والوں کو متوکلین کہتے ہیں اور اس علم کا نام علم کلام ہے۔ تزکیہ باطن صفائی قلب حاصل کرنے کے بعد جب وجدان کے ذریعے معرفت حاصل کی جاتی ہے اور اذکار و اشغال اور مراقبے اور توجہ الی الحق کی یکسوئی پیدا ہوجاتی ہے تو عشق الٰہی کا جذبہ قلب ِ مومن میں مؤجزن ہوتا ہے جس کے بعدعین الیقین اور حق الیقین کے درجات حاصل ہوتے ہیں اس علم کو تصوف کہتے ہیں اور اس علم کے جاننے والے اور اس پر عمل کرنے والے متصوفین کہلاتے ہیں جس کے ایک فرد کو صوفی کہتے ہیں ۔
جب طریقت نے ایک علم کی حیثیت اختیار کرلی تو اس کا نام فلسفہ قرار پایا تصوف در حقیقت الٰہیات کا علم ہے جس کی معرفت وجدان ہوتی ہے یہ علم کتابوں سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اہل کشف کو یہ علم سینہ بسینہ حضور سرورکائنات حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہنچا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اب تک چلا آ رہا ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے علم روحانی کی تعلیم براہ راست امام الاولیاء حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کو ملی اور تمام اولیائے کے مولا اور امام قرار پائے،اسی منصب روحانی کا نام امامت تامّہ ہے اور ولایت کبریٰ ہے جو دراصل امامت ابراہیمی ؑہے،جو حضرت مولائے کائنات اور آپ کی اولاد کو عطا ہوئی اسی سلسلہ امامت اور ولایت کو صوفیا ئے کرام سلسلۃالذہب کہتے ہیں جو صوفیاء کی اصل اور سرچشمہ ہے اور صوفیاء کے تمام سلاسل پر اسی سلسلۃ الذہب کو فضیلت حاصل ہے جیسا کہ مشہور صوفی حضرت خواجہ فرید الدین عطا رؒ کا ارشادہے یہ امامت وولایت روحانی منصب ہے جس کا تعلق نظام ظاہری سے نہیں ہے۔