نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن نے اترپردیش حکومت سے سفارشات کے تعمیل کی رپورٹ طلب کرلی

0
Image: scroll

نئی دہلی: قومی انسانی حقوق کمیشن نے اترپردیش حکومت سے کہا کہ وہ مراد آباد اجتماعی عصمت دری معاملہ میں متاثرہ لڑکی کو 2 لاکھ روپے معاوضے کی ادائیگی کا ثبوت دے اور اس معاملہ سےمتعلق سفارشوں پر چار ہفتوں میں ریاستی حکومت کو رپورٹ دینے کو کہا ہے۔
کمیشن نے اترپردیش حکومت کے چیف سکریٹری کو ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 23 فروری کی سفارشات پر عملدرآمد سے متعلق تعمیل رپورٹ چار ہفتوں میں پیش کرے۔ کمیشن نے اپنی سفارشات میں خواتین پولیس افسر کو تمام تھانوں میں تعینات کرنے اور ایسے اسٹیشنوں کی فہرست دینے کو کہا تھا جن میں خواتین پولیس آفیسر نہیں ہیں۔
اس کے علاوہ کمیشن نے اس معاملہ میں مجرموں کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے اور ایف آئی آر درج نہ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 166 اے کے تحت رپورٹ درج کرنے کو کہا تھا۔
کمیشن کو مراد آباد کی ایک خاتون کی جانب سے شکایت ملی تھی کہ جب وہ متاثرہ اجتماعی عصمت دری کی رپورٹ درج کرانے گئی تو پولیس نے ایف آئی آر درج نہیں کی۔ کمیشن کو اپنی سطح پر تحقیقات کرانے کے بعد پتہ چلا کہ وہ خاتون صحیح کہہ رہی ہیں ۔ کمیشن کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تقریبا ڈیڑھ ماہ کے بعد عدالت کی مداخلت کے بعد اس معاملہ میں ایف آئی آر درج کی گئی۔
کمیشن کا موقف تھا کہ ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر سے اہم شواہد ضائع ہوگئے اور متاثرہ کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اس پر کمیشن نے ریاستی حکومت کو نوٹس دیا تھا اور کہا تھا کہ متاثرہ کی مدد کے لئے دو لاکھ روپے کی رقم ادا کرنے کی سفارش کیوں نہیں کی جائے ۔ ریاستی حکومت نے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کی اس سفارش کو قبول کرلیا۔
تاہم ، بعد میں کمیشن کو معلوم ہوا کہ ریاستی حکومت نے اس کی سفارشات پر عمل درآمد کے حوالے سے کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے ، لہذا اس نے ایک بار پھر ریاستی حکومت کو جاری کردہ سفارشات کی تعمیل کی رپورٹ طلب کی ہے۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here