شیخ یوسف قرضاوی کے افکار کے مطالعہ کی اس دور میں اہمیت

0

بیسویں صدی کے اندر نمودار ہونے والی ہندوستان کی عظیم شخصیت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی نے جب پانچ جلدوں پر مشتمل اپنی کتاب ’تاریخ دعوت و عزیمت‘ لکھی تھی تو انہوں نے اس مقصد کو دھیان میں رکھ کر اس لٹریچر کو تیار کیا تھا کہ مسلم امت کو یہ معلوم رہے کہ اسلام اپنی ابدیت اور ہر زمانہ میں اسلامی تعلیمات و رہنمائی کی افادیت کا صرف دعویٰ نہیں کرتا ہے بلکہ اسلامی تاریخ کا ہر دور اس حقیقت پر شاہد ہے کہ اس نے تمام ادوار میں ایسی علمی شخصیات پیدا کی ہیں جنہوں نے فکری اصالت کی حفاظت کی ہے اور نئے عہد اور زمانہ کے چیلنجز کے مطابق اسلام کی تشریح و تفسیر پیش کی ہے تاکہ اسلام کی حقانیت پر کوئی انگشت نْمائی نہ ہو سکے اور قیامت تک کے لئے جس پیغام کو پوری انسانیت کی رہنمائی کے لئے بھیجا گیا ہے اس میں دوسرے باطل افکار کی آمیزش اس طرح نہ ہوجائے کہ اسلام کا اصلی پیغام ہی اپنی حقیقی روح سے خالی ہوکر گْم ہوجائے اور اسلام بھی محض کسی نظریہ کی طرح عقلی ذکاوت کی آماجگاہ بن کر رہ جائے جس کا حقیقی زندگی میں کوئی رول باقی نہ رہے۔ علی میاں نے اسلام کے اس پہلو کو بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ تاریخی تسلسل کے ساتھ ذکر کیا اور اس کا آغاز انہوں نے اموی خاندان کے روشن چراغ عمر بن عبدالعزیز اور ان کی عظیم خدمات سے کیا۔ انہوں نے عمر بن عبدالعزیز کی زندگی کی روشنی میں وضاحت کر کے بتایا کہ اسلام جب قلب و قالب میں اثر کر جاتا ہے تو ایک فیشن زدہ شہزادہ بھی تقشف و خدا ترسی کے کس مرحلہ تک پہنچ سکتا ہے اور ذمہ داری کے احساس اور اللہ کے حضور احتساب کے خوف سے کس طرح ہر وقت چوکنا رہ کر انصاف کا ماحول قائم کر سکتا ہے۔ اس کتاب میں علی میاں نے امام غزالی، شیخ ابن تیمیہ اور عزالدین بن عبدالسلام جیسی عبقری اسلامی شخصیات کا ذکر کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ ہر عہد اور ہر مرحلہ میں اسلام میں ایسی شخصیات پیدا ہوتی رہی ہیں جو ان اللہ سیولد علی رأس کل قرن من یجدد ھذالدین جیسی نبوی پیش گوئی کی مکمل تفسیر بن کر ابھرتی رہی ہیں۔ اگر آج ایک فہرست قائم کی جائے تو بجا طور پر شیخ یوسف القرضاوی (1926-2022) کا نام اس فہرست میں شامل کیا جائے گا جنہوں نے اپنی 96 سالہ زندگی میں کئی کارہائے نمایاں انجام دیئے اور اسلام کی ایسی تشرح پیش کی جو اس دور کے چیلنجز کو سمجھنے اور اس کے مطابق حل پیش کرنے کا امکان پیش کرتی ہے۔ شیخ قرضاوی کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے اس سلسلہ کو سمجھنا ضروری ہوگا جس سے ان کی فکری آبیاری ہوئی تھی۔ ان کی شخصیت میں انقلابی فکرِ اسلامی کا جو عنصر پایا جاتا ہے اس کی وجہ ان مقتدر اسلامی شخصیات کی کتابیں ہیں جن سے وہ متاثر ہوئے تھے۔ شیخ یوسف القرضاوی کو سب سے زیادہ حسن البنا شہید کی شخصیت نے اس وقت متاثر کیا تھا جب وہ ابھی اسکول میں ہی تھے۔ قاری اس بات سے واقف ہوں گے شیخ حسن البنا شہید وہی ہیں جنہوں نے 1927 میں مصر کے شہر اسماعیلیہ میں ایک قہوہ خانہ میں اپنے دوستوں کے ساتھ مسلسل مذاکرات کی روشنی میں اس تحریک کو قائم کیا تھا جو عالمی سطح پر اخوان المسلمون کے نام سے معروف ہوئی اور جس کے حامی اور ناقد دونوں ہی دنیا بھر میں پائے جاتے ہیں۔ حسن البنا شہید اپنے عہد کی یگانۂ روزگار شخصیت، مفسر قرآن اور مجلہ ’المنار‘ کے بانی و ایڈیٹر سید رشید رضا مصری کے شاگرد تھے جن کی تربیت شیخ جمال الدین افغانی کے ممتاز شاگرد اور علمی و فکری وارث شیخ محمد عبدہ کی نگرانی میں ہوئی تھی۔ اس سلسلۃ الذہب کا کتنا گہرا اثر شیخ قرضاوی کی زندگی پر پڑا تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ‘‘شمولیۃ الاسلام’’ یا (Inclusivity in Islam) کے جس تصور کے بارے میں کہا جاتا ہے اس فکر کی تشریح سب سے پہلے شیخ رشید رضا مصری نے کی تھی اور اس کے بعد حسن البنا شہید نے مزید اضافے کئے تھے اسی شمولیۃ الاسلام کے تصور کا شیخ قرضاوی کے افکار کی تشکیل میں بڑی اہمیت ہے اور خود شیخ نے البنا سے اپنی گہری فکری وابستگی کا اظہار کیا ہے۔ وہ خود کہتے ہیں کہ انہوں نے پرائمری مرحلہ میں البنا کی تقریر سنی تھی اور ان کی شخصیت سے فوری طور پر متاثر ہوگئے تھے اور جب وہ ثانویہ کے مرحلہ تک پہنچے تو اخوان کے ساتھ اپنا دامن جوڑ لیا۔ اس تحریک سے وابستہ ہونے کے بعد ان کی زندگی میں زبردست بدلاؤ آیا۔ اب وہ صرف اپنے گاؤں کے مقرر نہیں تھے بلکہ دعاۃ اسلام کی فہرست میں شامل ہوگئے تھے جن کا مقصد اسلام کی ہمہ گیریت و آفاقیت اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی تعلیم کو پھیلانا تھا۔ شیخ حسن البنا کے علاوہ قرضاوی کے استاد شیخ احمد شلتوت نے بھی ان پر بہت اثر ڈالا تھا جو شیخ محمد عبدہ کے منھج تفسیر سے بہت متاثر تھے اور اس پر کتابیں بھی لکھی تھیں۔ اس کے علاوہ منہج و تفسیر کے معاملہ میں شیخ رشید رضا مصری کی تحریروں نے انہیں اپنا گرویدہ بنایا۔ یہ رشید رضا مصری ہی کے افکار تھے جن کی وجہ سے ان میں یہ شعور بیدار ہو سکا کہ وہ امت کے مفہوم کو نہایت وسیع دائرہ میں سمجھیں اور اس کی اہمیت کو عالمی امت کے سامنے پوری علمی قوت کے ساتھ بیان کریں۔ انہوں نے اس منہج کا استعمال کرکے اپنے عہد کا مطالعہ کیا اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ شریعت اور جدیدیت کے درمیان تال میل بٹھایا جا سکتا ہے جس کے لئے انہوں نے فقہی تقلید کے بجائے اجتہاد و تجدید کی دعوت دی، مقاصد شریعت کے مفہوم کو زندہ کیا اور مصالح شریعت کی تشریح فرمائی، ابن حزم اور ابن تیمیہ کے افکار کے دائروں کو وسعت دی اور سب سے زیادہ اس بات پر زور دیا کہ قرآن و سنت جن کو بنیادی نصوص کا درجہ حاصل ہے ان کی طرف سیدھے طور پر رجوع کیا جائے۔ فقہی مسائل اور مقاصد شریعت کی تشریح کے علاوہ انہوں نے اپنے عہد کے سیاسی نظریات کا بھی گہرائی سے مطالعہ کیا اور صرف لکیر کے فقیر بن کر نہیں رہے اور اسی لئے ان کی تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ جن شخصیات سے متاثر ہوئے تھے ان کی اندھی تقلید کبھی نہیں کی جس کا عکس اسلامی تشخص کو درپیش چیلنج کی تشریح میں نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ محمد عبدہ اور رشید رضا کے سامنے مسئلہ یہ تھا کہ ہم اہل مغرب کی طرح کیسے ترقی کے منازل طے کر پائیں تاکہ امت کے اندر مایوسی در نہ آئے۔ ان کے بعد شیخ حسن البنا شہید نے اس کی کوشش کی کہ اسلامی تشخص کو احتلال (Occupation) کے حملہ سے کیسے بچائیں اور خود اسلامی ممالک کے اندر آیڈیالوجی کی جو کشمکش جاری ہے اس سے امت کو کیسے محفوظ رکھا جائے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ دور استعمار اور مابعد استعمار کا تھا اور اسی کے نتیجہ میں یہ طے ہوا تھا کہ اندرون ملک یعنی اسٹیٹ کے ساتھ تعلق کی نوعیت کیا ہوگی اور اسٹیٹ کے باہر مغربی ممالک کے ساتھ تعامل کیسے کیا جائے گا۔ لہٰذا اسٹیٹ کے ساتھ مواجہت کی صورت پیدا ہوگئی جبکہ مغرب ازلی دشمن کا روپ اختیار کر گیا۔ البتہ شیخ قرضاوی نے بعد میں محسوس کیا کہ مابعد استعماریت کے چیلنجز کے باوجود اب مغرب کے ساتھ ڈائیلاگ کا مرحلہ آ چکا ہے اور مغربی ممالک میں مسلمانوں کی جو بڑی تعداد موجود ہے ان کے ذریعہ اس ڈائیلاگ کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ اسی پہلو کو دھیان میں رکھ کر انہوں نے ’الحلال و الحرام فی الاسلام‘ نامی کتاب لکھی جس کا مقصد یورپ میں بسنے والے مسلمانوں کے مسائل کا اسلامی حل پیش کرنا تھا۔ اس بات کو کئی علماء سمجھ نہیں پائے اور ان کی تنقید شروع کر دی۔ اس کے علاوہ بدلے ہوئے حالات میں شیخ قرضاوی نے یہ محسوس کیا تھا کہ خلافت کو عملی طور پر قائم کرنا اس وقت ممکن نہیں ہے اس لئے فکری طور پر پوری امت کو انہوں نے متحد کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ اتحا د علماء المسلمین اسی کا ایک پہلو ہے۔ جہاں تک الربیع العربی یا عرب بہاریہ کے بارے میں ان کی رائے کا تعلق ہے تو وہ دراصل مسلم معاشرہ میں ہر قسم کے استبداد کے خلاف تھے اور اسی لئے انہوں نے عوامی احتجاج کی تائید کی تھی جس کی وجہ سے وہ آج بھی عرب ممالک کے ارباب اقتدار کی نظر میں معتوب ہیں کیونکہ اس سے ان کے مفاد پر زد پڑتی ہے۔عرب بہاریہ پر ان کے موقف نے خود ان کی ذاتی زندگی میں بڑا بدلاؤ پیدا کردیا اور 2013 کے بعد انہوں نے عزلت کی زندگی اختیار کرلی۔ جہاں تک مغربی دنیا کا تعلق ہے تو وہ شیخ قرضاوی کو اس لئے ناپسند کرتے تھے کیونکہ مسئلہ فلسطین اور مسجد اقصیٰ کی بازیابی کے سلسلہ میں وہ واضح موقف رکھتے تھے اور فلسطینی مقاومت کے حامی تھے۔ گویا یہ کہا جاسکتا ہے شیخ قرضاوی نے پوری دنیا پر اپنا اثر چھوڑا۔ ان کے افکار نے دوست اور دشمن سب کو غور کرنے پر مجبور کیا اور ایک نئے زاویہ سے مسائل کو سلجھانے یا ان کے ناقدین کی نظر میں الجھانے کا طریقہ پیش کیا۔ ان کی موت کے بعد بھی ان کے افکار و نظریات پر طویل عرصہ تک بحث ہوگی اور ہر شخص اپنی فکری سطح اور علمی لیاقت کے اعتبار سے ان کے افکار کو سمجھے گا لیکن ان کو رد کرپا نا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ وہ بجا طور پر ان عہد ساز شخصیتوں کی فہرست میں شامل ہوچکے ہیں جنہوں نے ہر عہد میں مسلمانوں کو فکری قیادت فراہم کی ہیں۔ اب انصاف کا تقاضہ ہے کہ ان کی تحریروں کا مطالعہ مزید عمق اور سنجیدگی سے کیا جائے تاکہ یہ امت جہل کے ظلمات سے نکل کر علم و ترقی کے اعلی مدارج کی طرف اپنا سفر مسلسل جاری رکھ سکے۔
مضمون نگار سینٹر فار انڈیا ویسٹ ایشیا ڈائیلاگ کے وزیٹنگ فیلو ہیں