عالمی توانائی بحران کی دستک

0

یوروپی دنیا توانائی کے بحران کے دہانے پر ہے۔ بدلتے موسم نے اس بحران کو قریب اور کافی حد تک زیادہ سنگین بنادیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اب کھلے طور پر مغربی دنیا توانائی اور ایندھن کی مارکیٹ پر بالادستی کے لیے اپنی توانائی صرف کررہی ہے۔ گزشتہ روز 13؍اکتوبر کے سعودی عرب کے اس فیصلے پر جس میں اس نے تیل کے پیداوار میں غیرمعمولی تخفیف کا فیصلہ کیا ہے، ناٹو ممالک بطور خاص امریکہ کی امیدوں پر پانی پھیردیا ہے۔ سعودی عرب کا یہ فیصلہ نہ صرف یہ کہ عالمی سیاست میں کھلبلی پیدا کرنے والا ہے۔ بلکہ اس سے امریکہ کی داخلی سیاست اور اس سے موجودہ ڈیموکریٹک صدر جوبائیڈن کی خود کی پوزیشن متاثر ہوسکتی ہے، سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان اور جوبائیڈن کے تعلقات میں تلخی اس حد تک بڑھ جائے گی یہ غیر متوقع نہیں تھا۔ امریکی صدر کے انتخابات کے دوران سے ہی اندیشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ اگر جوبائیڈن الیکشن جیت گئے تو سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات کسی حد تک متاثر ہوسکتے ہیں۔
سعودی عرب نے پیٹرولیم مصنوعات اپنے غلبہ والی عالمی تنظیم اوپیک کی اکتوبر کے اوائل میں ہونے والی میٹنگ میں اس بابت فیصلہ کیا تھا مگر امریکہ نے خصوصی طور پر اپیل کی تھی کہ وہ اپنے فیصلہ پر عمل آوری ایک ماہ کے لیے ٹال دے، اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں آئندہ ماہ نومبر کے اوائل میں کانگریس کے انتخابات ہونے ہیں۔ ایسے موقع پر توانائی اور پیٹرول کی قیمتیں امریکہ کے رائے عامہ کو بہت زیادہ متاثر کرنے والا ایشو ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں جوبائیڈن کی پارٹی کی عالمی سیاست حکمت عملی پر نکتہ چینی ہونا اور اس سے خود صدر جوبائیڈن کی پوزیشن کا متاثر ہونا فطری ہے۔
سعودی عرب اور امریکہ سیکورٹی کے مسائل پر ایک دوسرے کے ساتھ تو غیر معمولی تعاون کرتے رہے ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی ہیں۔دونوں ملکوں کا دفاعی تعاون عالمی عسکری حکمت عملی پر براہ راست اثرانداز ہوتا ہے۔ مگر یمن میں جنگ، دفاعی، تجارتی ایشوز اور دیگر امور پر دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری کئی حصوں میں پریشانی کا سبب بنتی جارہی ہے۔ اسرائیل امریکہ پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ مغربی ایشیا کے ممالک کے ساتھ رشتے استوار کرانے میں اس کی مدد کرے۔ اسرائیل کی نسل پرست حکومتیں جانتی ہیں کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ مسلسل تصادم اور حالت جنگ جیسی صورتحال اس کی معیشت اور امیج کو خراب کررہی ہے اور اسرائیل کے اندر ایک ایسا بڑا طبقہ پیدا ہوچکا ہے کہ وہ ماضی کی روایتی صہیونی حکمت عملی کے خلاف ہے اور شدت پسندوں کے شور شرابے اور لگاتار جنگوں سے نالا ںہے۔ موجودہ کارگزار وزیر اعظم یائر لیپڈنے جنگ پسند بنجامن نیتن یاہو کو بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور کردیا ہے اور انہوں نے بھی حال ہی میں امریکہ کی قیادت میں کسی امن سمجھوتے پر غور کرنے کی بات کہہ کر الیکشن کے بعد حالات میں تبدیلی کے امکانات کا اشارہ دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ سعودی عرب کی شمولیت کے بغیر امریکہ یہ توقع نہیں کرسکتا ہے کہ فلسطین اور اسرائیل تنازع پر کوئی سمجھوتہ ہوجائے۔بہر کیف امریکہ نے الزام لگایا ہے کہ سعودی عرب کے تیل کی پیداوار میں کٹوتی سے روس کو فائدہ پہنچے گا اور وہ یوکرین میں اپنی جارحیت کو برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہوپائے گا۔ دراصل مغربی ممالک روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کرکے اس کی کمر توڑنا چاہتے تھے۔ ان کو لگتا ہے کہ اسلحہ کی خریداری میں روس کیلئے مشکلات پیدا کرکے مقاصد کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔سعودی عرب کے اس قدم سے جوبائیڈن کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ سعودی عرب نے امریکہ کے موقف پر ردعمل ظاہر کرکے امریکہ کی پالیسی کی ہوا نکال دی ہے۔ اس نے کہا ہے کہ امریکہ چاہتا تھا کہ اوپیک پیٹرول کی پیداوار میں تخفیف کے فیصلہ پر عمل آوری ایک ماہ کیلئے موقوف کردے، مگر اس کے مؤخر کرنے کے فیصلے کا اثر ان ممالک (اوپیک ممالک) کی معیشت پر پڑے گا۔ خیال رہے کہ پیداوار میں کمی کرنے سے قیمتیں بڑھیں گی اور اس کا نقصان مغرب کو جتنا بھی ہو اتنا ہی فائدہ اوپیک ممالک کو ہوگا۔ ظاہر ہے کہ بازار میں مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا ہر کوئی فائدہ اٹھانا چاہے گا۔ اس مرتبہ فائدہ اٹھانے کا موقع اوپیک ممالک کا زیادہ ہے اور نقصان براہ راست امریکہ کو اٹھانا پڑسکتا ہے۔امریکہ کی کانگریس (پارلیمنٹ) کے ایوان سینیٹ کی خارجہ پالیسی کی کمیٹی نے اس بابت پہلے ہی تیور سخت کرلئے تھے اور اوپیک کے فیصلہ کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی امور پر تعاون پر نظر ثانی کی اپیل کی ہے۔
سینیٹ کی فارن ریلیشن کمیٹی کے چیئرمین رابرٹ مینڈیر نے اوپیک کے 5؍اکتوبر کو لئے گئے فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ سعودی عرب کے ساتھ تعاون کو محدود کردے اور صرف اس حد تک تعاون کرے جو امریکی مفادات کے لیے ضروری ہو۔ امریکہ 2001 کے دہشت گردانہ حملوں کے جن محاذوں پر مغربی ایشا کے ممالک بشمول سعودی عرب سے جو بھی مطالبہ کرتا رہا ہے، اس پر سب نے تعاون کی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کو تمام عرب اور مسلم ممالک سے تعاون ملا، اگرچہ امریکہ نے اس صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھایا تھا اور اس نے برطانیہ کے ساتھ مل کر لیبیا، شام، افغانستان اور عراق جیسے ملکوں کو اینٹ سے اینٹ بجادی۔ اس مزاحمت اور ذاتی پرخاش نکالنے کے لیے بش باپ بیٹوں نے ہزاروں عراقیوں، شامیوں اور افغانیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ آج وہ پورا خطہ میں عدم استحکام، خانہ جنگی اور برادر کشی کا بدترین دور سے گزر رہا ہے۔ پچھلے دنوں ایک حکمراں ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈر تلسی گبڈ نے اپنی پارٹی کے جنگی جنون پر نکتہ چینی کرتے ہوئے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا، لیکن پوری دنیا میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور دیگر طاقتوں کی دوہری پالیسی کو لے کر بحث ہورہی ہے۔ lql

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS