والدین قدرت کی عظیم نعمت

0

خورشید عالم مدنی

اللہ کی عظیم مہربانی اور احسان کے بعد انسان جس کے سہارے پلتا، بڑھتا اور پروان چڑھتا ہے وہ والدین ہی ہوتے ہیں۔ یہ ہمارے وجود کا ظاہری سبب ہیں، اس سے بڑھ کر مخلص اور بے لوث محبت کرنے والی کوئی ذات نہیں اور اس کے بغیر انسانی معاشرے کی تشکیل اور تعمیر ممکن ہی نہیں۔ یہ رشتے کی بنیاد ہیں، یہ بے لوث و بے غرض ایثار کا کامل نمونہ ہیں، اخلاص و محبت کے پیکر ہیں، اولاد کی ہر خواہش و خوشی پر اپنی راحت و خوشی قربان کر دینے والی عظیم ذات ہیں۔ ماں وہ ہستی ہے جس کی مامتا کے سمندر کی گہرائی کو ناپا جا سکتا ہے اور نہ اس کی بلندی کا تصور کیا جاسکتا ہے۔ جو اپنے بطن نازک میں کھلنے والی کلی کو ایک دو ماہ نہیں بلکہ مسلسل نوماہ تک تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اس اثنا میں ماں کو کیسی کیسی تکلیفیں ہوتی ہیں، کن حالات سے گزرنا پڑتا ہے، کوئی دوسرا کیا جانے اور جب بچہ کی پیدائش کا وقت آتا ہے تو وہ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہو جاتی ہے اور بسا اوقات خود موت کے آغوش میں سو جاتی ہے۔
ماں!جس کی آنکھوں میں مامتا، لبوں پر تبسم، قلب و جگر میں محبت و شفقت ہوتی ہے اور جس کا آنچل الفت و رحمت سے بھری ہوتی ہے۔ وہ خود بھوکی رہ کر اپنے بچوں کو کھلاتی ہے، راتوں کو خود جاگتی اور بچوں کو سلاتی ہے، ٹھنڈے اور گندے بستر پر خود سوتی لیکن بچے کو گرم اور صاف ستھرے بستر پر سلاتی ہے، اس کی ذرا بھی پریشانی پر وہ مضطرب و پریشان ہو جاتی ہے۔ جس کے دامن میں محبت کی ہوا چلتی ہے اور جس کے گلشن میں مؤدت کی کلی کھلتی ہے۔
اور یہ باپ!جو ایک مقدس محافظ ہے جو ساری زندگی خاندان کی نگرانی کرتا ہے، جو اپنی عمر بھر کی خوشیوں اور خواہشات کو اپنے بچوں کی خوشیوں اور خواہشات کی تکمیل پر قربان کر کے جیتا ہے، جو اپنی زندگی کے تجربات نچوڑ کر بڑے سلیقے سے اولاد کے سامنے پیش کرتا ہے، یہ ایسی کتاب ہے جس پر تجربات تحریر ہوتے ہیں، وہ بچے کو معاشرے میں زندہ رہنے کے قابل بنانے اور اسے زمانے کے ہر سرد و گرم سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بلاشبہ والدین قدرت کی عظیم نعمت ہیں یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں جہاں اللہ تعالی نے اپنی عبادت و اطاعت اور شکرگزاری کا حکم دیا ہے، اس کے فورا بعد’’بر الوالدین‘‘ والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور اس سلسلے میں بے نظیر احکام عطا فرمائے ہیں اور جہاں شرک سے منع کیا ہے اس کے بعد ہی ’’حقوق الوالدین‘‘والدین کی نافرمانی سے منع کیا ہے، نیز والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیمات صرف امت مسلمہ ہی کو نہیں دی گئی بلکہ ہر نبی کی امت کو والدین سے حسنِ سلوک، ان کے ادب و احترام اور ادائیگی حقوق کی تلقین کی گئی ہے۔
اس ضمن میں چند آیات کریمہ پر غور فرما لیں۔
آپ کے رب نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ لوگو! تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہاری زندگی میں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف نہ کہو اور انہیں ڈانٹو نہیں اور ان کے ساتھ نرمی اور ادب و احترام کے ساتھ بات کرو اور جذبہ رحمت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع اور انکساری اختیار کرو اور دعا کرو کہ اے میرے رب!جس طرح ان دونوں نے بچپن میں میری پرورش و پرداخت کی تھی تو ان پر رحم فرما۔
اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کروگے اور والدین کے ساتھ اچھا برتا کروگے۔
ہم نے اسے حکم دیا کہ تو میرا شکر ادا کر اور اپنے ماں باپ کا شکر ادا کر، سب کو میرے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے”
آپ کہیے! آمیں پڑھ کر سناؤں وہ چیزیں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کر دی ہیں، وہ یہ ہیں کہ کسی چیز کو اللہ کا شریک نہ بنا اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کر”اور مذکورہ آیت کریمہ کی وضاحت اس فرمان نبوی سے ہوتی ہے، کیا میں تجھے کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ آپ نے تین مرتبہ دہرایا، صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں!اللہ کے رسول تو آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا”۔
اور اگر وہ دونوں تجھے اس پر مجبور کریں کہ تو میرا شریک کسی ایسے کو بنائے جس کے معبود ہونے کا تجھے علم نہیں، تو ان کی بات نہ مان اور دنیا میں ان کے ساتھ بھلائی کرتا رہ” اور حضرت اسما بنت ابی بکر نے جب اپنی ماں سے متعلق پوچھا کہ وہ مجھ سے کچھ مانگ رہی ہیں تو کیا میں اس کے ساتھ حسن سلوک کروں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اپنی ماں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔
اسی طرح والدین کی نافرمانی کی مذمت کرتے ہوئے رسول گرامی صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت وعیدیں سنائی ہیں، فرمایا “رغم نفہ” اس کی ناک خاک میں مل گئی یعنی وہ تباہ و برباد ہو گیا، جس نے اپنے ماں باپ میں سے کسی ایک یا دونوں کو بڑھاپے کی حالت میں پایا اور پھر ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہیں ہوا۔
افسوس! والدین اپنے بچوں کو لاڈ و پیار سے پال پوس کر انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیتے ہیں، لیکن وہ سب مل کر ان دو کی خدمت نہیں کرتے، بوجھ تصور کرتے ہیں کیا میرے بال بچے نہیں؟ کیا مجھے اور کام نہیں؟ ایسے نافرمان اولاد کو یاد رکھنا چاہیے۔اللہ ہر گناہ کی سزا قیامت پر ٹال سکتا ہے لیکن والدین کی نافرمانی ایسا گناہ ہے کہ اس کی سزا نافرمان کو مرنے سے پہلے زندگی ہی میں دے گا”۔
آج بوڑھے والدین کے تعلق سے ایسی خبریں ملتی ہیں کہ اولاد نے بڑھاپے میں ماں باپ کو گھروں سے نکال دیا، بے سہارا چھوڑ دیا، ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا، چند روپیوں یا جائیداد کی خاطر قتل کر دیا اور اولڈ ہاسز میں داخل کرا دیا۔ آج کے نوجوان والدین کو بات بات پر ڈانٹتے، جھڑکتے اور بلند آواز سے بات کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتے، جب کہ والدین اپنے بچوں کو پیدائش سے لے کر اس کی تعلیم و تربیت اور معاشرے میں نام روشن کرنے کے قابل بنانے تک اپنا خون جگر جلا دیتے ہیں۔ اس کی ہر ہر قدم پر رہنمائی کرتے ہیں۔ اس کیلئے اپنی زندگیوں کو وقف کر دیتے ہیں۔ ان کی نیک دعائیں کامیابی کا زینہ ہیں، جس کی بدولت ہم ایک کامیاب انسان بن کر ملک و قوم کا نام روشن کر سکتے ہیں۔
مذہب اسلام نے ہر رشتے کے حقوق وضاحت کے ساتھ بیان کر دیے ہیں، جن میں سرفہرست والدین کے حقوق اور ان کی تکریم ہے۔ اس کے علاوہ اساتذہ کا احترام، پڑوسیوں کے حقوق، معاشرے کے ستائے ہوئے افراد بھی ہیں جو ہماری بھرپور توجہ اور احترام کے مستحق ہیں۔ آئیے! ہم عہد کریں کہ اپنے بوڑھے والدین کی عزت و خدمت کریں گے، ان کی دل جوئی، فرمانبرداری کریں گے، اپنی کسی حرکت سے ان کے دل دکھانے اور جذبات کو مجروح کرنے کی کوشش نہیں کریں گے اور ان کی وفات کے بعد بھی صدقہ کریں گے۔ اللہ سے ان کی مغفرت، رحمت و بخشش کی دعائیں مانگیں گے، ان کے عزیز و اقارب کے ساتھ صلہ رحمی اور حسن سلوک کریں گے اور ان کے دوستوں کے ساتھ عزت و اکرام سے پیش آئیں گے، جس کا ہمارے نبی نے ہمیں حکم دیا ہے۔
یاد رکھیں!آپ جیسا سلوک اپنے والدین کے ساتھ کریں گے، آپ کی اولاد بھی اسی طرح کا سلوک آپ کے ساتھ کرے گی اور یہ بھی ایک سچی حیقت ہے کہ نافرمان اولاد کو دنیا و آخرت میں عزت نہیں ملتی۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here