حکومت نے ہر کسی کو ترقی میں برابر کا حصہ دار بنایا:مختار عباس نقوی

0

نئی دہلی:  مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے کہا ہے ،’ترقی کے ہمہ جہت طوفان‘کو’انارکی کے سازشی افان‘سے نہیں روکا جا سکتا ہے۔ 
نقوی نے جمعرات کو یہاں مرکزی وقف کونسل کی جانب سے وقف بورڈ کے افسران کے لیے منعقد اورینٹیشن پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں جب کسی حکومت کا ’ترقی کا مسودہ‘،’ووٹ کا سودا‘نہ ہو، مودی حکومت کی جانب سے ’ہمہ جہت ترقی‘کے ذریعے سماج کے تمام طبقات کو ترقی میں  برابر کا حصہ دار بنانے کی انقلابی کوششوں کے نتائج آ رہے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ’آزادی کے جشن‘میں بھی انارکی کے ٹشن میں کچھ منفی طاقتیں سرگرم ہیں۔ ایسے لوگ ملک کے مثبت، اختراعی ماحول کے دشمن ہیں۔ حکومت سماج کے ایسے لوگوں کو معاف نہیں کر سکتی۔ 
انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد پہلی بار مودی حکومت نے پورے ملک میں  وقف  اثاثہ جات کو وقف مافیاؤں کے چنگل سے نکال کر ان پر جنگی پیمانے پر سماجی، معاشی، تعلیمی سرگرمیوں اور ہنر کے فروغ کے لیے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کی تعمیر کی ہے۔ گذشتہ تقریباً چھ برسوں میں’پردھان منتری جن وکاس کاریہ کرم‘(پی ایم جے وی کے) کے تحت ملک کے تمام ضرورت مند شعبوں میں مودی حکومت کی جانب سے اسکول، کالج، آئی ٹی آئی، گرلس ہاسٹل، رہائشی اسکول، ہنر کے فروغ کے مرکز، کثیرجہتی کمیونٹی سینٹر، سدبھاؤ منڈپ ، ہنر ہب، اسپتال، تجارتی مرکز، کامن سروس سینٹر وغیرہ کی تعمیر بڑے پیمانے پر کیا گیا ہے۔ 
مرکزی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے اقلیتوں کے لیے ملک کے محض 90 اضلاع تک محدود ترقیاتی  پروگراموں کی توسیع ’پردھان منتری جن وکاس کاریہ کرم‘ (پی ایم جے وی کے) کے تحت 308 اضلاع، 870 بلاک، 331 شہر، ہزاروں گاؤں میں کر دیا ہے۔ ان منصوبوں کا فائدہ سماج کے تمام طبقات کو ہو رہا ہے۔ 
 نقوی نے کہا کہ گذشتہ تقریباً چھ سالوں میں مودی حکومت نے ’پردھان منتری جن وکاس کاریہ کرم‘ (پی ایم جے وی کے) کے تحت پورے ملک کے اقلیتی-اکثریتی علاقوں میں معاشی-تعلیمی-سماجی اور روزگار کی سرگرمیوں کے لیے بڑی تعداد میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کروائی۔
1527 نئے اسکول کی عمارتیں، 22877 اضافی کلاس روم، 646 ہاسٹل ، 163 رہائشی اسکول ، 9217 اسمارٹ کلاس روم (بشمول سنٹرل اسکول)، 32 کالجز ، 95 آئی ٹی آئی، 13 پولی ٹیکنکس ، چھ نوودیہ اسکولوں ، 404 سدبھاؤ منڈپ (کثیر مقصدی کمیونٹی سینٹر)، 574 مارکیٹ شیڈ ، 5330 ٹوائلٹ اور پینے کے پانی کی سہولیات ، 143 کامن سروس مراکز ، 22 ورکنگ ویمن ہاسٹل، 1926 مختلف ہیلتھ پروجیکٹس ، 5 اسپتال ، 8 ہنر مراکز ، 14 مختلف کھیلوں کی سہولیات ، 6014 آنگن واڑی مراکز تعمیر کیے گئے ہیں۔
مسٹر نقوی نے کہا کہ پورے ملک میں تقریباً چھ لاکھ 64 ہزار رجسٹرڈ  وقف جائداد ہیں۔ تمام ریاستوں میں وقف بورڈ کا صدفیصد ڈیجیٹلائیزیشن کا کام پورا ہو گیا ہے۔ بڑے پیمانے پر وقف جائداد کا جیوٹیگینگ/جی پی ایس میپنگ کا کام ملک کے اہم اداروں کی جانب سے جنگی پیمانے پر جاری ہے۔ تمام ریاستیں وقف بورڈ کو ویڈیو کانفرنسنگ کی سہولت مہیا کروا دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لیہہ لداخ-کرگل میں وقف بورڈ تشکیل دینے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ جموں و کشمیر اور لیہہ – کرگل میں تشکیل ہونے والے بورڈ کی جانب سے وقف جائداد کا بہتر استعمال یقینی ہوگا اور ان جائداد کے سماجی، معاشی، تعلیمی سرگرمیوں کے لیے استعمال کے لیے’پردھان منتری جن وکاس کاریہ کرم‘(پی ایم جے وی کے)کے تحت حکومت کی جانب سے مکمل مدد کی جائے گی۔
اس موقع پر اقلیتی امور کی مرکزی وزارت کے سکریٹری پی کے داس، ایڈیشنل سکریٹری ایس کے دیو ورمن، مرکزی وقف کونسل کے سکریٹری ایس اے ایس نقوی، کونسل کے رکن اور دیگر افسران موجود  تھے۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS