حکومت اور کسان اب راست بات چیت کریں

زرعی قوانین کی ناکامی کا راز سمجھ میں آجائے تو ملک کا کافی بھلا ہوگا

0

وید پرتاپ ویدک

تینوں زرعی قوانین کی واپسی کا اعلان کرکے وزیراعظم نریندر مودی نے قابل ستائش کام کیا ہے۔ حالاں کہ سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر یہ زرعی قوانین ناکام کیوں ہوئے؟ کسانوں کی یہ تحریک بھی کئی سبق دینے والی ہے۔ کسان لیڈروں کو متوقع وسیع عوامی حمایت تو نہیں مل پائی لیکن آزادی کے بعد ملک میں ایسی غیرمتشدد اور پرعزم تحریک شاید ہی چلی ہو۔ حالاں کہ مجھے یاد نہیں کہ کسی تحریک میں تقریباً 700لوگوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا ہو۔
لیکن لوگ پوچھ رہے ہیں کہ وزیراعظم نے اچانک یہ اعلان کیسے کردیا؟ اس کا بنیادی سبب تو یہی نظر آتا ہے کہ اگلے کچھ ماہ میں پانچ ریاستوں کے انتخابات سر پر آرہے ہیں۔ کسان تحریک کے بہانے اپوزیشن پارٹیوں کو زبردست پبلسٹی حاصل ہورہی ہے۔ اگر پنجاب، اترپردیش، ہریانہ اور اتراکھنڈ میں بھارتیہ جنتا پارٹی پھسل گئی تو 2024میں دہلی کا بھی بی جے پی کے پاس ٹکے رہنا مشکل ہوسکتا ہے۔ لیڈران کے لیے تو اقتدار ہی برہما ہے۔ یہ اسی برہما کی سادھنا ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی کے اس اعلان کے باوجود کسان لیڈروں نے اپنی تحریک جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ انہیں شبہ ہے کہ حکومت اپنا وعدہ پورا کرے گی یا نہیں؟ وہ کہہ رہے ہیں کہ جب تک پارلیمنٹ اس قانون کو رد نہیں کرے گی، وہ اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔ کسانوں کو یہ شبہ اس لیے بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے ساتھ 11مرتبہ ایسا ہوا جب حکومت کی بات چیت بے نتیجہ رہی۔ پھر سپریم کورٹ نے بھی جو ماہرین مقرر کیے تھے، ان کی رپورٹ شائع نہیں کی گئی۔ پھر کہا گیا کہ یہ قوانین بنے ہوئے تو ہیں لیکن ابھی انہیں نافذ نہیں کیا جائے گا۔
کسان لیڈروں کو لگ رہا تھا کہ یہ قوانین کچھ سرمایہ داروں کے فائدے کے لیے لائے گئے ہیں۔ اسی لیے انہیں مودی حکومت نافذ کرکے ہی رہے گی۔ لیکن اب مرکزی کابینہ اور پارلیمنٹ، ان دونوں کی مہر بھی اس اعلان پر لگنی طے ہوگئی ہے۔ اس میں اب کسی شک کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر اس اعلان کے باوجود کابینہ یا پارلیمنٹ میں کوئی داؤپیچ کیا جائے گا تو کیا وزیراعظم کا وقار متاثر نہیں ہوجائے گا؟ خاک میں نہیں مل جائے گا؟ ہم ذرا سوچیں کہ ایسا کون ہے جو نریندر مودی کو اپنا وعدہ توڑنے کے لیے مجبور کرسکے؟
اگر قانون واپسی کے اس اعلان میں کوئی داؤپیچ ہوتا تو کیا ساری اپوزیشن پارٹیاں اس کا ایک آواز میں خیرمقدم کرتیں؟ خود کسان لیڈروں نے اس کا خیرمقدم کیا ہے اور ان کے پیروکاروں نے مٹھائیاں تقسیم کی ہیں۔ سبھی لوگ تسلیم کررہے ہیں کہ ان قوانین کی واپسی کا اعلان مناسب اور بہترین ہے۔ ہریانہ اور پنجاب کے عوام الناس بھی خوش ہیں کہ کسانوں کے دھرنوں سے اب انہیں پریشان نہیں ہونا پڑے گا۔
لیکن لوگ حیران زدہ ہیں کہ مذکورہ اعلان کرتے وقت وزیراعظم نے اتنی زیادہ نرمی، اخلاقیت اور پچھتاوے کا ثبوت کیوں دیا؟ ایسا رُخ تو 1962میں چینی حملہ کے بعد جواہرلعل نہرو اور ایمرجنسی کے بعد اندراگاندھی نے بھی نہیں اپنایا تھا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں زیادہ وقت یہی بتانے میں صرف کیا کہ گزشتہ سات سال میں ان کی حکومت نے کسانوں کے مفاد میں جتنے قدم اٹھائے، اتنے کسی بھی دیگر حکومت نے نہیں اٹھائے۔ یہ قوانین بھی اسی لیے بنائے تھے کہ ہندوستانی زراعت کی جدیدکاری ہو اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ انہیں افسوس ہے کہ وہ اپنے ارادوں کو کسانوں کو سمجھانے میں ناکام رہے۔
وہ کیوں ناکام رہے؟ یہ راز سمجھ میں آجائے تو ملک کا کافی بھلا ہوگا اور بی جے پی کو بھی طاقت ملے گی۔ زرعی قانون جس طرح سے لایا گیا، وہی بتاتا ہے کہ یہ حکومت کوئی بھی فیصلہ کیسے کرتی ہے۔ یہ قانون سب سے پہلے جون 2020میں آرڈیننس کے ذریعہ لائے گئے۔ آئین کی دفعہ123کے مطابق آرڈیننس تبھی لائے جانے چاہیے، جب کوئی ایمرجنسی ہو یا پارلیمنٹ کا سیشن بہت بعد میں ہونے والا ہو۔ یہ دونوں صورت حال اعلان کے وقت نہیں تھی۔ ان دونوں بلوں پر کسی پارلیمانی کمیٹی نے بھی غور و خوض نہیں کیا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بھی بغیر بحث و مباحثہ کے ان پر آناًفاناً ٹھپہ لگوا لیا گیا۔ کسانوں کے اس شک کو تقویت ملی کہ کورونا کے دور میں اسے اسی لیے لایا گیا کہ اس کے خلاف کوئی تحریک نہیں ہوپائے گی۔ جس دھڑلے سے اس حکومت نے شروع شروع میں تحویل اراضی اور بعد میں نوٹ بندی، جی ایس ٹی اور زرعی قوانین وغیرہ کے فیصلے کیے، ان سے کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ کیا یہ نہیں کہ ان فیصلوں میں کہیں نہ کہیں غلطی رہی۔ ممکنہ طور پر ماہرین کی رائے نہیں لی گئی۔ نہ ہی اپوزیشن کو اہمیت دی گئی۔ اعتماد اور یقین کی زمین تیار نہیں کی گئی۔ کم و بیش ایسے ہی رجحان نے ہماری خارجہ پالیسی کو بھی جکڑ رکھا ہے۔ اگر زرعی قوانین کو لانے کے پہلے کسانوں کا اعتماد حاصل کرلیا جاتا تو ان قوانین کو واپس لینے کی یہ نوبت ہی کیوں آتی؟
کسانوں نے اب اپنے جو 6مطالبات حکومت کے سامنے رکھ دیے ہیں، ان پر بھی حکومت ان کے ساتھ راست بات چیت کرے، یہ ضروری ہے۔ کچھ مطالبات تو اتنے جائز ہیں کہ انہیں فوری طور پر تسلیم کرلینے میں حکومت کو شاید ہچکچاہٹ نہیں ہوگی لیکن پیداوار کی ایم ایس پی یعنی سرکاری قیمت کو قانونی شکل دینے کا مطالبہ کافی پیچیدہ ہے۔ ابھی صرف 23 چیزوں پر یہ قیمت نافذ ہے لیکن حکومت کسانوں سے زیادہ تر گیہوں اور چاول ہی خریدتی ہے۔ ان دونوں اناجوں کو بازار ریٹ سے زیادہ قیمت پر خریدنے کا نتیجہ یہ ہے کہ سرکاری اسٹورز میں لاکھوں ٹن اناج سڑ رہا ہے اور کسان دیگر فصلیں پیدا کرنے پر توجہ ہی نہیں دے رہے ہیں۔ مالدار کسان چاہتے ہیں کہ تقریباً 200فصلوں کی بھی سرکاری قیمتوں کو قانونی شکل دے دی جائے۔ حکومت نے اس ایشو پر غورکرنے کے لیے جو کمیٹی بنائی ہے، اس میں کسان نمائندہ کو ضرور شامل کیا جانا چاہیے۔ اس دوران حکومت چھوٹے محنت کش کسانوں کا سب سے زیادہ خیال رکھے، یہ ضروری ہے۔ اس وقت کسانوں اور حکومت کے درمیان تفصیلی اور دوستانہ بات چیت ضروری ہے تاکہ کروڑوں کسانوں کوان کی صدیوں سے چلی آرہی حالت زار سے نجات دلائی جاسکے۔
(مضمون نگار انڈین فارن پالیسی کونسل کے صدر ہیں)
(بشکریہ: دینک بھاسکر)

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS