ٹھاکرے کی وراثت کا مستقبل !

0

بالا صاحب ٹھاکرے کی وراثت کو آگے بڑھانے والے ان کے بیٹے اور مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ ادھوٹھاکرے نے صرف 5مہینوں میں اتناکچھ کھودیا کہ اب اپنی پارٹی شیوسیناکی پہچان کو بھی بچانامشکل ہوگیا ہے۔ انتخابی نشان تک دائوپر لگ گیا ہے جسے الیکشن کمیشن نے شندے گروپ کے دعوے کے بعد منجمد کردیا ہے اوردونوں گروپ کو نئے الگ الگ انتخابی نشان کے ساتھ شیوسینا کا نام استعمال کرنے کی اجازت دے دی ۔اگر ادھوٹھاکرے انتخابی نشان کو بھی برقرار نہیں رکھ سکے تو شاید پارٹی کانام بھی ان سے چھین جائے گا ۔شندے گروپ کے ارادے بھی کچھ ویسے ہی لگتے ہیں ۔آج ٹھاکرے کنبہ کو جن حالات سے گزرنا پڑرہا ہے اور جیسے دن دیکھنے کو مل رہے ہیں ،کنبہ نے اس کے بارے میں کبھی سوچابھی نہیں ہوگا۔ایک لیڈر ایکناتھ شندے کی بغاوت کو ہلکے میں لینا ادھوٹھاکرے کیلئے کافی بھاری پڑا۔پہلے ایک ایک کرکے ممبران اسمبلی کو چھینا ، پھر اقتدار، اس کے بعد ممبران پارلیمنٹ اوراب پارٹی کاانتخابی نشان چھیننے کی کوشش، ان سب باتوں کو اتفاق تو بالکل ہی نہیں کہہ سکتے۔بہت ہی سوچی سمجھی اورمنصوبہ بند چال کہیں گے، تبھی تو شندے گروپ کی ہر چال کامیاب ہورہی ہے ۔اس دوران ادھوٹھاکرے صرف ایک ہی وراثت شیواجی پارک میں دسہرہ ریلی کے انعقاد کو بڑی مشکل سے بچاسکے، مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے نے ممبئی کے دوسرے پارک میں دسہرہ ریلی کرکے اس وراثت کو بھی چیلنج کردیا ۔ شندے یہ بات اچھی طرح جانتے اورسمجھتے ہیں کہ ان کے پاس کھونے کیلئے کچھ نہیں ہے اورپانے کیلئے بہت کچھ ہے، وہ حاصل کرنے کیلئے مسلسل جدوجہد کررہے ہیں اوران کے پوائنٹس اتنے مضبوط ہیں کہ ہر معاملہ میں ادھوٹھاکرے کو جھٹکا لگ رہا ہے۔جبکہ ٹھاکرے کے سامنے بڑا چیلنج وراثت کوبچاناہے ، جس پر خطرہ منڈلا رہا ہے ۔
ادھوٹھاکرے اس وقت اپنے سیاسی کریئر کے مشکل دور میں ہیں۔ان کے سب سے بااعتماد ساتھی اورہر معاملہ میں ان کے کندھے سے کندھا ملا کر چلنے والے سنجے رائوت بھی جیل میں ہیں ۔ان کی حراست میں مسلسل توسیع ہورہی ہے اور ضمانت نہیں مل رہی ہے ۔اقتدارہاتھ سے نکلنے کے بعد پارٹی کا جھکائو شندے گروپ کی طرف ہوگیا ہے اورہر معاملہ میں اسی گروپ کا پلڑابھاری نظر آرہا ہے ۔دونوں گروپوں کے درمیان انتخابی نشان کی لڑائی فیصلہ کن لڑائی ہوگی۔ جسے الیکشن کمیشن نے منجمد کردیا ہے۔ آئندہ 3نومبر کو ریاست کی اندھیری سیٹ پر ضمنی انتخاب ہونے والا ہے ، اس میں شیوسیناکی تقسیم کے بعد دونوں گروپوں کی عوامی مقبولیت اورگرفت کی پہلی آزمائش ہوگی ۔ دونوں کو شیوسیناکے نام پر الیکشن لڑنے کی اجازت تو ہے لیکن انتخابی نشان پر نہیں۔ شاید انتخابی نتیجہ ہی پارٹی اور انتخابی نشان پر آخری مہر ثابت ہو ۔اس سے پہلے عدالت جانے سے کسی گروپ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔کیونکہ سپریم کورٹ کاہی فیصلہ ہے کہ انتخابی نشان پر فیصلہ الیکشن کمیشن کو کرنا چاہئے اورالیکشن کمیشن نے فیصلہ کی طرف اپنے قدم بڑھادیے اب دفاع کیلئے جو بھی کرناہے ، دونوں گروپوں کو کرنا ہے، ان کی انتخابی کارکردگی الیکشن کمیشن کے فیصلہ کی بنیاد بنے گی ۔ٹھاکرے کنبہ اس وقت خود کو سیاسی طور جتنا کمزور محسوس کررہا ہے ، کبھی نہیں محسوس کیا ہوگا ۔غورطلب امر یہ ہے کہ جب تک ٹھاکرے کنبہ سے باہر کا وزیراعلیٰ بنتا رہا ، پارٹی کو کبھی کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا ۔ لیکن جیسے ہی کنبہ نے پارٹی اوراقتدارکی باگ ڈور سنبھالی ، پارٹی اس طرح تقسیم ہوگئی کہ وجود ہی کا مسئلہ پیداہوگیا ۔ ہر آنے والا دن ادھوٹھاکرے کے سامنے ایک نئی پریشانی لے کر آرہا ہے اوروہ ایک مصیبت سے نکل نہیں رہے ہیں کہ دوسری میں الجھ جارہے ہیں ۔
اس وقت پارٹی کے منتخب ممبران پارلیمنٹ و اسمبلی کے لحاظ سے ایکناتھ شندے گروپ کاکنبہ بڑاہے ۔ پارٹی کارکنان اورلوگ کس گروپ کے ساتھ ہیں ، اس کی حقیقت بھی اندھیری سیٹ کے ضمنی الیکشن سے واضح ہوجائے گی ۔جب سے ایکناتھ شندے نے اپنے حامی ممبران اسمبلی کے ساتھ بغاوت کی، ادھوٹھاکرے کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا۔یکے بعد دیگرے جھٹکے دیتے جارہے ہیں۔جس کی وجہ سے ادھوٹھاکرے کو اپنا دفاع کرنا اورپارٹی کو بچانا مشکل ہوگیا ہے ۔مستقبل میں انہیںاوربھی بڑے بڑے جھٹکے لگ سکتے ہیں جیساکہ حالات نظر آرہے ہیں۔ ممبران پارلیمنٹ واسمبلی کی بغاوت اوراقتدارسے بیدخلی کو نظر اندازبھی کردیا جائے توبالاصاحب ٹھاکرے کی وراثت ، پارٹی وانتخابی نشان پر منڈلانے والے خطرات کو نظر انداز نہیں کرسکتے ۔
[email protected]