دنیا کی 5 ویں سب سے بڑی معیشت کا ثمرہ؟

0

صبیح احمد

یہ ایک دلچسپ اتفاق ہے کہ قومی راجدھانی دہلی میں ملک کی سب سے اہم اپوزیشن کانگریس پارٹی جس روز مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے ’ہلہ بول ریلی‘ کا انعقاد کر رہی تھی، اسی روز اخبارات کی شہ سرخیاں ہندوستان کے دنیا کی 5 ویں سب سے بڑی معیشت بننے کا دعویٰ کر رہی تھیں۔ ہندوستان نے یہ نمایاں کامیابی برطانیہ جیسے ملک کو پیچھے چھوڑتے ہوئے حاصل کی ہے۔ کووڈ19- وبا اور اس کے بعد روس-یوکرین جنگ کے سبب عالمی معیشت جب بری طرح تنزلی کا شکار ہے، ایسی صورتحال میں یہ خبر واقعی کافی خوش کن اور حوصلہ افزا ہے۔ جہاں تک اعداد و شمار کا کھیل ہے، اس خبر کو درست تسلیم کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن درحقیقت زمینی سطح پر جو صورتحال ہے، اس کے مطابق ایک سوال لازمی طور پر اٹھتا ہے کہ جب ہماری معیشت اتنی بہتر اور تمام منفی رجحانات کے باوجود نمو پذیر ہے تو مہنگائی اور بے روزگاری سے ملک کے عام لوگوں کی کمر کیوں ٹوٹی جا رہی ہے؟
ہندوستان بلا شبہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے لحاظ سے برطانیہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن گیا ہے۔ یہ نتیجہ بلومبرگ نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف) کے ڈیٹا کی بنیاد پر نکالا ہے۔ ہندوستان کی معیشت اس سال مارچ کے اواخر میں854.7 بلین ڈالر کی تھی جبکہ برطانیہ کی معیشت 816 بلین ڈالر تھی۔ لیکن ایک پہلو یہ بھی ہے کہ برطانیہ کی آبادی تقریباً 67 ملین ہے اور اندازوں کے مطابق اس وقت ہندوستان کی آبادی تقریباً 138 کروڑ ہے۔ اگر ہندوستان جی ڈی پی کے لحاظ سے برطانیہ سے بڑی معیشت بن گیا ہے تو یہ اچھی بات ہے لیکن اس پر اتنا خوش ہونے کی کوئی خاص وجہ نظر نہیں آتی کیونکہ ہندوستان خوشحالی کے معاملے میں اب بھی برطانیہ سے 20 گنا پیچھے ہے۔ اصل بات لوگوں کی معاشی حالت ہے۔ فی کس آمدنی اب بھی جوں کی توں ہے۔ برطانیہ ’45 ہزار ڈالر‘ سے اوپر ہے جبکہ ہندوستان میں اب بھی صرف ’2 ہزار ڈالر سالانہ ہے۔‘ حقیقی موازنہ تو فی کس آمدنی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اس پیمانے پر ہندوستان اب بھی برطانیہ سے بہت پیچھے ہے۔ فی کس آمدنی کے معاملے میں ہندوستان اب بھی سب سے پسماندہ ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ کہنا کس حد تک درست ہے کہ ہندوستان معیشت کے معاملے میں برطانیہ کو پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ بہرحال ہندوستان اور برطانیہ کی جی ڈی پی کا موازنہ تو کیا جاسکتا ہے لیکن خوشحالی کا نہیں، ہم فی کس آمدنی میں برطانیہ سے بہت پیچھے ہیں۔
یوکرین کی جنگ نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔ نہ صرف مغربی ممالک بلکہ جنوبی ایشیا بھی اس سے متاثر ہے۔ سری لنکا کی معیشت بحران کا شکار ہے۔ پاکستان مختلف وجوہات کی بنا پر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ بنگلہ دیش کی معیشت کو بھی بہت سے معاملات میں بہت اچھی کارکردگی کے باوجود اس وقت چیلنجز کا سامنا ہے۔ بہرحال ہندوستان کی معیشت جنوبی ایشیائی ممالک کے مقابلے زیادہ مستحکم اور بہتر حالت میں ہے لیکن ہندوستان کا جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہندوستان ان تمام پڑوسی ممالک سے بہت بڑی معیشت ہے اور ہندوستان کی پیداواری صلاحیت سری لنکا، پاکستان یا بنگلہ دیش سے کہیں زیادہ ہے۔ جن اعداد وشمار کی بنیاد پر ہندوستان کے 5 ویں نمبر پر آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، ان پر ماہرین اقتصادیات اور تجزیہ کار شک کا اظہار کر رہے ہیں۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ معیشت دوبارہ پٹری پر آ گئی ہے۔ ترقی کی شرح 7 فیصد ہے لیکن یہ اعداد و شمار صرف منظم شعبے پر مبنی ہیں۔ ان میں غیر منظم شعبہ شامل نہیں ہے۔ ہندوستان میں 94 فیصد مزدور غیر منظم شعبے میں کام کرتے ہیں اور یہ ملک کی پیداوار کا 45 فیصد بنتا ہے۔ غیر منظم شعبے میں خاص طور پر کووڈ وبائی مرض کے دوران زبردست کمی آئی ہے لیکن یہ اعداد و شمار اس جائزے میں شامل نہیں ہیں۔ ہم صرف منظم شعبے کے اعداد و شمار کو شامل کر رہے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ملک میں منظم سیکٹر یعنی کارپوریٹ بہت تیزی سے ترقی کر رہا ہے لیکن غیر منظم شعبہ پسماندہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہماری تقسیم مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ بالائی طبقہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے، اس کی آمدنی بڑھ رہی ہے لیکن نچلا طبقہ غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ ہندوستان کے لیبر پورٹل پر ساڑھے 27 کروڑ لوگوں نے رجسٹریشن کرایا ہے۔ ان میں سے 94 فیصد کا دعویٰ ہے کہ وہ ہر ماہ 10 ہزار روپے سے کم کماتے ہیں۔ درحقیقت ان کی آمدنی میں کافی کمی آئی ہے کیونکہ مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ جب مہنگائی بڑھتی ہے تومنظم سیکٹر میں مہنگائی الاؤنس مل جاتا ہے لیکن غیر منظم سیکٹر میں تنخواہ نہیں بڑھتی۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی میں اجرت کمانے والوں کی قوت خرید مزید کم ہو چکی ہوتی ہے۔ دوسری طرف ہمارے ارب پتیوں کی دولت میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ مجموعی طور پر صورت حال بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ ہندوستان اقتصادی ترقی تو کر رہا ہے، لیکن سب کو اس کے یکساں فوائد نہیں مل رہے ہیں۔ ہندوستان میں صنعتی پیداوار، خدمات اور ڈیجیٹل معیشت میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ان کے فوائد کتنے لوگوں کو مل پا رہے ہیں؟
کووڈ وبا کے بعد ملک میں روزگار کا بحران بہت سنگین ہو گیا ہے۔ نوجوانوں کو نوکریوں کے لیے سڑکوں پر آنا پڑرہا ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق جولائی 2022 میں ہندوستان میں بے روزگاری کی شرح 6.80 فیصد ہو گئی جبکہ جون میں یہ شرح 7.80 فیصد تھی۔ ہندوستان کی معیشت کے سامنے اب بھی بہت سے بڑے چیلنجز ہیں۔ فی الحال ہندوستان کی معیشت کا سب سے بڑا چیلنج بے روزگاری ہے۔ نوجوان مایوسی کے شکار ہیں۔ ان نوجوانوں کو سب سے زیادہ کام غیر منظم شعبے میں ملنا ہے۔ غیر منظم شعبہ کمزور ہو رہا ہے اور بے روزگاری بھی بڑھ رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ملازمتوں میں خواتین کی کم شرکت بھی ہندوستانی معیشت کے سامنے ایک بڑا چیلنج ہے۔ دنیا کے تناسب میں ہندوستان کی لیبر مارکیٹ میں خواتین کی شرکت سب سے کم ہے۔ صرف 19 فیصد خواتین ملازمت کے بازار میں ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی جنہوں نے 2014 میں روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے اقتدار سنبھالا تھا، کلیدی صنعتوں کو مالی مراعات کی پیشکش کر رہے ہیں اور مقامی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کیلئے ایک پرجوش ’میک ان انڈیا‘ مہم چلا رہے ہیں۔ ان کا کوئی بھی قدم اب تک پیداوار اور نوکریوں میں تیزی کا باعث نہیں بن سکا ہے جس کی ایک وجہ طلب میں کمی ہے۔ جب لوگوں کے پاس روزگار ہی نہیں ہوں گے تو قوت خرید کہاں سے آئے گی اور جب قوت خرید نہیں ہوگی تو طلب یا ڈیمانڈ کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر اس صورتحال کیلئے اصل ذمہ دار بے روزگاری ہے۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS