آنسوؤں کا بہنا الگ الگ احساس کا نتیجہ

0

ہر جاندار کی آنکھ سے بہنے والے محلول کو ” آنسو” سے تعبیر کیا گیا ہے جو سائنس کی زبان میں “پستان والے جانوروں” خاصکر انسان کو فطری دین ہے.سائنس کی تحقیق کے مطابق آنسو پانی اور نمک کا شفاف محلول ہوتے ہیں جو آنکھوں میں نمی کو برقرار رکھتے ہوے انکا تحفظ کرتے ہیں.
یہ کہا جاے تو بیجا نہ ہوگا کہ انسان کیلیے اللہ تعالی کی جانب سے آنسووں کے بہنے کا عمل ایک نعمت سے کم نہیں چیونکہ انکے بہنے سے انسان کو ذہنی راحت ملتی ہے ورنہ غم یا دکھ یا بیحد خوشی کی کیفیت سینے میں منجمد رہتی تو شاید انسان موت کی آغوش میں چلا جاتا.
انسان طبعی طور پر کتنا ہی طاقتور ہو اور کتناہی خونخوار صفت کا مالک ہو دکھ اور بیحد خوشی کے موقع پر اسکی آنکھوں سے بےساختہ آنسوں ضرور بہتے ہیں جو انسانی فطرت کا عین ثبوت ہے اور یہی آنسو اسکو انسانی محبت سے جوڑے رکھتے ہیں.
آنسوں بناوٹی بہاے جایں یا حقیقی طور پر بہیں دیکھنے والے اس کے فرق کو محسوس نہیں کرسکتے جبکہ صرف اللہ تعالی کو اس پر قدرت ہے.یہ بھی واضح کیا گیا کہ اگر آنسوں آنکھ میں تکلیف کی وجہ سے بہیں تو شرعی اعتبار سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور اگر یہی آنسوں اللہ کے آگے ندامت و معافی گناہ کیلیے بہیں تب وضو نہیں ٹوٹتا. اندازہ لگایے کہ اللہ تعالی کے آگے بہنے والے آنسوں کتنے پاک ہوتے ہیں.
” آنسو” غم و بیحد خوشی کے موقع پر- تہمت کا سامنا ہونے پر- بےزبان بچوں کی شدید ضرورت یا تکلیف کے اظہار پر-انسان کےکسی دکھ و تکلیف کے سامنا کرنے پر- اظہار تشکر پر اور ندامت و معافی کی طلب کے موقع پر بہتے ہیں جو انسانی فطرت کا حصہ ہیں اور یہ جنس-رنگ -تہزیب و مذہب کی تفریق سے بعید ہوتے ہیں.
جب کبھی انسان کسی غم کا سامنا کرتا اسکی آنکھ سے آنسوں جاری ہوتے ہیں خواہ وہ اسکا زبان سے ذکر کرے یا نہ کرے. غم کی کئ ایک وجوہات ہوتی ہیں. ایک دوسرے سے جدائ سے لیکر کسی اپنے کی موت انسان کو بہت گہرے غم میں ڈوبو دیتی ہے. جب کسی کے بچے روزگار کے سلسلہ میں یا تعلیم کے حصول کیلیے دوری کا سفر کرتے ہیں یا ایک بیٹی بیاہ کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ سات سمندر پار کا سفر کرتی ہے تب ماں باپ کو جدائ کا غم اندرونی طور پر خوب رُلاتا ہے اگرچیکہ اس دوری کے دکھ کو وہ ظاہر نہیں کرتے تاکہ اولاد کی ہمت پسپا نہ ہونے پاے.
جب کوئ کسی پر تہمت لگاتا ہے تب جسپر تہمت لگائ جاتی ہے بڑے دکھ کیساتھ اسکے دل کی گہرائ سے” بےآواز چیخیں” نکلتی ہیں جسکو صرف اللہ ہی سنتا ہے اور آنسوں بہنے لگتے ہیں.اسی لیے شاید بہتان لگانے والوں کو اللہ کی طرف سے تنبیہ کی گئ اور سخت سزا کا اعلان بھی کیا گیا.جب کبھی کسی کے والدین اس دنیاے فانی سے کوچ کرجاتے ہیں یہ غم بہت گہرا ہوتا ہے جسکا اندازہ اولاد کی آنکھوں سے بہتے بےساختہ آنسووں سے لگایا جاسکتا ہے. یہ آنسو وقتی طور پر تھم تو جاتے ہیں پر جب جب ماں باپ کی یاد آتی تب تب آنسو خود بخود بہتے ہیں اور یہی آنسو کے بہنے کے عمل سے اولاد کو دلی سکون ملتا جو انسان کو قدرتی دین ہے. غم کے احساس کا تعلق نہ صرف خود کے حالات بلکہ اپنے رشتہ دار اور دوستوں کے غم سے بھی ضرور ہوتا ہے اور وقتا فوقتا انکے لیے بھی آنسوں بہتے ہیں. شاید یہ بہتے ہوے آنسوں اپنوں کی تسلی کا سبب بھی بن جاتے ہیں. یہ کہا جاے تو بیجا نہ ہوگا کہ اپنوں کے غم کے علاوہ دشمنوں کا غم بھی ایک دوسرے کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتا جو انسانیت کے رشتہ کا ثبوت ہے. اتنا ہی نہیں بلکہ انسان اپنے پالتو جانور کے مرنے اور کھوجانے پر بھی غمزدہ ہوجاتا ہے جو انسان کو دیگر جانداروں میں شمار ہونیکا احساس دلاتا ہے.
یہ بھی ایک عجیب کیفیت ہیکہ انسان کو جب حد سے زیادہ خوشی کا سامنا ہوتا ہے تب بھی اسکی آنکھوں سے آنسوں خود بخود جاری ہوجاتے ہیں. ‘خوشی کے موقع پر آنسووں کا جاری ہونا” جبکہ عام طور پر یہ غم کے موقع پر بہتے ہیں اسکی حقیقت اللہ تعالی ہی بہتر جانتے ہیں چیونکہ یہاں احساس مختلف ہوتا ہے پر اسکا اظہار آنسوؤں کا بہنا مشاہدہ میں آتا ہے.
•• میری روح کی حقیقت میرے آنسوؤں سے پوچھو ==
میرا مجلسی تبسم میرا ترجمان نہیں ہے ••
انسان اپنی غلطیوں اور گناہوں پر اللہ تعالی کے آگے نادم ہوتا ہے تب بھی اسکی آنکھ سے آنسوں بہنے کا عمل سامنے آتا ہے.یہاں یہ بہتے آنسوں خالق حقیقی اللہ تعالی اور مخلوق یعنے بشر کے درمیان راست تعلق یا گفتگو کا باعث ہوتے نظر آتے ہیں. یہ بات بھی عیاں ہیکہ اللہ تعالی از خود اپنے بندوں کو اپنے سامنے روتے ہوے بہت پسند کرتا ہے اور ان بہتے آنسووں کے نتیجہ میں غلطیوں اور گناہوں کی معاف کردیتا ہے جو اسکے ستر ماؤں کی محبت رکھنے والی کیفیت کا عیاں ثبوت ہے. اللہ تعالی اپنی کتاب قرآن( سورہ توبہ) میں بھی انتباہ دیتے ہیں کہ”” پس انہیں چاہیے کہ تھوڑا ہنسیں اور ذیادہ رویں””
انسان کو جہاں دنیاوی حالات کی وجہ سے غم و خوشی کا سامنا ہوتا ہے اور جسکی وجہ سے آنکھوں سے آنسوں بہتے ہیں جو یقینا دل و دماغ کے سکون کا باعث ہوتے ہیں وہیں چاہیے کہ دیگر انسانوں کے غم میں بھی آنسوں بہاکر ایک دوسرے کو دلاسہ دینیکا عمل کریں. اپنی ہر چھوٹی بڑی غلطی کو غلطی مانتے ہوے بندوں کے سامنے ندامت ظاہر کریں.اپنے ہر چھوٹے بڑے گناہوں پر اللہ تعالی سے رجوع ہوکر ندامت کے آنسوں ضرور بہایں جو انسان کی بخشش کا ذریعہ ہونگے.یہ بات بھی بتائ گئ کہ غلطی و گناہ کو قبول کرتے ہوے ندامت کے ساتھ جن آنکھوں سے آنسوں بہینگے ان آنکھوں کو دوزخ کی آگ کبھی نہیں جلائیگی.
یہاں اسلام کے ماننے والوں کیلیے اپنے محبوب رسول صلعم کے نماز کے سجدوں میں بہاے جانے والے آنسووں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے جبکہ اللہ تعالی نے آپ صلعم کی بخشش کا کھلا اعلان کرچکے ہیں.رسول صلعم اپنی امت کی بخشش اور عطا کی گئ نعمتوں کا شکرادا کرنیکے لیے اللہ کے آگے اسقدر گڑ گڑاکر آنسوں بہاتے کہ اس دوران سینے سے آوازیں سنائ دیتیں جیسا کسی ہانڈی سے پکوان کے وقت آتی ہیں. پھر ہم امتیوں کے آنسوں بہانیکی آپ صلعم کے آگے کیا وقعت ہے.
مزکورہ بالا کیفیات کا تذکرہ اسی امر کو ثابت کرتا ہیکہ آنکھ سے بہنے والے آنسوں جہاں انسان کی دلی و دماغی سکون کا ذریعہ ہیں وہیں اپنے خالق حقیقی کو منوانے اور نعمتوں پر شکر ادا کرنیکا ذریعہ بھی ہیں.دوسرے معنی میں آنسو خالق حقیقی اور بندہ کے درمیان راست گفتگو کا ذریعہ ہوتے ہیں.
لھذا دعا ہیکہ اللہ تعالی تمام بندوں کو اپنے غم کے ساتھ ساتھ اپنی غلطیوں اور گناہوں پر نادم ہوتے ہوے اور عطا کی گئ نعمتوں کے اظہار تشکر میں اللہ تعالی کے سامنے آنسوں بہانیکی توفیق عطا فرماے. آمین.
تحریر :- ایس. ایم. عارف حسین
اعزازی خادم تعلیمات. مشیرآباد-حیدرآبد… سل: 9985450106

آپ کے تاثرات
+1
1
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here