نفرت و تعصب کی لُو میں بادِ بہاری کا احساس

0

محمد حنیف خان

انسانی زندگی ایک دوسرے کی مدد اور تعاون سے عبارت ہے،جب کسی انسان میں سے جذبہ اور احساس ختم ہوجاتا ہے تو اس کے لیے معاشرہ ’حیوان ‘ کا لفظ استعمال کرتاہے۔حقیقت بھی یہی ہے کہ یہی جذبہ دوپایہ آدمی کو شرف انسانیت بخشتا ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس جذبے کو آج کے دور میں اس قدر محدود کردیا گیاہے کہ وہ افراد جو صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے ہیں، وہی ایک دوسرے کی مدد اور تعاون کے بجائے جانی دشمن کے طور پر سامنے آئے ہیں۔حال ہی میں رام نومی کے موقع پر پورے ملک بھر میں جو ہوا کھلی آنکھوں سے سب نے دیکھا،یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ عوام کی محافظ پولیس کی موجودگی میں درگاہوں کے اندر بھگوا جھنڈے لہرائے گئے، کتب خانے اور مدارس نذر آتش ہوئے۔یہ اس لیے ہوا کیونکہ مفاد پرست سیاست نے ایک دوسرے کو مد مقابل لاکر کھڑا کردیا ہے۔ملک میں رو نما ہونے والے اس طرح کے واقعات نے ملک کی شبیہ بیرون ملک بھی خراب کی ہے، حالانکہ اعیان حکومت بڑی شدومد سے نہ صرف اس سے انکاری ہیں بلکہ دعوے بھی کرتے ہیں اور دلیلیں بھی دیتے ہیں کہ ملک میں ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو وزیر خزانہ سیتا رمن کو امریکہ میں اقلیتوں کے تحفظ کے مسائل پر سوالات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
واشنگٹن میں پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ فار انٹر نیشنل اکنامکس کے ایک سرمایہ کاری پروگرام میں ان سے صدر ایڈم ایس پوسین نے کہا تھا کہ ہندوستان کے بارے میں کچھ تاثرات سرمایہ کاری کو متاثر کررہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان میں مسلم اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہاہے جس پر وزیر خزانہ نے جواب دیا کہ 1947میں آزادی کے بعد ملک میں جتنے مسلمان تھے اگر ان کے ساتھ تشدد کیا جارہا ہوتا تو کیا ان کی آبادی اتنی بڑھ جاتی؟ اس دوران انہوں نے خود ایک اہم سوال کیا کہ کیا 2014سے آج کے دوران ان کی آبادی کم ہوئی ہے؟کیا کسی ایک کمیونٹی کی اموات میں اضافہ ہوا ہے؟ان سوالات اور جوابات میں نہ ملک کی حقیقی صورت پوشیدہ ہے اور نہ ہی اس سے ان تاثرات میں کسی طرح کی کمی آسکتی ہے جن کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری متاثر ہورہی ہے کیونکہ یہ جوابات صرف عوامی سطح پر خود کو بچانے کے لیے ہیں۔مسلمانوں پر تشدد اور انہیں پریشان کیے جانے کا تعلق ان کی آبادی اور شرح اموات سے کسی طور نہیں ہے۔
وزیر خزانہ نے امریکہ میں حقیقت پر خواہ مٹی ڈالنے کی کوشش کی ہومگر اس سے حقیقت چھپ نہیں سکتی ہے ،لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہندوستان کی صرف یہی ایک تصویر نہیں ہے جس کی جانب ایڈم ایس پوسین نے اشارہ کیا تھا۔یہ ملک نفرت سے بھرے ایسے متعصبین کی وجہ سے نہیں چل رہا ہے بلکہ کچھ ایسے افراد بھی ہیں جن کا جذبہ محبت اور انسانیت نفرت و تعصب کے اس دور میں بہاد بہاری کا احساس کراتا ہے۔
ملک کے تین حصوں سے تین تصویریں دیکھئے، کس طرح سے ان کے کرداروں نے محبت و اخوت اور انسانیت کی مثال قائم کی جس کی وجہ سے آج بھی محبت کی لو جل رہی ہے اور انسانیت زندہ ہے۔ملیالم زبان میں حال ہی میں ایک فلم منظر عام پر آئی ہے جس کا نام ہے ’’اینو سواتھم شری دھرن‘‘جس کا ترجمہ ہے ’’میرا اپنا شری دھرن‘‘۔یہ فلم حقیقت پر مبنی ہے،جس میں ریل کے بجائے ریئل لائف کو پیش کیا گیا ہے۔اس فلم کو صدیق پروور نے بنایا ہے جو 51ویں انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں پیش بھی کی گئی تھی۔یہ فلم شری دھرن کے فیس بک پر ایک کمنٹ کی وجہ سے بنی۔ انہوں نے لکھا تھا کہ ’’میری اماں کو اللہ نے بلا لیا ہے مہربانی کرکے ان کے لیے دعا کریں تاکہ جنت میں ان کا شاندار خیر مقدم ہو(ہندی سے ترجمہ)۔‘‘ان کی یہ پوسٹ دیکھ کر طرح طرح کے کمنٹ آنے لگے کہ ایک غیر مسلم اماں اور اللہ کا لفظ کیسے لکھ رہا ہے۔جب حقیقت کی تہہ تک پہنچا گیا تو ایک نئی کہانی سامنے آئی اور یہ تھی کہ مرحومہ زبیدہ نے شری دھرن اور اس کی بہن کو ازن کی ماں کے انتقال کے بعد نہ صرف پالا پوسا تھا بلکہ اپنی زمین فروخت کرکے ان کی تعلیم و تربیت کا نظم کیا اور ان کی شادی کی۔ اس دوران انہوں نے کبھی مذہب پر گفتگونہیں کی بلکہ بڑی بیٹی کو وہ خود اپنے ساتھ مندر لے کر جاتی تھیں۔شری دھرن نے خود بتایا کہ پیدائش کے وقت ماں کے انتقال کے بعد اماں نے مجھے اور میری بہنوں کو پالا اور کبھی انہوں نے مذہب کی تبدیلی کے لیے نہیں کہا۔ایس ٹی سے تعلق رکھنے والے شری دھرن کہتے ہیں کہ میں اماں سے پوچھتا تھا کہ ہمیں مذہب اسلام میں داخل کیوں نہیں کرایا تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ خواہ اسلام ہو،عیسائی مذہب ہو یا پھر ہندو سبھی ایک ہی بات سکھاتے ہیں وہ یہ کہ سبھی سے پیار کرو اور سب کا احترام کرو۔ زبیدہ نے شری دھرن،ان کی بہن اور اپنے بیٹوں کو جو تعلیم دی، یہ وہ تعلیم ہے جس کی وجہ سے آج بھی انسانیت زندہ ہے۔جس محبت اور اپنائیت کے جذبے سے زبیدہ نے شری دھرن کو پالا تھا، اسی جذبے اور محبت کا اظہار ان بھائی بہنوں نے ان کے ساتھ کیا۔
جسٹس مارکنڈے کاٹجو اپنی بے باکی اور گفتار کے لیے جانے جاتے ہیں، وہ ہمیشہ بے لاگ تبصرے کرتے ہیں، انہوں نے حال ہی میں فیس بک پر ایک طویل پوسٹ لکھی جس کے ساتھ ایک مسلم خاتون کی تصویر تھی،انہوں نے بتایا کہ یہ میرے دوست افسر علی کی بیوہ ہیںجو الٰہ آباد ہائی کورٹ میں پریکٹس کرتے تھے،حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے جب ان کا انتقال ہوگیا تو ان کی بیوہ ایک دن ان کے پاس آئیں جن کا میکہ رام پور میں تھا،انہوں نے جسٹس کاٹجو سے کہا کہ ان کے بھائی انہیں رام پور بلارہے ہیں اور میں یہاں ان چار چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ رہ بھی نہیں سکتی کیونکہ ان کی تعلیم و تربیت کے لیے میرے پاس خرچ کا کوئی ذریعہ نہیں ہے،جسٹس کاٹجو نے نہ صرف انہیں رام پور جانے سے منع کیا بلکہ چیف جسٹس سے کہہ کر انہیں تھرڈ کلاس کلرک کی ملازمت دلائی،حالانکہ اس عہدے پر بغیر تحریری امتحان کے بحالی نہیں ہوسکتی تھی مگر جسٹس کاٹجو نے حالات اور ضرورت بتا کر چیف جسٹس کو رام کیا کہ وہ اپنے قلم سے ایک بیوہ کو سہارا دیں۔جس کے بعد انہیں ججوں کے لیے بنائی گئی لائبریری میں ملازمت مل گئی۔ملازمت مل جانے کے بعد جسٹس کاٹجو نے ان سے ایک بات اور کہی کہ وہ برقع بالکل نہ اتاریں جیسی وہ سابقہ زندگی میںرہتی تھیں، ویسے ہی رہیں۔اسی ملازمت کی بنا پر انہوں نے اپنے بچوں کی بہترین پرورش کی اور آج وہ باعزت زندگی گزار رہے ہیں۔ افسر علی کی بیوہ انہیں محبت سے راکھی باندھتی ہیں اور ہمیشہ کہتی ہیں کہ آپ نے بھائی کا فرض نبھایا ہے۔در اصل انہوں نے بھائی سے کہیں زیادہ انسانیت کا فرض نبھایا تھا جس کا صلہ یہ ملا کہ نہ صرف کئی زندگیاں بلکہ نسلیں تباہ ہونے سے بچ گئیں۔
سکم ہندوستان کا ایک سرحدی علاقہ ہے یہاں 87برس کی کیپو رہتی ہیں جنہیں 2005میں ’’سکم بھوشن‘‘ اور 2009میں حکومت ہند نے پدم شری کے اعزاز سے نوازا تھا۔یہ اعزاز تو بہت بعد کی بات ہے، اس سے قبل انہوں نے انسانیت کے لیے جو کیا وہ نہ صرف لائق تقلید ہے بلکہ ایسی خواتین کی وجہ سے ہندوستان کے جنت نشان ہونے کا بھی احساس ہوتا ہے۔محترمہ کیپو نے یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کردی۔ انہوں نے شادی تک نہیں کی،سرکاری ملازم ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی آسائش کے لیے کچھ نہیں رکھا۔ابتدا میں تبت سے ہجرت کرکے آنے والے بچوں کی تعلیم کا بندو بست کیا،لیچپا قبیلہ کے بچوں کو تعلیم دی،انہوں نے یتیم بچوں کو اپنے گھر میں رکھا اور اس کے بعد ان کے لیے اسکول اور ہاسٹل قائم کیا،وہ مذہب اور رنگ و نسل کے تعصب سے پاک ہو کر انسانیت کی خدمت کررہی ہیں،اس وقت بھی ان کے لیچپاکاتض اسکول میں 400سے زائد بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
یہ وہ افراد ہیں جن کی وجہ سے انسانیت اور محبت دونوں زندہ ہیں ورنہ ایجنڈا نافذ کرنے والوں نے انسانیت کو کچل اور مسل کر رکھ دیا ہے۔ہندوستان میں نفرت اور تعصب کی جو لُو چل رہی ہے، اس میں ان جیسے افراد باد بہاری کا احساس کراتے ہیں اور یہ جاں گزیں کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ جب تک ایسے افراد اس دھرتی پر جنم لیتے رہیں گے، محبت نہیں مر سکتی ہے۔
[email protected]