جھوٹ بولنے اور خیانت کرنے والے کا انجام

0

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ مومن میں بزدلی اور دوسری کمزوریاں ہوسکتی ہیں، جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ جو لوگ مسلم معاشرہ میں رہتے ہیں اور مسلمانوں جیسا نام رکھتے ہیں اگر وہ جھوٹ کو بے دھڑک بولتے ہیں اور روزہ نماز کے بھی پابند ہیں تو انھیں اپنی عبادتوں اور ریاضتوں کے بارے میں بار بار سوچنا اور غور کرنا چاہئے کہ ان کی عبادتوں کا کیا حال ہے، کہیں ان ساری عبادتوں کو جھوٹ کھا تو نہیں جا رہا ہے۔ ایسے روزہ دار جو جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہیں چھوڑتے ۔ ان کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ ان کا بھوکا پیاسا رہنا اللہ کو کوئی حاجت نہیں۔ جھوٹ بولنا تو ہر کس ناکس کو سمجھ میں آجاتا ہے مگر جھوٹ پر عمل کرنا ہر ایک کی سمجھ میں نہیں آتا اور جس کی سمجھ میں آجاتا ہے، اسے مشکل سے چھوڑتا ہے۔ وعدہ کرکے بھی مکر جاتا ہے۔ چھوڑنا اس کیلئے نا ممکن العمل بن جاتا ہے۔ اس لئے جھوٹ پر عمل کرنے کی بات کو اچھے سے سمجھ لینا چاہئے کیونکہ یہ ایسا گناہ ہے جو ساری برائیوں اور گناہوں پر حاوی ہوتا ہے۔ اس بات پر غور کیجئے :
’’اگر ایک آدمی نے دوسرے کا مال ناحق ہتھیا لیا ہو تو اس نے در حقیقت ایک جھوٹ پر عمل کیا ہے۔ مال اس کانہیں تھا لیکن اس نے اسے اپنا سمجھ کر یا اپنا قرار دے کر یا یہ فیصلہ کرکے اب یہ میرا ہونا چاہئے، اس پر قبضہ کر لیا تو اس کی یہ چوری در اصل ایک جھوٹ ہے جس پر اس نے عمل کیا۔
اسی طرح جو آدمی کسی کو قتل کرتا ہے وہ اصل میں جھوٹ پر عمل کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو اس بات کا حق دار فرض کرلیتا ہے کہ چونکہ فلاں شخص نے میرا قصور کیا ہے اس لئے میں اس کا قتل کرسکتا ہوں، حالانکہ اسے اس بات کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ اس طرح درحقیقت وہ جھوٹ پر عمل کرتا ہے۔ آپ غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ایک آدمی جتنے گناہ بھی کرتا ہے خواہ وہ براہ راست خدا کی نافرمانی کے گناہ ہوں یا بندوں پر ظلم و زیادتی کے گناہ ہوں، دونوں شکلوں میں درحقیقت ہر گناہ ایک جھوٹ ہے۔ اسی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کسی آدمی نے روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس بات کی کوئی حاجت نہیں کہ اس کا کھانا پینا ترک کرادے کیونکہ اس سے روزے کا اصل مقصد فوت ہوجاتا ہے‘‘۔
جس طرح روزہ کے بارے میں بات کہی گئی ہے یہی بات ہر عبادت پر صادق آتی ہے۔ اگر وہ نماز پڑھتا ہے یا کسی اور عبادت کا پابند ہے مگر وہ جھوٹ پر عمل کرنا نہیں چھوڑتا تو اس کی وہ عبادت جو اس کی نظر میں بہت بڑی اور اہم چیز ہے وہ اللہ کے نزدیک کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ اللہ کو کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ جس کیلئے عبادت کی جارہی ہے، جس کو خوش کرنے اور راضی کرنے کیلئے عبادت کی مشقتیں اٹھائی جارہی ہیں وہ ایسی عبادت کو بیکار اور بے معنی قرار دیتا ہے تو جو چیز بے معنی ہوجائے اسے کرنے سے پہلے بار بار سوچنا چاہئے اور کرنے کے بعد سوبار سوچنا چاہئے۔ یہ معاملہ تو جھوٹ کا ہے۔
منافقت: یہ انتہائی بری چیز ہے، اس عمل کو بھی کوئی پسند نہیں کرتا اور ایسے شخص کو جو منافقت کرتا ہے یا اس کا عادی ہوتا ہے اسے ہر شخص ناپسند کرتا ہے اور وہ بھی یعنی کرنے والا بھی اپنے آپ کو دھوکہ دیتا ہے اور اپنے آپ سے لڑتا ہے۔ قرآن مجید میں بتایا گیا ہے کہ منافق جہنم میں سب سے نیچے کے درجے میں رہے گا یعنی اس کی سزا کافر اور مشرک سے بھی بدتر ہوگی۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ منافق کافر اور مشرک سے بھی بدتر ہوتا ہے۔ ایک حدیث میں کہا گیا ہے کہ:
’’منافق کی تین نشانیاں ہیں، اگر چہ وہ نماز پڑھتا ہو اور روزہ رکھتا ہو اور مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہو۔ یہ کہ جب بولے تو جھوٹ بولے اور جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے اور جب کوئی امانت اس کے سپرد کی جائے تو اس میں خیانت کر گزرے‘‘۔ (بخاری و مسلم)
ایک دوسری حدیث میں منافق کی چار صفتیں بیان کی گئی ہیں:
’’چار صفتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں وہ چاروں پائی جائیں تو وہ خالص منافق ہے اور جس میں کوئی ایک صفت ان میں سے پائی جائے تو ا سکے اندر نفاق کی ایک خصلت ہے، جب تک کہ وہ اسے چھوڑ نہ دے۔ یہ کہ جب امانت اس کے سپرد کی جائے تو ا س میں خیانت کرے اور جب بولے تو جھوٹ بولے اور جب عہد کرے تو ا س کی خلاف ورزی کرجائے اور جب لڑے تو اخلاق و دیانت کی حدیں توڑ ڈالے‘‘۔ (بخاری و مسلم)
ہر ایک کو خاص طور سے جو مسلمان ہیں انہیں غور کرنا چاہئے اپنے آپ پر کہ کہیں ان میں سے کوئی ایک صفت اس میں موجود تو نہیں ہے اور کہیں چاروں صفتیں تو نہیں پائی جاتی ہیں۔ اگر چاروں پائی جائیں یا ایک یا دو پائی جائیں تو سوچنا چاہئے، خوب سوچنا چاہئے کہ میری عبادتوں کا کیا حشر ہوگا؟
علم و جہالت: قرآن مجید میں ایک جگہ نہیں کئی جگہ علم کی اہمیت اور علم کی فضیلت کا ذکر ہے۔ سورہ فاطر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہے۔ نہ تاریکیاں اور روشنی یکساں ہیں۔ نہ ٹھنڈی چھاؤں اور دھوپ کی تپش ایک جیسی ہے اور نہ زندے اورمردے مساوی ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے سنوارتا ہے مگر (اے نبیؐ) تم ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں مدفون ہیں‘‘۔ (آیت 20-22)
سورہ فاطر کی 20 تا 22 آیتوں میں جہاں علم اور اسلام کی عظمت اور فضیلت کا ذکر ہے وہیں کفر اور جہالت کی بھی شدید مذمت ہے۔ مومن کو زندہ سے اور جاہل کو کافر کو مردہ سے تشبیہ دی گئی ہے؛ یعنی علم اور ایمان (مومن) والے کے اندر احساس و ادراک اور فہم و شعور ہوتا ہے ۔ اس کا ضمیر اسے بھلے اور برے کی تمیز سے ہر وقت آگاہ کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جو جاہل، بے علم اور بے ایمان ہوتے ہیں وہ شخص تعصب اور جہالت میں پورے طور پر گرفتار ہوتا ہے۔ اس کا حال اندھے سے بھی بدتر ہوتا ہے جو تاریکیوں میں بھٹک رہا ہوتا ہے اور اس کی حالت مردے سے بھی بدتر ہوتی ہے جس میں کوئی حِس باقی نہیں رہتی۔
علم و ایمان سے انسان کو تہذیب اور سلیقہ معلوم ہوتا ہے۔ جینے یا زندگی گزارنے کا طریقہ جانتا ہے لیکن جو علم و ایمان سے محروم ہوتا ہے وہ تہذیب اور سلیقۂ زندگی سے محروم ہوتا ہے؟ تہذیب کیا ہے، احترام آدمیت۔ احترام کے بنیادی تصور کے مطابق علم اپنی عظمت و اہمیت کی رو سے اس بات کا متقاضی ہے۔ اس کی ضد جہالت کا مکمل خاتمہ ہے جس طرح علم و ایمان لازم و ملزوم ہے اسی طرح جہالت و کفر لازم و ملزوم ہے۔ قرآن نے جہالت کے انہی تباہ کن نتائج کی بنا پر اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ جہالت اور ایمان کو ایک دوسرے کی ضد قرار دیتا ہے۔ یہاں تک کہا گیا ہے کہ جاہلوں کے پاس اگر فرشتے بھیج دیئے جاتے اور مردے ان سے باتیں کرتے اور دنیا بھر کی چیزوں کو ہم ان کی آنکھوں کے سامنے جمع کر دیتے جب بھی ایمان لانے والے نہ تھے‘‘۔ (سورہ الانعام: آیت 111)۔
حضرت نوح علیہ السلام کے علمی اور عقلی دلائل کو جب ان کی قوم پر کوئی اثر نہ ہوا تو انھوںنے ا س کا سب سے بڑا سبب یہی بیان کیا کہ مجھے نظر آرہا ہے کہ تم وہ لوگ ہو جو جہالت میں مبتلا ہو۔ ولٰکنی اراکم قوماً تجہلون۔ (29-11)
حضرت لوط علیہ السلام کے مطابق ان کی قوم بھی جہالت کی وجہ سے ایمان لانے سے قاصر رہی۔ انتم قوم تجہلون۔ (55-17)
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کے کفر پر جمے رہنے کا سبب ان کی جہالت ہی بیان کیا تھا: قال انکم قوم تجہلون (137:7)
جہالت اتنی تباہ کن اور خوف ناک چیز ہے کہ شعور تو شعور لاشعوری میں بھی اس سے ہوشیار رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔ خود سید الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: فلا تکونن من الجاہلین۔ (35:6) ’’دیکھئے؛ آپ جاہلوں میں سے نہ ہونا‘‘۔ جہالت کی انہی تباہ کاریوں کا نتیجہ تھا کہ حضرت موسیٰؑ جیسے جلیل القدر پیغمبر جہالت سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے: قال اعوذباللہ ان اکون من الجاہلین۔
قرآن مجید سے تو یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جہالت کفر سے بھی بری چیز ہے، اس لئے اکثر جگہ جاہلوں کو لاعلاج قرار دیتے ہوئے ان سے اعراض کرنے کی ہدایت کی گئی ہے: و اعرض عن الجاہلین۔ (199:7)

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS