دوسری لہر کے اثرات

0

جینتی لال بھنڈاری

ملک کورونا کی دوسری لہر کے سبب سنگین بحران میں ہے۔ اس کا اثر معیشت سے لے کر معاشرے کے سبھی حصوں پر پڑا ہے۔ آبادی کا ہر طبقہ انفیکشن کی مار جھیل رہا ہے۔ اس سے پیدا ہوئے حالات نے زندگی خطرے میں ڈال دی ہے۔ ملازمت پیشہ لوگوں سے لے کر روز کمانے کھانے والوں تک کی حالت قابل رحم ہوچکی ہے۔ وبا کے برے اثرات نے چھوٹے بڑے کاروباروں تک کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ ایسے میں یقینی طور پر کروڑوں لوگوں کے معاش/روزی روٹی پر اثر پڑا ہے۔ ویسے یہ سب سال بھر سے چلا آرہا تھا۔ حالاں کہ کچھ مہینے پہلے اشارے ملنے لگے تھے کہ حالات اب قابو میں آرہے ہیں۔ لیکن دوسری لہر نے مزید تگڑا جھٹکا دے دیا۔ اب وبا کے ساتھ مہنگائی بھی لوگوں کو رلا رہی ہے۔ ایسے میں گھروں کا بجٹ بری طرح سے بگڑ گیا ہے۔ اندازے کے مطابق کورونا سے تباہ معیشت نے کروڑوں لوگوں کو غریبی میں دھکیل دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ایک سال میں لوگوں کی آمدنی پر کافی اثر پڑا ہے۔ سب سے زیادہ متوسط طبقہ کی آمدنی کم ہوئی ہے۔ بحران زدہ حالات سے نمٹنے کے لیے زیادہ تر لوگوں کو بینکوں میں جمع اپنی سیونگ سے کام چلانے کے لیے مجبور ہونا پڑا کیوں کہ ان کے پاس اور کوئی طریقہ نہیں رہ گیا تھا۔ یہی خطرہ پھر منڈلانے لگا ہے۔ آمدنی میں ایک مرتبہ پھر گراوٹ آنے اور پرائیویٹ سیکٹر کے مہنگے صحت سے متعلق خرچ کی وجہ سے متوسط طبقہ غریب طبقہ میں شامل ہونے سے صرف کچھ قدم ہی دور ہے۔ غور طلب ہے کہ امریکہ کے پیوریسرچ سینٹر نے ایک مطالعہ میں ہندوستان کے متوسط طبقہ کی تعداد میں کمی آنے کی بات کہی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق وبا کے سبب پیدا معاشی بحران سے ایک سال کے دوران ہندوستان میں متوسط طبقہ کے لوگوں کی تعداد تقریباً 10کروڑ سے کم ہوکر ساڑھے 6کروڑ رہ گئی ہے اور ساڑھے تین کروڑ لوگ غریبی کی دلدل میں چلے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق روزانہ 10سے 20ڈالر یعنی تقریباً 700سے 1500روپے روزانہ کمانے والے کو متوسط طبقہ میں شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین میں کورونا انفیکشن کے سبب گزشتہ ایک سال میں درمیانی آمدنی والے طبقہ کی تعداد تقریباً ایک کروڑ ہی کم ہوئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی کنبوں پر قرض کے بوجھ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

ایم ایس ایم ای کو بحران سے ابھارنے کے لیے ضروری ہے کہ جی ایس ٹی کی پیچیدگیوں کو ختم کرے۔ چھوٹی اور مجھولی صنعتوں کو پھر سے کھڑا کرنے کے لیے حوصلہ افزائی اور ٹیکس میں راحت کی سخت ضرورت ہے اور یہ وقت کی ڈیمانڈ بھی ہے۔ جب اس سیکٹر کی صنعتوں میں جان آئے گی تبھی متوسط طبقہ کو کاروباری طاقت ملے گی۔

ملک کی معیشت کی ریڑھ کہے جانے والا مائیکرو، اسمال اور میڈیم اسکیل سیکٹر(ایم ایس ایم ای)بھی قابل رحم حالت میں ہیں۔ دوسری لہر سے نمٹنے کے لیے ایک مرتبہ پھر سے کئی ریاستوں میں لاک ڈاؤن اور جزوی بندی جیسے قدم اٹھائے جارہے ہیں۔ اس سے ملک کی مینوفیکچرنگ سرگرمیوں اور ہیلتھ شعبہ کی رفتار سست پڑگئی ہے۔ پروڈکشن چین پھر متاثر ہونے لگی ہے۔ اس سے چھوٹی صنعتوں-کاروباروں کے چیلنجز میں اضافہ ہوگیا ہے۔ حالاں کہ کورونا کی پہلی لہر کے سبب لاکھوں چھوٹے صنعت کار تو ابھی تک بھی معاشی و روزگار سے متعلق پریشانیوں سے ابھر نہیں پائے ہیں اور ایسے میں پھر دوسری لہر نے ان کی مشکلیں بڑھا دی ہیں۔ ڈیٹا کمپنی-ڈن اینڈ بریڈاسٹریٹ نے وبا کے سبب ہندوستان کی چھوٹی صنعتوں کے بحران پر شائع رپورٹ میں کہا ہے کہ 82فیصد چھوٹی صنعتیں-کاروبار کمپنیوں پر وبا کا برا اثر پڑا ہے۔ سب سے زیادہ مینوفیکچرنگ اور صحت کے شعبہ کی چھوٹی کمپنیاں متاثر ہوئی ہیں۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ہندوستان وبا سے سب سے بری طرح متاثر ملک کے طور پر اُبھرا ہے۔ اب دوسری لہر میں معاملات میں اضافہ کے ساتھ مختلف ریاستوں میں لاک ڈاؤن اور سخت پابندیاں جیسے اقدام کا معیشت پر زبردست اثر پڑا ہے۔ آمدنی کم ہونے کے ساتھ ڈیمانڈ غائب ہوگئی ہے۔ سروے میں شامل 70فیصد کمپنیوں نے کہا کہ انہیں کووڈ-19سابقہ ڈیمانڈ کی سطح پر پہنچنے کے لیے تقریباً ایک سال لگے گا۔ اسی طرح 22اپریل کو ریزرو بینک آف انڈیا کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے کہا کہ رواں مالی سال 2021-22 میں کورونا کی دوسری لہر ہندوستانی معیشت کی ریکوری کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔
آمدنی پر اثر پڑنے سے متوسط طبقہ بحران میں ہے۔ جہاں گھر سے کام کی وجہ سے ٹیکس میں چھوٹ کے کچھ ذرائع کم ہوگئے، وہیں بڑی تعداد میں لوگوں کے لیے ڈیجیٹل تکنیک، براڈ بینڈ، بجلی کا بل جیسے خرچوں کی ادائیگی میں اضافہ سے آمدنی پر اثر پڑا ہے۔ بچوں کے تعلیمی نظام سے متعلق تبدیلیوں نے بھی خرچ میں اضافہ کیا ہے۔ لاکھوں لوگوں نے گھر، گاڑی یا دوسری ضرورتوں کے لیے جو قرض لے رکھے ہیں، ان کی قسطیں چکانا بھاری پڑرہا ہے۔ حالاں کہ وزیرمالیات نرملا سیتارمن نے صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچہ اور شیئر بازار کی حوصلہ افزائی کے لیے بجٹ میں کئی مراعات کو یقینی بنایا ہے۔ لیکن اس بجٹ میں چھوٹے انکم ٹیکس دہندگان اور متوسط طبقہ کی امیدیں پوری نہیں ہوئی ہیں۔ کورونا کے سبب پیدا ہوئے معاشی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے آتم نربھر ہندوستان مہم کے تحت متوسط طبقہ کو کوئی خاص راحت نہیں ملی ہے۔
یہاں یہ بھی اہم ہے کہ گزشتہ ایک سال میں متوسط طبقہ کے سامنے ایک بڑی فکر بچت اسکیموں اور بینکوں میں ایف ڈی پر شرح سود کم ہونے سے متعلق بھی رہی ہے۔ حکومت نے یکم اپریل 2021سے کئی بچت اسکیموں پر شرح سود مزید کم کردی تھی، لیکن اچانک ہی یہ فیصلہ واپس بھی لے لیا۔ حکومت کے ذریعہ بچت اسکیموں پر شرح سود کم کرتے ہوئے بینک جمع پر سود چار سے کم کرکے 3.5فیصد سالانہ کردیا گیا تھا۔ سینئر شہریوں کے لیے بچت اسکیموں پر واجب الاداسود 7.4 فیصد سے کم کرکے 6.5فیصد کردیا گیا تھا۔ نیشنل سیونگز سرٹیفکیٹ پر واجب الادا سود 6.8فیصد سے کم کرکے 5.9فیصد اور پی پی ایف پر واجب الادا سود 7.1فیصد سے کم کرکے 6.4فیصد کردیا گیا تھا۔ سود کی شرحوں میں کمی سے ملک کی اس بڑی آبادی کی آمدنی بری طرح متاثر ہورہی ہے جس کی آمدنی کا واحد ذریعہ چھوٹی بچتوں پر سرمایہ کاری سے ملنے والا سود ہی ہوتا ہے۔
ایم ایس ایم ای کو بحران سے ابھارنے کے لیے ضروری ہے کہ جی ایس ٹی کی پیچیدگیوں کو ختم کرے۔ چھوٹی اور مجھولی صنعتوں کو پھر سے کھڑا کرنے کے لیے حوصلہ افزائی اور ٹیکس میں راحت کی سخت ضرورت ہے اور یہ وقت کی ڈیمانڈ بھی ہے۔ جب اس سیکٹر کی صنعتوں میں جان آئے گی تبھی متوسط طبقہ کو کاروباری طاقت ملے گی۔ اس وقت کئی ریاستوں میں جزوی بندی کے سبب ایم ایس ایم ای متاثر ہورہی ہے۔ انہیں ایک مرتبہ پھر سے سود راحت کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ کورونا متاثر ریاستوں میں ایم ایس ایم ای کو فروخت ہوئے مال کی کافی ادائیگی نہیں ہوپارہی ہے۔ اس سے کام چلانے کے لیے سرمایہ کی کمی ہوگئی ہے۔ اگر حکومت نے وقت رہتے مناسب قدم نہیں اٹھائے تو کئی صنعتوں کے سامنے این پی اے فہرست میں آجانے کا خطرہ ہے۔ معلوم ہو کہ حکومت نے خوردہ قرض (Retail loan) لینے والوں سمیت ایم ایس ایم ای کو گزشتہ مالی سال میں کورونا دور میں مارچ سے اگست کے 6ماہ کے لیے قرض کی قسطوں اور سود کی ادائیگی کے لیے وقت دیا تھا۔ تب تقریباً 30فیصد ایم ایس ایم ای نے اس سہولت کا فائدہ اٹھایا تھا۔
(بشکریہ: جن ستّا)

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here