مفت اسکیموں کا کلچر

0

دیکھتے دیکھتے مفت ریوڑیاں جیت کا سب سے بڑا انتخابی حربہ بن گئیں، جبکہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے ۔کوئی بھی سیاسی پارٹی یا حکومت خواہ کچھ کہے ۔ انتخابات میں اس کا سہاراسبھی پارٹیاں لے رہی ہیں اوررائے دہندگان بھی دھیرے دھیرے اس کے عادی ہوتے جارہے ہیں۔ اب انتخابی ایشوز اور سرکار کی کارکردگی پر توجہ کم دی جارہی ہے ، لوگ یہ دیکھ رہے ہیں کہ کون سی پارٹی سب سے زیادہ نہ صرف مفت ریوڑیوں کی بات کررہی ہے بلکہ وعدوں کی تکمیل کا اس کاپرانا ریکارڈ کیساہے ۔اس طرح انتخابی ہارجیت میں مفت ریوڑیوں کا بہت بڑا رول نظر آرہا ہے ۔مفت ریوڑیاں ان پارٹیوں کیلئے مصیبت بن رہی ہیں جو انتخابی وعدے کرکے بھول جاتی ہیں یا ان سے مکر جاتی ہیں۔لیکن جو پارٹیاں ان کا وعدہ کرتی ہیں اور اقتدار میں آنے کے بعد مفت ریوڑیاں تقسیم کرتی ہیں ، ایک ریاست میں ان کے ماڈل کو دیکھ کر دوسری ریاست میں بھی اس کو ووٹ مل رہے ہیں ۔عام آدمی پارٹی نے ملک کی راجدھانی دہلی مفت بجلی اورخواتین کیلئے بسوں میں مفت سفر اورمحلہ کے اندر ہی آسانی سے مفت علاج کاماڈل پیش کیا اوراسی ماڈل کے نام پر پنجاب میں ووٹ مانگا تو وہاں بھی جیت گئی اوروہاں بھی اس ماڈل کونافذ کردیا ۔ان 2ریاستوں میں اپنی حکومت کے کاموں کو پیش کرکے گجرات اورگوامیں ووٹ مانگا تو وہاں بھی جیت درج کرکے قومی پارٹی کا درجہ حاصل کرلیا ۔ کانگریس نے ہماچل پردیش میں 300 یونٹ مفت بجلی اوردیگر وعدوں کے ساتھ پرانی پنشن اسکیم کی بحالی کا وعدہ کیا تو وہاں اس نے بی جے پی سے حکومت چھین لی ۔اس نے اس اسکیم کو ہماچل پردیش اورچھتیس گڑھ میں نافذ کرکے ایک ماڈل پیش کیا پھر کرناٹک میں 5گارنٹی اور دیگر مفت ریوڑیوں کے ساتھ اسے پیش کیا اور بسوراج سرکارکی ناکامیو ں کو اجاگر کیا تو وہاں بھی بڑی جیت حاصل کی ۔ ہماچل پردیش اورکرناٹک میں جیت کے بعد اب کانگریس نے مدھیہ پردیش اورہریانہ میں 500 روپے میں سلنڈر اورمفت بجلی کا وعدہ کردیا اوروہاں بھی مفت ریوڑیوں کے سہارے بی جے پی سے اقتدارچھیننے کی انتخابی حکمت عملی تیار کررہی ہے ۔

گزشتہ 5برسوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات کو دیکھا جائے تو و کسی بھی پارٹی کی جیت میں مفت ریوڑیوں کا اہم رول رہا ہے ۔ اسمبلی انتخابات ہی کیا 2014کے پارلیمانی انتخابات میں کالے دھن کی واپسی ، 15لاکھ روپے اورہرسال 2کروڑ روزگاردینے کا وعدہ رائے دہندگان کیلئے کافی پرکشش ثابت ہوا تھا۔مفت کووڈ ٹیکہ کے نام پر بہار میں ووٹ مانگا گیااورمفت راشن اسکیم کی مدت میں توسیع بھی انتخابی فائدے کو سامنے رکھ کر کی جاتی رہی ۔ اس کا کریڈٹ لے کر الیکشن میں ووٹ مانگا گیا اورلوگوں نے ووٹ بھی دیا ۔ ہماچل پردیش ،کرناٹک سے پہلے دہلی، اترپردیش ، بہار ، پنجاب ، تملناڈو اورمغربی بنگال میں مفت اسکیموں کے نام پر پارٹیوں کو خوب ووٹ ملے ۔ ہر پارٹی اپنی مفت اسکیم کو لوگوں کی ضرورت اوردوسرے کی مفت اسکیم کو غلط اورملک کی معیشت پر بوجھ بتاتی ہے، لیکن جس پارٹی کو جہاں موقع ملتا ہے، اس سے فائدہ اٹھاتی ہے اورجہاں فائدہ نہیں پہنچتا ، غلط بتانے لگتی ہے ۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں گیا ، جہا ں یکم نومبر 2022کو آخری سماعت ہوئی تھی اس وقت کے چیف جسٹس یویوللت نے معاملہ کی سماعت کیلئے بنچ بنانے کی بات کہی تھی ۔ کورٹ نے اس کے خلاف سخت رائے زنی کرتے ہوئے اس بات کیلئے الیکشن کمیشن کی سرزنش کی تھی کہ وہ خود اس کی روک تھام کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے۔ایک طرح سے مفت اسکیموں کے وعدے کو روکنابھی مجرمانہ پس منظر رکھنے والوں کو الیکشن لڑنے سے روکنے کی طرح ہوگیاہے۔جب مفت ریوڑیوں کی کوئی قانونی تعریف نہیں ہے تو اسے کس طرح روکا جاسکتا ہے ۔ سب سے بڑا سوال یہی ہے ۔

سپریم کورٹ میں معاملہ کے زیرالتورہنے کے دوران 8ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہوئے اورہر ریاست میںہر پارٹی نے رائے دہندگان کو خوش کرنے اور ووٹ حاصل کرنے کیلے اس حربہ کو آزمایا ، جس کو لوگوں نے بھروسے کے قابل سمجھااسے ووٹ دیا ۔جس کو ووٹ نہیں ملا وہ یہی کہتا ہے کہ کیسے سرکار مفت اسکیموں کے وعدے پورے کرے گی ، جبکہ سرکاروں نے پورے کرکے دکھا دیئے ۔ دراصل لو گ اب یہ دیکھ رہے ہیں کہ جیت کے بعد منتخب نمائندوں کی دولت اورجائیداد تو بڑھتی ہے اوران پر سرکار بھی خوب خرچ کرتی ہے ،لیکن عوام کو کچھ نہیں ملتا ، اس لئے اب وہ بھی سرکارسے مفت اسکیمیں چاہنے لگے ہیں ۔ وہ باتوں اورتقریروں پر کم اور مفت اسکیموں پر زیادہ توجہ دینے لگے ہیں ۔مفت اسکیموں کا کلچر جس تیزی سے بڑھ رہا ہے ،کوئی بعیدنہیں کہ مستقبل میں یہ لوگوں کی ضرورت اور سیاسی پارٹیوں کیلئے مجبوری بن جائے ۔
[email protected]