ملک اور سماج کو درد مند دل کے حامی مسیحا کی ضرورت

0

عبدالماجد نظامی

تقسیم ہند کے نتیجہ میں ملک عزیز میں کتنی جانیں گئیں اور کتنی ماں بہنوں کی عصمت دری کی گئی اور انسانیت شرمسار ہوئی اس کا کوئی صحیح ڈاٹا تاریخ میں درج نہیں ہے اور اس کا امکان بھی نہیں تھا کہ درندگی و حیوانیت کا جو ننگا ناچ اس وقت جاری تھا، اس کے شکار ہونے والوں کی تمام تفصیلات کو یکجا کیا جائے۔ البتہ مورخین نے مختلف مصادر سے واقعات و حادثات کے اعداد و شمار اکٹھا کیے ہیں، ان کے مطابق کم و بیش دس لاکھ لوگ اس سیاہ مرحلۂ تاریخ کا شکار ہوئے اور اس حادثہ سے لگنے والے گہرے زخم کی ٹیس کئی نسلوں تک محسوس ہوتی رہی اور آج بھی تقسیم ہند کی اس گرم ہوا سے سانسوں میں گھٹن کی کیفیت محسوس ہونے لگتی ہے۔ تاریخ کے اس واقعہ میں آج بھی اتنا درد پنہاں ہے کہ جب مارول نے پہلی بار جنوبی ایشیا کو اپنے سُپر ہیرو سریز کے لیے موضوع بنایا جس میں مارول کے سپر ہیروز کی تاریخ میں پہلی بار کلیدی کردار ایک مسلم لڑکی نبھا رہی ہے تو اس نے اپنے چوتھے اپیسوڈ میں تقسیم ہند کی ٹریجڈی کو بڑے موثر انداز میں پیش کیا۔ اس اپیسوڈ کو دیکھنے والے ہندوستانی اور پاکستانی عوام نے یکساں طور پر ان واقعات کے ساتھ اپنا رشتہ محسوس کیا اور متاثر ہوئے بنا نہیں رہ پائے۔ تقسیم ہند کے نتیجہ میں رونما ہونے والے واقعات اتنے بھیانک تھے اور انسانیت کو اس قدر شرمسار کر دینے والے تھے کہ کوئی بھی شخص یہ نہیں چاہے گا کہ ہندوستان پھر سماجی تقسیم اور انتشار کے اسی مرحلہ سے دوبارہ گزرے اور اس کی بھاری قیمت ایک بار پھر چکائے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ان دنوں جب ہر طرف قتل و خون کا چرچا تھا اور ایک پڑوسی اپنے دوسرے پڑوسی کے خون کا پیاسا ہوگیا تھا تب گاندھی جی نے عوام میں اپنی مقبولیت اور عدم تشدد کے اپنے فلسفہ کا بہت موثر ڈھنگ سے استعمال کیا تھا۔ باوجودیکہ وہ سیاست کے جھمیلوں سے بہت حد تک دور ہوگئے تھے اور ایک روحانی رہنما کی حیثیت سے زندگی گزار رہے تھے لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ بنگال میں فرقہ واریت پر مبنی قتل و خون کا سلسلہ جاری ہے اور تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے تو انہوں نے اپنی اولین ذمہ داری یہ محسوس کی کہ اس پاگل پن کے خلاف پوری قوت کے ساتھ آواز اٹھائی جائے اور عملی اقدام کیا جائے۔ انہوں نے یہ اعلان کر دیا کہ وہ تب تک بھوک ہڑتال کریں گے جب تک قتل و غارت گری کا سلسلہ تھم نہیں جاتا۔ لوگوں میں بڑا غصہ تھا۔ انہوں نے گاندھی جی کو بھوک ہڑتال سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ بعض علاقوں سے انہیں دھمکیاں بھی ملیں۔ لیکن اس عزم محکم کے سپاہی نے اپنے اصول کی خاطر قربان ہوجانے کو قبول کیا اور یہ منادی کروادی کہ جس کا جی چاہے مجھے قتل کردے لیکن میں اپنی زندگی میں اس برادرکشی کی تہذیب کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہوں۔ اس وقت بنگال میں فرقہ واریت کا جو جنون سر چڑھ کر بول رہا تھا، اس کے پیش نظر یہ بڑی جرأت کی بات تھی کہ گاندھی جی نے خود کو اس معاملہ میں جھونک دیا۔ لوگ جنونی ضرور تھے لیکن انہیں گاندھی جی سے پیار بھی تھا۔ ان کی انسانیت نوازی اور روحانی قوت کے سامنے آخر کار باہم دست و گریباں عناصر کو سرینڈر کرنا پڑا۔ گاندھی جی کی بھوک ہڑتال کے بعد دو چار دنوں میں ہی بنگال کا ماحول اچھا ہونے لگا۔ لوگوں نے برادر کشی کے ہتھیار اپنے ہاتھوں سے پھینک دیے اور دوبارہ اس انسانیت سوز حرکت کی طرف نہ لوٹنے کا عہد کیا۔ عوام کے سر سے جب مذہبی جنون کا بخار اترا اور انہیں اپنی غلطیوں کا احساس ہوا تو ایک علاقہ میں جب جواہر لعل نہرو گشت کر رہے تھے، وہاں کے لوگوں نے نہرو جی سے کہا کہ یہ آپ لوگوں نے کیا کر دیا؟ بھائی کو بھائی کے ہاتھوں قتل کروا دیا؟ ہم ہندو مسلمان صدیوں سے ایک ساتھ شیر و شکر ہوکر رہتے آئے تھے۔ ہم میں کبھی عداوت و بیگانگی کا عنصر نہیں پایا جاتا تھا۔ آپ لیڈروں نے ہمیں اس حال میں پہنچا دیا۔ نہروجی جو خود ہندوستان کو ایک اکائی میں پرو کر رکھنے کی انتھک کوشش کر رہے تھے اور قتل و خون کے ماحول کو دہلی سے لے کر پنجاب اور بنگال تک ٹھنڈا کرنے میں ہمہ تن مصروف تھے کچھ بھی کہہ نہیں پائے۔ ادھر گاندھی جی نے جب بنگال کی حالت بہتر ہونے پر اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی تو انہیں دہلی کی شدید فکر لاحق ہوئی جہاں ہر طرف قتل کا ماحول تھا اور بڑی تعداد میں مسلمان ہجرت کرنے کے لیے اپنے گھروں کو چھوڑ کر پناہ گزیں کیمپوں میں جمع ہو رہے تھے تاکہ کسی طرح جان بچا کر وہ پاکستان پہنچ جائیں کیونکہ لاہور سے لٹ پٹ کر آنے والے سِکھ اور ہندوؤں کا بدلہ دلی اور پنجاب کے مسلمانوں سے لیا جا رہا تھا اور درندگی اپنے انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ ایسے ماحول میں گاندھی جی نے دلی کے اندر بھی بھوک ہڑتال کا اعلان کیا۔ نہرو، ماؤنٹ بیٹن اور دیگر لیڈران نے انہیں حالات کی سنگینی اور ان کی گرتی صحت کے پیش نظر ایسا کرنے سے منع کیا لیکن گاندھی جی نے آخری دم تک اس ملک کو جوڑے رکھنے اور ہندو-مسلم اتحاد کی خاطر اپنی جان تک قربان کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ بنگال کے مقابلہ میں پنجاب اور دلی میں برادر کشی بلکہ واضح الفاظ میں کہا جائے تو مسلم کشی کا ماحول زیادہ بگڑا ہوا تھا۔ اس کے باوجود گاندھی جی نے بھوک ہڑتال کرنے پر زور دیا۔ انہیں اس بات کا احساس تھا کہ جس طرح بنگال کے اندر عوام کو اپنی غلطیوں کا احساس ہوا اور وہ قتل و خون اور نفرت و عداوت کے اثرات سے باہر نکل پائے ویسا ہی دلی میں بھی ممکن ہے۔ گاندھی جی جو عوام کے مزاج شناس تھے یہاں بھی حق بجانب ثابت ہوئے اور تب تک انہوں نے اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھی جب تک ہندوؤں اور سکھوں نے اس بات کا پختہ عہد نہیں کرلیا کہ مسلمانوں کی جان و مال کی حفاظت ہوگی اور انہیں کوئی گزند نہیں پہنچایا جائے گا۔ آج بھی اس ملک کو ایسے ہی دلِ درد مند کے حامل مسیحا کی ضرورت ہے جو اس ملک میں امن و آشتی کی فضا کو بحال کرے۔ فرقہ واریت پر مبنی نفرت و عداوت کا جو طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے، اس کے گرداب میں پورا معاشرہ پھنس گیا ہے اور اس سے نکلنے کی بظاہر کوئی صورت نظر نہیں آتی ہے۔ اس وقت ملک کو ایسے قائد کی ضرورت ہے جو دستور ہند میں محفوظ جمہوری قدروں کی روشنی میں یہاں سیکولرزم کی روح کو بحال کرے۔ جو دل نفرت و مایوسی سے بھرچکا ہے اور جن دماغوں میں غم و غصہ نے اپنی جگہ بنا لی ہے، ان میں محبت و رواداری اور اخوت و محبت کے احساسات کو جگایا جائے۔ ہمیں ایسے رہنما کی ضرورت ہے جو گاندھی جی کے اصولوں پر صحیح معنی میں گامزن ہو اور جو قرآن پاک و بائبل اور گیتا و پران کا یکساں احترام کرنا جانتا ہو۔ جو اس اصول پر کارفرما ہو کہ مذہب پر عمل پیرا ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسرے مذہب اور اس کے ماننے والوں کو اپنا دشمن قرار دے اور اس کے خلاف ایک محاذ کھول دے۔ آج جس طرح مذہبی جنونیوں کے حملوں سے نہ انسانی جانیں محفوظ ہیں اور نہ ہی خدا کے برگزیدہ پیغمبر، اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگ نہ تو اپنے مذہب کی تعلیمات سے آشنا ہیں اور نہ ہی دستور کی سیکولر قدروں کی پاسداری ان کا مطمح نظر ہے۔ ان میں بس ایک ابلیسی روح حلول کرگئی ہے جو ہر وقت جنگ کی آگ بھڑکائے رکھنے اور دلوں میں دوریاں پیدا کرکے نفرت کا بازار گرم رکھنا چاہتی ہے۔ انہیں بالکل اندازہ نہیں ہے کہ ان کی اس انسانیت سوز حرکت سے نہ صرف عالمی سطح پر ملک کی شبیہ خراب ہو رہی ہے بلکہ خود اندرون ملک انتشار و بے چینی کا ماحول پیدا ہوتا ہے جس سے ملک کی ترقی کے راستے مسدود ہوتے ہیں۔ اس سلسلہ میں پہلی ذمہ داری حکمراں طبقہ پر عائد ہوتی ہے کہ وہ فرقہ واریت پر مبنی نفرت کی سیاست کا سلسلہ روک دے اور ملک کو قانونی بالادستی کی وسیع اور پرسکون فضا میں داخل کرے۔ جن طبقوں کو بلا وجہ ہراساں کیا جا رہا ہے ان میں اعتماد و یقین کی کیفیت پیدا کرے اور چند افراد کی غلطیوں کی سزا پوری قوم کو دے کر ملک کے قانون کا مذاق نہ بنائے۔ حکمراں طبقہ کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ وہ مکمل طور پر دستوری قدروں پر گامزن رہے گا اور ملک کے سیکولر مزاج کی حفاظت ہر حال میں کرے گا۔ ایسا کرنا ملک اور عوام کے حق میں یکساں طور پر مفید ثابت ہوگا۔
(مضمون نگار روزنامہ راشٹریہ سہارا کے گروپ ایڈیٹر ہیں)
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS