مانسون اجلاس میں ہنگامے

0

توقع کے عین مطابق پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس ہنگامہ خیز ثابت ہورہا ہے۔ حکمران جماعت کی دروغ گوئی پر حزب اختلاف کی جرح و تنقید کے سبب مقننہ کے دونوں ایوانوں میں ہنگامہ زوروں پر ہے۔ کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران آکسیجن کی کمی سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کو ڈاٹا کی عدم دستیابی کا بہانہ بناکر چھپالینے، اسرائیلی اسپائی ویئر پوگاسس کے ذریعہ حکومت کے ناقدین کی جاسوسی کرانے اور دیگر معاملات پر حزب اختلاف نے ایوان کے اندر حکومت کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے تو دوسری طرف ایوان کے باہر بھی حکومت کے خلاف مظاہرہ اور احتجاج کا طوفان آیا ہوا ہے۔ آج راجیہ سبھا میں نوبت یہاں تک آگئی کہ مواصلات کے وزیر مملکت اشونی وشنو کے ہاتھ سے ان کے بیان کی کاپی چھین کر ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ شانتنو سین نے پھاڑ ڈالی۔ جمعرات کے روز دودو بار التوا کے بعد جیسے ہی دوپہر2بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوئی راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے بیان دینے کیلئے مرکزی وزیر مملکت برائے مواصلات اشونی وشنو کا نا م پکارا، اسی وقت اپوزیشن ارکان چاہ ایوان تک پہنچ گئے اورنعرہ بازی شروع کردی، ان کے اس احتجاج اور نعرہ بازی کو ڈپٹی چیئرمین نے غیر پارلیمانی قرار دیتے ہوئے ایوان کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کردی۔لوک سبھا میں بھی بعینہٖ اسی طرح کا معاملہ پیش آیا اور وہاں بھی زرعی قانون کے حق میں حکومت کی جانب سے گڑھی جارہی تاویلات کو حزب اختلاف نے مسترد کردیا اور قانون واپس لینے کے مطالبہ پرا ڑے رہے جس کے بعد وہاں بھی کارروائی ملتوی کردی گئی۔ایوان کے اندر تو یہ منظر تھا دوسری جانب ایوان کے باہر بھی کانگریس حکومت کے خلاف مظاہرہ کررہی تھی۔کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کے ساتھ کانگریس کے تمام بڑے لیڈر متنازع زرعی قوانین کو واپس لینے کا بینر لیے ہوئے حکومت مخالف نعرے لگارہے تھے۔
اس سے پہلے کے دو د ن بھی ہنگاموں کی ہی نذر ہوگئے تھے، پہلے دن نئے ارکان کی حلف برداری کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نئے وزرا کا تعارف کرانے کیلئے کھڑے ہوئے تاہم حزب اختلاف کے شور وغل میں وہ ایوان سے نئے وزرا کا تعارف نہیں کراپائے۔ کارروائی شروع ہونے کے8منٹ بعد ہی ایوان میں نعرے بازی ہونے لگی اور اسپیکر نے کارروائی ملتوی کردی۔ دوسرے دن بھی اسرائیلی اسپائی ویئر پوگاسس فون جاسوسی کے معاملے پرحکومت کی جانب سے کوئی اطمینان بخش جواب نہ ملنے سے حزب اختلاف برہم رہا اور ایوان میں کوئی کام نہیں ہوسکا۔
روا ں مانسون اجلاس کے دوران جو کچھ دیکھنے میں آرہاہے، وہ کسی بھی لحاظ سے مستحسن نہیں کہاجاسکتا ہے۔ ایک ایسا ایوان جس میں تعلیم یافتہ اور پڑھے لکھے لوگوں کی معقول تعداد ہو، وہاں کسی ہنگامہ رست خیز کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ہے۔ایسا نہیں ہے کہ اس صورتحال کی ذمہ دار صرف حزب اختلاف ہوجس کا کام حکومت کے کام کاج میں کیڑا کاری کے سوا کچھ نہیں بلکہ حکمراں طبقہ ایوان کی اس بے حرمتی کا کہیں زیادہ ذمہ دار ہے۔ایوان کی کارر وائی کیلئے لازم ہے کہ اسپیکراور ڈپٹی چیئرمین کا کردار غیرجانبدار انہ ہواور یہ دنیا کو نظربھی آئے۔ حزب اختلاف کو سوال کرنے کا نہ صرف مناسب موقع ملنا چاہیے بلکہ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے سوالوں کا معقول جواب بھی دے۔حزب اختلاف کی گرفت و تنقید کو فراخ دلی سے برداشت کرے اورا یسا معتدل رویہ اپنا ئے جس میں تحمل و برداشت کی جھلک بھی ہولیکن دیکھایہ جارہاہے کہ حکومت حزب اختلاف کے سوالوں پر مشتعل ہوکر اسے سازش پر محمول کرنے لگتی ہے۔اسرائیلی اسپائی ویئر پوگاسس جاسوسی معاملے میں بھی حکومت کے رویہ سے یہی ظاہر ہورہاہے۔اس کا معقو ل سبب بتانے کے بجائے حزب اختلاف کو خاموش کرانے میں حکومت زیادہ وقت اور قوت صرف کررہی ہے۔ ایوان کے اندر اور باہر اس کے وزرا اور ارکان پوگاسس معاملے کو ہندوستان کے خلاف سازش قرار دے رہے ہیں۔ وزیرداخلہ امت شاہ کا فرمانا ہے کہ مانسون اجلاس سے عین قبل پوگاسس جاسوسی معاملے کا سامنا ایک سازش ہے تو دوسری جانب سابق وزیر مواصلات کی تاویل ہی کچھ اور ہے۔ روی شنکر پرساد کے نزدیک 45 دوسرے ممالک پوگاسس اسپائی ویئر کا استعمال کررہے ہیں تو ہندوستان کی حکومت کیلئے بھی اس کا استعمال کرکے حزب اختلاف کے رہنمائوں، صحافیوں اور سماجی کارکنوں کی ٹوہ لینا جائز ہے۔حکمراں جماعت کا یہ رویہ حزب اختلاف کو مشتعل کرنے کا سبب بن رہاہے جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی میں رخنہ اندازی ہورہی ہے۔
پارلیمانی اجلاس کا مقصد ملکی مسائل پر غور و خوض کے بعدان کا حل نکالنا ہو تا ہے۔حکومت کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف پر بھی اس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ قومی وسائل کے ایک بھاری بھرکم حصہ کی بھینٹ لینے والے ایسے اجلاس کو ہنگاموں کی نذر نہ ہونے دے، سوالوں کے جواب دینے میں حکومت کی پہلو تہی اور مختلف مسائل پر اتفاق رائے نہ ہونے کے باوجود میانہ روی کا دامن نہ چھوڑے اور پرامن انداز میں اپنی بات رکھے۔ حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا رویہ معتدل رکھے اور کسی بھی مسئلہ پر فرار ہونے اور اول جلول بیان بازی کے بجائے باقاعدہ بحث کرے اور حزب اختلاف کو اعتماد میں لے تب ہی پارلیمنٹ کے اجلاس بامقصد ہوں گے اور ایوان کا وقار بھی بحال رہے گا۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS