مسلمانوں کی بہتری کے امکانات بھی ختم : محمد فاروق اعظمی

0

محمد فاروق اعظمی

ہندوستان میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ دہلی سے گجرات تک کے مسلمانوں میں شدید عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوگیا ہے۔ سڑک سے ہاسٹل تک کوئی ایسی جگہ نہیں بچی ہے جہاں مسلمان خود کو محفوظ سمجھ سکیں اور اپنی مرضی کے مطابق اپنے مذہب پر عمل کریں۔ دہلی کی سڑک پر نماز پڑھ رہے مسلمانوں کو پیروںسے ٹھوکر مارنے کے واقعہ کی شرم ساری ابھی کم بھی نہیں ہوپائی تھی کہ گجرات یونیورسٹی کے ایک ہاسٹل میں نماز پڑھ رہے طلبا پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا جس میں کئی غیر ملکی طلبا کو شدید چوٹیں آئیں۔ اطلاع کے مطابق گجرات یونیورسٹی ہاسٹل کے بلاک اے عمارت میں ازبکستان، افغانستان، جنوبی افریقہ اور سری لنکا سے یہاں پڑھنے والے طلبا اپنے کمروں میں تراویح پڑھ رہے تھے، اسی دوران ہجوم نے اشتعال انگیز مذہبی نعرے لگائے اور ان پر حملہ کیا۔طلبا کا کہنا ہے کہ رات 11 بجے کے قریب جب وہ تراویح پڑھ رہے تھے،10سے 15افراد کا گروہ ان کے ہاسٹل میں گھس آیا،انہوں نے کہا کہ یہاں نماز پڑھنا کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے اور جے شری رام کے نعرے لگائے، سیکورٹی گارڈز کو دھکے دے کر باہر نکال دیا اور پھر نماز پڑھنے والے طلبا پر حملہ کر دیا۔ جب دوسرے غیر مسلم طلباان کی مدد کیلئے آئے تو ان پر بھی حملہ کیا گیا، ان کے کمروں میں توڑ پھوڑ کی گئی اورموبائل فونزاور لیپ ٹاپ لوٹ لیے گئے۔ غیر ملکی طلبا پر حملے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔ ویڈیو کے مطابق مشتعل ہجوم نے کم از کم پانچ گاڑیوں کوبھی نقصان پہنچایا۔
افسوس ناک بات یہ بھی ہے کہ اس واقعہ کا جو ویڈیو منظرعام آیا ہے، اس میں شر پسندوں کی اس دہشت گرد ی کے دوران پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی نظر آرہی ہے۔ انہیں گرفتار کرنے کے بجائے انہیں جانے کا محفوظ راستہ دیا۔ مسلم دشمنی کے اس سنگین واقعہ کو چھپانے کی مذمومانہ کوشش بھی کی جارہی ہے۔میڈیا کا قابل لحاظ حصہ اس معاملہ کو طلبا کی آپسی نوک جھونک قرار دے کراس کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش رہاہے تو دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ بھی اس معاملے میں کچھ بولنے اور کرنے سے پہلو بچارہی ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ یہ کوئی پہلی بار ہوا ہے، اس سے قبل بھی درجنوں بار مسلمانوں کے ساتھ یہی سلوک ملک کے مختلف شہروں میں ہوتا آیا ہے۔ ایک ہجوم نکلتا ہے، اشتعال انگیز نعرے لگاتے مسلمانوں کو گالیاں دیتے ہوئے ان پر پل پڑتا ہے۔کہیں کوئی سیاسی لیڈراسٹیج بناکر کھڑا ہوتا ہے مسلمانوں کی ماں بہنوں کو گالیاں دیتا ہوا ان کے سماجی اور کاروباری بائیکاٹ کا اعلان کرتا ہے، انہیں قتل کرنے کالوگوں سے وعدہ لیتا ہے، نیچے پولیس کھڑی یہ سب دیکھتی رہتی ہے۔ اترپردیش، مدھیہ پردیش اوربی جے پی کی حکمرانی والی کئی ریاستوں میں تو ایسا ماحول بن گیا ہے کہ معمولی نوعیت کے جرم میں ملوث ہونے کے الزام میں پولیس انتظامیہ عدالت تک جانے کا جوکھم اٹھانے کے بجائے مسلمانوں کے گھروں، دکانوں کو بلڈوز ر سے مسمار کرکے موقع پر ہی فیصلہ سنادے رہی ہے۔
سڑک کنارے نماز پڑھنے والوں کو پولیس کے بوٹوں سے مارنا اگر سیکولرازم ہے تو پھر یہی سلوک دوسرے مذاہب والوں کے ساتھ بھی کیے جانے کی ضرورت ہے۔سڑک کنارے مسلمانوں کی نمازیں بالعموم جمعہ کے روز چند منٹوں کیلئے ہوتی ہیں،ممکن ہے اس سے کسی کو کوئی معمولی پریشانی بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن اسی سیکولر ہندوستان میں عدالتوں کے فیصلے اور واضح احکامات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے پوری شان وشوکت کے کئی کئی روز تک مذہبی جلوس نکالے جاتے ہیں، ہر دوسرے مہینہ ہونے والے تہواروں کیلئے مورتی خرید کر لے جانے والے کا یومیہ جلوس بھی سڑکوں سے ہی گزرتا ہے۔مورتی وسرجن کیلئے بھی جلوس کا سلسلہ کئی کئی روز تک جاری رہتا ہے۔ راستہ بند ہوجانے کی وجہ سے کئی اموات بھی ریکارڈ پر آچکی ہیں۔کئی مذہب کے ماننے والے تو ہاتھوں میں ہتھیار لے کر جلوس نکالتے ہیں اور ان تمام جلوسوں کی پولیس حفاظت کرتی ہے۔ کانوڑ یاتراکے دوران سڑکوں پر جو کچھ ہوتا ہے، اس سے پوری دنیا واقف ہے۔ لائوڈ اسپیکر مسلسل بجتے رہتے ہیں، سڑکیں بند کردی جاتی ہیں حتیٰ کہ کھانے پینے کی دکانیں بھی بند کرادی جاتی ہیں۔ریاست کا سربراہ بھی سڑکیں بند کرکے کانوڑ یاترا پر ہیلی کاپٹر کے ذریعہ گلپوشی کرتا ہے۔لیکن ایسے معاملا ت میں کہیں سے کوئی آواز نہیں اٹھتی ہے۔لیکن مسلمانوں کو سڑکوں پر اورہاسٹل کے اندر اپنے کمرے میں نماز پڑھنے پر سیکولر ہندوستان کی شبیہ متاثر ہوتی ہے اور ہندو دہشت گرد مسلمانوں کو سزا دینے کیلئے نکل پڑتے ہیں، کہیں پولیس والوں کی شکل میں بوٹ سے مارتے ہوئے تو کہیں ہجوم کی شکل میں ہاسٹل کے کمرے میں توڑ پھوڑکر کے سزا دی جارہی ہے اور پولیس، میڈیا، عدالت سبھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
یہ واقعات جہاں ملک کے سیکولر کردار کو تباہ کررہے ہیں، وہیں شہریوں کے بنیادی حقوق کو بوٹوں تلے روندا جارہا ہے۔ گجرات یونیورسٹی کے ہاسٹل کے کمرے میں نمازی طلبا کو زدوکوب کرنا ہو یا پھردہلی میں نمازیوں پر پولیس کا بوٹ ہو،یہ حکومت کی سوچ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس سے انکار نہیں کیاجاسکتا ہے کہ ’ہندو قوم پرست ایجنڈا ‘ کو فروغ دینے میں مصروف وزیر اعظم نریندر مودی اور حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں مسلم مخالف جذبات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ 2014 سے2019تک مسلمانوں کے خلاف جو واقعات ہوئے ان کی نوعیت دوسری رہی، انفرادی اور تنظیمی سطح پر مسلمانوں کے خلاف کارروائی ہوتی رہی لیکن 2019 میں این ڈی اے کے دوبارہ انتخاب کے بعد سے یہ تمام کوششیں سرکاری سطح سے بھی ہونے لگیں۔این ڈی اے کے اس دوسرے دور میں مسلمانوں کے خلاف تشدد پولیس حکام کی موجودگی اورنگرانی میں ہونے لگے، بعض مقامات پر پولیس خود مسلم دشمن عناصر کردار ادا کرتے ہوئے پائی گئی جیسا کہ دہلی میں نماز کے دوران نمازیوں کو بوٹ سے مارتے ہوئے دیکھاگیا۔ اس دوسرے دور مودی حکومت نے مسلمانوں کے حقوق کو صریحاً نظر انداز کرتے ہوئے متنازع پالیسیوں کو آگے بڑھایا جس کا واحد مقصد لاکھوں مسلمانوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنا ہے۔اس کیلئے مسلمانوں کو ذلیل و خوار کیا جارہا ہے، انہیں دبایا اور کچلا جارہا ہے،ان کے حقوق ضبط کیے جارہے ہیں،مذہبی آزادی تک چھینی جارہی ہے۔ دہلی میںیا گجرات یونیورسٹی کے ہاسٹل میں جو کچھ ہوا، وہ دراصل سرکاری سرپرستی میں فروغ دی جارہی اجتماعی ہندو بنیاد پرستی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔آج مذہبی منافرت، فرقہ وارانہ تشدد، ذات پرستی اور تعصب جیسے عوامل نے ملک میں مسلمانوں کے ساتھ بہتر سلوک کے امکانات معدوم کردیے ہیں اورا گر 2024میںتیسری بار مودی حکومت آئی تو یہ امکانات عملاًختم ہوجائیں گے۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS