کشمیری صحافی نائیک کے خلاف مقدمہ غلط تھا: ہائی کورٹ

0
Image: Law Trend

نئی دہلی،(ایجنسی): جموں اور کشمیر ہائی کورٹ نے ایک نیوز رپورٹ کی وجہ سے سال 2018 میں ایک صحافی کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کو ‘قانون کا غلط استعمال’بتایا ہے۔ کورٹ نے کہا کہ یہ دکھاتا ہے کہ ‘پولیس ‘تعصب’سے کام لے رہی تھی۔اتنا ہی نہیں عدلیہ نے یہ بھی کہا کہ یہ آصف اقبال نائیک نام کےصحافی کو ‘چپ کرانے’کا طریقہ تھا، جنہوں نے ایک شخص کو ہراساں کرنے کی خبر لکھی تھی۔
رپورٹ شائع ہونے کے چار ہفتے بعد جموں وکشمیر پولیس نے آرپی سی کی مختلف دفعات کےتحت صحافی کے خلاف معاملہ درج کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ وہ سڑکوں کوبلاک کرنے اورپراپرٹی کو برباد کرنے کے لیے لوگوں کو اکسانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہائی کورٹ نے صحافی کے خلاف درج معاملے کو رد کرنے کا حکم دیا ہے۔ نائیک کشتواڑ ضلع کےباشندہ ہیں۔ ان کی ایک رپورٹ 19 اپریل2018کو جموں کےاخبار ارلی ٹائمزمیں شائع ہوئی تھی، جو ایک شخص کو پولیس حراست میں ہراساں کرنے سےمتعلق تھی۔ اسی کو لےکر پولیس نے ان پر کیس درج کیا تھا۔بارہ مئی2018 کو کشتواڑ پولیس نے حکام سے اجازت لینے کے بعد نائیک کے خلاف آرپی سی کی دفعہ500، 504 اور 505 کے تحت معاملہ درج کیا تھا۔

صحافی نے بعد میں اس کے خلاف جموں کشمیر ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔عرضی میں انہوں نے کہا کہ یہ کیس انہیں چپ کرانے کے لیے دائر کیا گیا ہے اور پولیس انہیں ان کے خلاف کسی بھی نیوز کو شائع کرنے سے روکنا چاہتی ہے۔نائیک نے یہ بھی کہا کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنا ‘قانون کے ضابطے کا غلط استعمال’ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر میں لگائے گئے الزام اتنے بےتکے اور ناممکن ہیں کہ کوئی بھی ذی فہم شخص کبھی بھی اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکتا ہے کہ اس بنیاد پر کارروائی کی جا سکتی ہے۔جسٹس رجنیش اوسوال کی سنگل بنچ نے کہا کہ صحافی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنا ‘بلاشبہ پریس کی آزادی پر حملہ’ہے۔جج نے کہا کہ جس طریقے سےایف آئی آر درج کی گئی ہے، وہ واضح طورپرپولیس کے تعصب کو دکھاتی ہے۔ انہوں نے عرضی گزار کو چپ کرانے کا انوکھا طریقہ چنا اور یہ بلاشبہ پریس کی آزادی پر حملہ ہے۔جسٹس اوسوال نے آگے کہا، ‘یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ پریس کو جمہوریت کے چوتھے ستون کے طور پرجانا جاتا ہے اور پریس کی آزادی ہندوستان جیسےکسی بھی جمہوری ملک کے کام کاج کے لیےاہم ہے۔ایک صحافی کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے پریس کی آزادی پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی ہے، جوحقائق پر مبنی جانکاری کی بنیادپر خبر شائع کرکے اپنا پیشہ ورفرض نبھا رہے تھے۔’
متعدد فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے جج نے کہا کہ یہ ایف آئی آر قانون کے غلط استعمال کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ اگرپولیس کو نیوز رپورٹ سے تکلیف ہوئی تھی تو اسے اپناپہلوشائع کروانا چاہیے تھا۔عدالت نے کہا، ‘عدالت کا ماننا ہے کہ اختر حسین کے بھائی اور چچازاد بھائی کی جانب سے دیے گئے بیان کی بنیادپرخبر کا چھاپنا آرپی سی کی دفعہ499 کے تحت جرم کے دائرے میں نہیں آتا ہے، کیونکہ عرضی گزار رپورٹنگ کے اپنے پیشہ ور فرض کو نبھا رہے تھے۔’اس کے ساتھ ہی کورٹ نے صحافی کے خلاف درج دیگر الزامات کو بھی خارج کر دیا۔اٹھارہ اپریل2018 کو کشتواڑ کے 26سالہ اختر حسین کو مبینہ طور پر تھرڈ ڈگری دینے کے بعد نازک حالات میں جموں کے سرکاری میڈیکل کالج میں بھرتی کرایا گیا تھا۔الزام تھا کہ طارق حسین کے لاپتہ ہونے کے سلسلے میں غیرقانونی طریقے سے حراست میں رکھ کر ہراساں کیا گیا تھا۔ اسی سلسلے میں 19 اپریل 2018 کو آصف اقبال نائیک نے ارلی ٹائمس میں ایک رپورٹ شائع کی تھی۔
دی وائر سے بات کرتے ہوئے صحافی آصف اقبال نائیک نے اقتدار کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی مانگ کی۔ انہوں نے کہا،‘صحافت کوئی جرم نہیں ہے اور صحافیوں کو اپنے پیشہ ورفریضہ کو نبھانے کے لیے ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک نہیں کیا جانا چاہیے۔’ اس معاملے کو لےکر کشتواڑ کے اس وقت کےڈپٹی کمشنرانگریز سنگھ نے کہا کہ وہ عدالت کے فیصلے پر تبصرہ نہیں کر سکتے ہیں۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا انہوں نے صحافی کے خلاف معاملے کی اجازت دی تھی، سنگھ نے کہا، ‘مجھے یہ خاص معاملہ یاد نہیں ہے۔’اس وقت کشتواڑ کےضلع پولیس چیف کےطورپرتعینات ابرار چودھری نے کہا کہ جب بھی ایف آئی آر درج کی جاتی ہے تو قانون پر عمل کیا جاتا ہے۔ معلوم ہو کہ بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کی جانب سےآرٹیکل 370 کو ہٹائے جانے کے بعد سے صحافیوں کو اکثر جموں وکشمیر پولیس اور دیگر ایجنسیوں کے ذریعےتنقیدی رپورٹنگ کے لیے طلب کرکے پوچھ تاچھ کی جاتی ہے۔ معلوم ہو کہ صحافی اور رائٹر گوہر گیلانی اور فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرہ پریواےپی اے کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا، جس
کا استعمال زیادہ تر جموں وکشمیر میں دہشت گردوں اور علیحدگی پسندوں کے خلاف کیا جاتا ہے۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here