روس کوکریمیا سے ملانے والا پل دھماکے سے تباہ

0

دھماکے کے بعد پل پرآمدورفت منقطع،3ہلاک،متعددافرادزخمی،روس نے تحقےقات سے متعلق انکوائری کمےٹی کی تشکےل کی
ماسکو(ایجنسیاں) : آبنائے کرچ پر بنے روس اور کریمیا کو ملانے والے پل کو دھماکے سے ا±ڑا دیا گیا جس کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔رپورٹ کے مطابق جزیرہ نما تمان کی طرف سے کریمین پ±ل کے آٹوموبائل حصے پر ایک ٹرک کو دھماکے سے اڑا دیا گیا جس کی وجہ سے جزیرہ نما کریمیا کی طرف جانے والی ٹرین میں ایندھن کے سات ٹینک جل گئے۔آبنائے کرچ پر بنا یہ پ±ل روس کو اس کے الحاق شدہ علاقے کریمیا سے ملاتا ہے اور یہ یوکرین جانے کا راستہ بھی ہے۔ اس سے اس پ±ل کی عسکری اہمیت کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔دھماکے کے بعد پل پر آمد و رفت منقطع ہوگئی اور فضا میں دھوئیں کے بادل چھا گئے۔ دھماکے میں اب تک 3 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ دھماکا پ±ل پر سے گزرنے والے ایک ٹرک میں ہوا تھا۔تاحال ٹرک میں دھماکے کی نوعیت اور وجہ کا تعین نہیں ہوسکا ہے اور نہ کسی گروپ یا یوکرین کی فوج نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ روس نے دھماکے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی۔دوسری جانب روس نے اس واقعہ کو کار بم دھماکے قرار دیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کار بم دھماکے سے کریمیا اور روس کے اہم پل پر بہت بڑی آ گ بھڑک اٹھی۔ تاہم روس نے اس واقعہ کے حوالے سے ابھی تک یوکرین یا کسی اور پر کوئی الزام نہیں لگایا ہے۔البتہ روس کے خبر رساں ادارے نے انسداد دہشت گردی کی قومی کمیٹی کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ولادیمیر پوتن نے اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنے حکم دیا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ واقعہ کیونکر رونما ہوا۔
رپورٹ کے مطابق اس کار بم دھماکے ذریعہ ٹرین کے ساتھ موجود سات آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ واضح رہے یہ پل ٹرین کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جبکہ یوکرین کے ساتھ جنگ کی وجہ سے یہ پل روس کے لیے جنگی سامان کی ترسیل کیلئے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔اس ٹینکر دھماکے بعد پل پر سے گزرنے والی ٹریفک معطل ہو گئی حتیٰ کہ ٹرینوں کی آمدو رفت بھی رک گئی۔ یوکرینی حکام کے مطابق اس پل کا ولادی میر پوتین نے دو ہزار اٹھارہ میں افتتاح کیا تھا۔ تاکہ کریمیا کو اپنے ساتھ ملانے کے بعد رابطہ کاری آسان رہے۔دونوں طرف سے روس کریمیا پل پر دھماکہ یا آگ لگنے کے واقعہ کا وقت تقریباً ایک ہی بتایا گیا ہے۔ لیکن ٹریک کے معطل ہو جانے کے علاوہ کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں دی ہے۔ادھر روس میں اس واقعہ کو کافی سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ جائے دھماکہ یوکرین کے ساتھ جنگ کے خط اول سے کافی دور ہے۔ اگر اس واقعہ کی تحقیقات میں یوکرین کے ملوث ہونے کی تصدیق ہو گئی تو یہ روس کے مزید پریشانی کا باعث ہو گا۔