بیلگاوی کا تنازع

0

ثقافت وزبان کی بنیاد پرسرحدی تنازع خواہ کہیں بھی ہو، جلدی حل نہیں ہوتا۔حکومتیں آتی ہیں اورچلی جاتی ہیں ، لیکن تنازع بڑھتا رہتا ہے، کبھی کبھی وقت کے ساتھ بگڑبھی جاتا ہے ، اور سنجیدہ کوششیں کی جائیں تو حل بھی ہوجاتا ہے ، جیساکہ شمال مشرق میں آسام۔ میگھالیہ اورمنی پور ۔ ناگالینڈ وغیرہ کے درمیان سرحدی تنازعات کو معاہدہ کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کی گئی، اس سے اس کی شدت میں کمی آگئی ۔چنڈی گڑھ کا تنازع آج تک پنجاب اورہریانہ کے درمیان حل نہیں ہوسکا۔ ایسا ہی ایک تنازع مہاراشٹر اورکرناٹک کے درمیان بیلگاوی کا ہے ۔ یہ 65 سال پرانا ہے ۔آزادی کے بعد 1956میں لسانی بنیاد پر ریاستوں کی تنظیم نو کے بعد سے چل رہا ہے۔ متنازع گائوں کے انضمام کیلئے مہاراشٹر انٹیگریشن کمیٹی تشکیل دی جاچکی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پورے سال تنازع پر خاموشی چھائی رہتی ہے اور دسمبر میں اچانک یہ گرم ہوجاتا ہے۔ دونوں ریاستوں کی حکومتیں کھل کر سامنے آجاتی ہیں۔نہ صرف بیان بازی ہوتی ہے ، بلکہ عملی طور پر ایسے اقدامات کئے جاتے ہیں ، جو آگ میں گھی ڈالنے کا کام کرتے ہیں۔گزشتہ سال جب مہاراشٹر میں ادھوٹھاکرے کی قیادت میں مہاوکاس اگھاڑی کی حکومت تھی اورکرناٹک میں بی جے پی کی تو دونوں ریاستوں کے حامیوں کے درمیان جھڑپیںبھی ہوئی تھیں۔ اس بار بھی دھرنا، مظاہرہ اورمارپیٹ کی نوبت آئی ۔ بات زیادہ آگے نہیں بڑھی ۔ پھر بھی جتنا ہوا، وہ اس تنازع کو زندہ رکھنے اورآگے بڑھانے کیلئے کافی ہے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تنازع کی آگ ابھی بھی سلگ رہی ہے اوراگر اس میںکچھ زیادہ گھی ڈال دیا گیاتو وہ آگ شعلہ بن کر بھڑک سکتی ہے ۔اس لئے اسے بجھانا ضروری ہے ، شعلہ بھڑکنے کا انتظار نہیں کرنا چاہئے۔
دراصل بیلگاوی کے کئی گائوں ایسے ہیں ، جہاں مراٹھی بولنے والوں کی بہت بڑی آبادی ہے ۔ جن پر مہاراشٹرکا دعوی ہے اور حکومت ان علاقوں کو اپنی ریاست میں ضم کرنے کی بات کرتی ہے ، جس کیلئے کرناٹک تیار نہیں ہے ۔دوسری طرف مہاراشٹر میں بھی کچھ علاقے ایسے ہیں ، جہاں کنڑ بولنے والوں کی آبادی ہے ،کرناٹک کے حامی ان کو ضم کرنے کا معاملہ اٹھاتے ہیں۔ کرناٹک کی حکومت متنازع گا ئوںکے کلچر اورزبان کو تبدیل کرنے کی کوشش تو کرتی ہے ، لیکن ابھی تک وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئی ۔ اسکولوں میں جب کنڑ کولازمی زبان کا درجہ دینے کیلئے قدم اٹھایا گیا تو اس کے خلاف زبردست احتجاج ہوا ۔ یکم جون 1986کو تو احتجاج کے دوران پولیس فائرنگ میں کئی لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔ جسے آج بھی مہاراشٹر کے لوگ یاد کرتے ہیں اور متاثرین سے ملنے کی بات کرتے ہیں ۔
دونوں ریاستوں کے درمیان بیلگاوی کا سرحدی تنازع خبروں میں دسمبر میں اس لئے آتا ہے ، کیونکہ اس وقت کرناٹک اسمبلی کا سرمائی اجلاس بیلگاوی شہر میں ہوتا ہے۔ امسال بھی 19دسمبر سے اجلاس شروع ہونے والا ہے ۔اس سے پہلے حکومت مہاراشٹر سرگرم ہوگئی ۔یکم دسمبر کو مہاراشٹر کے وزراکا ایک وفد متنازع گائوں کا دورہ کرنے والا تھا۔ جس پر کرناٹک کے حامی گروپوں نے وزیر اعلی بسواراج بومئی کو خط لکھ کرمانگ کی کہ وہ مہاراشٹر کے وزراکے دورے کا جواب دینے کے لیے سینئر ریاستی وزرا کا ایک وفد مہاراشٹر کے کنڑ بولنے والے علاقوں میں بھیجیں۔تاہم کرناٹک کے وزیر اعلی نے کہا کہ ہماری حکومت سرحدی تنازع کے معاملے پر جذبات بھڑکانے کی حامی نہیں ہے۔ البتہ کرناٹک کے چیف سکریٹری نے مہاراشٹر کے اپنے ہم منصب کو ایک فیکس پیغام میں کہاکہ وزیر اعلیٰ نے کہاہے کہ سرحدی تنازع کے حوالے سے دونوں ریاستوں کے درمیان موجودہ صورتحال کے پیش نظر مہاراشٹر کے وزراکا بیلگاوی کا دورہ کرنا مناسب نہیں ہے۔جس کے بعد پتہ نہیں کس کی مداخلت سے دورہ ملتوی کردیا گیا ۔اس سے قبل گزشتہ سال بیلگاوی میں کرناٹک اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے سے قبل مہاراشٹر کے اسی طرح کے دورہ کو کرناٹک نے روک دیا تھا۔حیرت ہے کہ دونوں ریاستوں اور مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہونے کے باوجود بیلگاوی کا تنازع حل نہیں ہورہا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ثقافتی اورلسانی بنیاد پر سرحدی تنازع اس وجہ سے پیچیدہ ہوجاتا ہے کہ اس کی جڑیں عوام میں پیوست ہوتی ہیں اورتعصب اپنا کام کرتا رہتا ہے ۔ جس کی وجہ سے حکومت بھی اس سے خود کو الگ نہ کرنے پر مجبور رہتی ہے ۔
[email protected]