تلنگانہ میں ٹھیلوں پر کاروبار کرنے والے ٹکنالوجی کے استعمال میں ملک میں سرفہرست

0

حیدرآباد۔ (یواین آئی) : خواہ ناخواندہ ہوں یا معمولی تعلیم یافتہ، تلنگانہ میں ٹھیلوں پر کاروبار کرنے والے ٹکنالوجی کے استعمال کے معاملہ میں ملک
میں سرفہرست ہیں۔ ریاست میں لاکھوں چھوٹے تاجر ڈیجیٹل لین دین کے عادی ہوگئے ہیں۔وہ حیدرآباد کے علاوہ، تمام شہروں، قصبوں اور دیہی
علاقوں میں فون پے ، گوگل پے اور پے ٹی ایم جیسی ایپس کے ذریعہ نقدی کے بغیر لین دین کررہے ہیں اور ڈیجیٹل لین دین کا استعمال کرنے والے
چھوٹے تاجروں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے ۔ ٹھیلوں پر کاروبار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ نقدی سے پاک لین دین سے کئی پریشانیاں
دورہوگئی ہیں۔ خریدار چھوٹی رقم کو بھی ڈیجیٹلائز کرتے ہیں جیسے 5، 10روپے کی ادائیگی کو وہ ترجیح دیتے ہیں۔ تلنگانہ کے تاجر ڈیجیٹل لین
دین کرتے ہوئے نقد ترغیبات حاصل کرنے میں بھی آگے ہیں۔ ملک بھر میں نقد مراعات کے طور پر 17.65کروڑ روپے دیے گئے ہیں، جن میں
سے ریاست کے ٹھیلوں پر کاروبار کرنے والوں کو 3.63کروڑ روپے حاصل ہوئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ملک بھر میں ٹھیلوں پر کاروبار کرنے
والوں کے ذریعہ کئے جانے والے ڈیجیٹل لین دین کا 21فیصد تلنگانہ میں ہوتا ہے ۔ محکمہ بلدی نظم و نسق نے ٹھیلوں پر کاروبار کرنے والوں کی
ڈیجیٹل فروخت، قرضوں اور بنیادی ڈھانچے کے بارے میں ایک جامع رپورٹ تیار کی ہے ۔ اس کے مطابق اس محکمہ کے ساتھ 6,16,563
ٹھیلوں پر کاروبار کرنے والے رجسٹرڈ ہیں۔ وہ شہری آبادی کا 4.17فیصد ہیں۔ شہری ترقی کے حصے کے طور پر محکمہ بلدی نظم ونسق،میپما
کے ذریعہ ٹھیلوں پر کاروبار کرنے والوں کو قرض دے رہا ہے ۔ مرکز کی جانب سے کورونا کے بعد متعارف کرائی گئی آتما نربھار بھارت اسکیم میں
چھوٹے تاجروں کو دو قسطوں میں قرض دیا گیا تھا۔ اس طرح ریاست کے 3.45لاکھ افرادکو 504کروڑ روپے قرض کے طور پر ملے ۔ ریاست
کے شہر اور قصبے ملک میں سرفہرست ہیں۔قرض کی پہلی قسط 10,000روپے گریٹرحیدرآباد میونسپل کارپوریشن(جی ایچ ایم سی) میں دی
گئی۔ قرضوں کے لحاظ سے میگا شہروں میں جی ایچ ایم سی دوسرے نمبر پر ہے ۔ 1لاکھ سے 10لاکھ کی آبادی والے شہروں کی فہرست میں
گریٹر ورنگل میونسپل کارپوریشن ملک میں پہلے مقام پر ہے جبکہ نظام آباد ساتویں مقام پر ہے ۔ ایک لاکھ سے کم آبادی والے قصبوں میں، ٹاپ 10
درجات پر ریاست کے مواضعات کا قبضہ ہے ۔