18 برس کی ایماریڈوکانو یو ایس اوپن گرینڈ سلیم کی نئی سپورٹس کوئین

0
image:timesofindia.indiatimes.com

نیویارک (ایجنسیاں): جب ریڈوکانو امریکہ آئیں تو انھوں نے کوالیفائنگ راؤنڈ کے بعد ہی اپنی واپسی کی ٹکٹس بک کروا لی تھیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انھیں ٹورنامنٹ کے فائنل مرحلے میں کوالیفائی کرنے کی امید ہی نہیں تھی۔پھر انھوں نے بغیر کوئی سیٹ ہارے ایک کے بعد ایک میچ جیتنے شروع کیے اور وہ کر دکھایا جس کے بارے میں شاید انھوں نے خود بھی کبھی نہیں سوچا تھا۔ انھوں نے کوالیفائنگ مرحلے کے 3 اور فائنل مرحلے کے 7 میچ جیت کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔18 برس کی ایما ریڈوکانو نے یو ایس اوپن گرینڈ سلیم کے فائنل میں کینیڈا کی لیلہ فرنینڈیز کو پہلے دونوں سیٹس میں شکست دے کر برطانیہ کے 44 سال کے طویل انتظار کو بھی ختم کیا ہے۔ اس سے قبل برطانیہ کی کسی خاتون ٹینس کھلاڑی نے 1977 میں کوئی گرینڈ سلیم جیتا تھا۔یہی نہیں وہ پہلی ’کوالیفائر‘ کھلاڑی ہیں جو کسی گرینڈ سلیم مقابلہ جیتی ہوں۔ایما ریڈوکانو نے اپنی 19 سال کی حریف لیلہ فرنینڈیز کو انتہائی سنسنی خیز مقابلے میں 4-6 اور 3-6 سے شکست سے دو چار کیا۔انھوں نے ایک ’ایس‘ (یعنی ایسی سرو جسے مخالف کھیل نہ پائے) کے ذریعے اپنی جیت مکمل کی اور بے یقینی کی کیفیت میں اس کے ساتھ ہی کورٹ پر لیٹ گئیں۔ریڈوکانو کی حوصلہ افزائی ورجینیا ویڈ کر رہی تھیں جو سنہ 1977 میں ومبلڈن میں گرینڈ سلیم جیتنے والی آخری برطانوی خاتون تھیں۔ پرنس ولیم نے ایما ریڈوکانو کو ٹوئٹ کے ذریعہ اس جیت کیلئے مبارکباد دی ہے۔ پرنس ولیم نے اپنے سرکاری ٹوئٹ پیج پر مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ اس تاریخی جیت کیلئے ایما ریڈوکانو کو مبارکباد۔ ہم سب کو آپ پر فخر ہے ۔ لیلہ فرنینڈیز کو بھی اس سال یو ایس اوپن کے فائنل میں پہنچنے کی شاندار کامیابی کیلئے مبارکباد۔ آپ کو کھیلتے ہوئے دیکھ کر اچھا لگا۔
https://twitter.com/usopen/status/1436838214329896961?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1436838214329896961%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Ftimesofindia.indiatimes.com%2Fsports%2Ftennis%2Fus-open%2Fteen-emma-raducanu-wins-us-open-title-for-first-grand-slam-crown-by-a-qualifier%2Farticleshow%2F86132643.cms
واضح رہے کہ ایما ریڈوکانو کو رواں سال جون میں ہی پہلی بار ڈبلیو ٹی اے کے ڈرا میں شامل کیا گیا تھا۔ انھیں وملبڈن میں وائلڈ کارڈ انٹری ملی تھی اور وہاں وہ چوتھے راؤنڈ تک پہنچی تھیں۔ وہ کوئی گرینڈ سلیم جیتنے والی سب سے کم عمر برطانوی ٹینس کھلاڑی ہیں جبکہ ماریا شراپووا کے بعد وہ عالمی سطح پر سب سے کم عمر گرینڈ سلیم جیتنے والی کھلاڑی بنی ہیں۔ شراپووا نے سنہ 2004 میں 17 سال کی عمر میں ومبلڈن میں کامیابی حاصل کی تھی۔ وہ سنہ 2014 میں سیرینا ولیمز کے بعد کوئی بھی سیٹ گنوائے بغیر سنگل ٹائٹل جیتنے والی پہلی خاتون کھلاڑی بھی بن گئی ہیں۔ انھیں اس جیت سے 18 لاکھ پاؤنڈ کی انعامی رقم ملی ہے اور خواتین کی عالمی درجہ بندی میں اب وہ 23 ویں نمبر پر آ گئی ہیں جبکہ پیر کو جاری ہونے والی فہرست میں وہ برطانیہ کی نمبر ون ٹینس کھلاڑی بن جائیں گی۔ ریڈوکانو 13 نومبر سنہ 2002 میں کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں پیدا ہوئیں اور جب وہ دو سال کی تھیں تو اپنے والدین کے ساتھ انگلینڈ آ گئیں۔ ان کے والد کا اصل وطن رومانیہ ہے جبکہ والدہ چینی نژاد ہیں۔ ان کی کنیت ریڈوکانو رومانیہ سے آتی ہے۔


ریڈوکانو کے لیے مبارکبادوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سابق برطانوی نمبر ون لورا رابسن نے بی بی سی ریڈیو 5 لائیو پر کہا کہ ’اس میں بہت سے اگر مگر کے دروازے ہیں۔ ومبلڈن سے قبل ایما ریڈیکانو مین ڈرا میں بھی نہیں تھیں اور وائلڈ کارڈ سے ان کی شمولیت ہوئی تھی۔ ’کیا وہ یہاں ہوتیں اگر انھیں اپ گریڈ نہیں کیا گیا ہوتا؟ کیا یہ ممکن ہوتا اگر وہ سانس لینے میں تکلیف کی وجہ سے چوتھے راؤنڈ سے نہیں نکل جاتیں؟‘ ’لیکن انھوں نے اپنے پہلے گرینڈ سلیم فائنل میں بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا اور آپ ان سے ایسے مزید مظاہروں کی امید کر سکتے ہیں۔‘ سابق ومبلڈن فاتح پیٹ کیش نے اسے ناقابل یقین قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’میں یقین نہیں کر سکتا کہ کوئی کوالیفائر یو ایس اوپن جیت جائے۔ گوران ایوانسیوچ وائلڈ کارڈ کے ذریعے ومبلڈن میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن وہ پہلے ومبلڈن فائنلز میں جا چکی ہیں، ایسا محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ وہ اپنا دوسرا ہی گرینڈ سلیم کھیل رہے ہوں۔‘ ان کی تعریف کرتے ہوئے پیٹ کیش نے مزید کہا: ’وہ اتنی صفائی سے گیند کو مارتی ہیں۔ یہ عقل سے بالاتر ہے۔ اس کا کوئی جواب نہیں۔ ان کی پرفارمنس حیرت انگیز ہے۔‘
بی بی سی کے ٹینس نمائندہ رسل فلر نے کہا کہ ’ہم نے ایسی کوئی چیز پہلے کبھی نہیں دیکھی اور اگر میں اس کام میں رہا تو آنے والے 20 برسوں میں بھی ایسا کچھ دیکھنے کی امید نہیں۔‘
آسٹریلین ٹینس لیجنڈ اور 11 گرانڈ سلیم کے فاتح راڈ لیور نے ایما ریڈوکانو کو شاباش دیتے ہوئے لکھا: ’بہت خوب ایما ریڈوکانو، یہ آپ اور لیلیٰ فرنینڈیز کے درمیان بہت سے مقابلوں میں سے ایک ہے۔ مجھے اس میں کوئی بھی شک نہیں کہ بہت سے اہم مقابلے آپ دونوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ یو ایس اوپن میں ایک اور تاریخی لمحہ۔ مبارکبادیں۔‘
لیلہ فرنینڈیز اور ایما ریڈوکانو جب آرتھر ایشی اسٹیڈیم پہنچی تو وہ کھچا کھچ بھرا تھا۔ وہاں 24 ہزار لوگوں کی گنجائش ہے اور یہ دونوں اپنے کریئر کے سب سے بڑے اسٹیج پر پہلی بار پہنچی تھیں لیکن دونوں اس بات سے بے پروا تھیں۔ اسٹیڈیم میں لیلہ فرنینڈیز کے حامی زیادہ نظر آ رہے تھے کیونکہ انھوں نے ایک ہفتے کے اندر ہی عالمی درجہ بندی میں دوسرے، تیسرے اور پانچویں نمبر کی کھلاڑیوں کو شکست سے دو چار کیا تھا۔ لیلہ فرنینڈیز گزشتہ سوموار کو ہی 19 سال کی ہوئی ہیں۔ اس طرح رواں یو ایس اوپن میں دو ٹین ایجرز کا فائنل کھیلنا خواتین ٹینس کے افق پر دو نئے سٹارز کا نمودار ہونا ہے۔ ہر چند کہ لیلہ نے اپنے پانچ سابق میچوں میں سے چار میں اہم ٹائی بریکرز میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن انھیں اس بات کا احساس تھا کہ فائنل میں میچ سخت ہو گا۔ انھوں نے کہا ’آج کا دن سخت ہونے والا تھا لیکن ایما نے حیرت انگیز کھیل پیش کیا۔ مبارک باد۔ مجھے خود پر بہت فخر ہے اور یہاں کے مداح بھی بہت شاندار ہیں۔ نیویارک آپ کا شکریہ۔ آپ سب لوگوں کا شکریہ۔‘
جبکہ ایما ریڈوکانو نے امیزون پرائم پر سابق برطانوی نمبر ون ٹم ہن مین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس ٹرافی کو اٹھانا ان کے لیے سب کچھ ہے اور وہ اسے اپنے سے علیحدہ نہیں رکھنا چاہتیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کل عجیب طرح کی کیفیت تھی کہ میں بتا نہیں سکتی۔ میرے خیال سے یہ معمول کی بات ہے لیکن جب میں کھیلنے آئی تو سب معمول کا تھا یعنی ایک وقت میں ایک۔‘
’پہلا سیٹ جیتنے کے لیے مجھے سخت محنت کرنا پڑی اور پھر دوسرے سیٹ میں آگے رکھنے کے لیے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’میں گرینڈ سلیم جیتنے کا ہیمشہ خواب دیکھتی تھی۔ آپ ایسی باتیں سوچتے ہیں لیکن جو یقین مجھے تھا اور حقیقت میں جیتنا، یہ ناقابل یقین ہے۔‘

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS