سوئزر لینڈ: خوش حالی کا راز کیا ہے؟

0

سوئزرلینڈ کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جن کی آبادی ایک کروڑ سے کم ہے۔ 2019 تک اس کی آبادی 85.4 کروڑ تھی مگر بات اگر اقتصادیات کی کریں تو 2019 تک اقتصادی طور پر مستحکم ملکوں میں وہ 20 ویں نمبر پر تھا یعنی اس سے زیادہ آبادی والے کئی ممالک اقتصادی محاذ پر اس سے پیچھے تھے۔ اسی طرح بات اگر مساوی قوت خرید (Purchasing Power Parity) کی جائے تو وہ 35 ویں نمبر پر تھا۔ اس معاملے میں بھی بڑی آبادی والے کئی ممالک اس سے پیچھے تھے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ سوئزرلینڈ نے اپنے وسائل کا بھرپور استعمال کیا ہے اور اس بات پر توجہ دی ہے کہ اقتصادی طور پر خوشحال کیسے بنایا جائے۔ کورونا کا اثر جن یوروپی ملکوں پر پڑا ہے، ان میں سوئزرلینڈ بھی شامل ہے۔ 2020 میں اس کی اقتصادی شرح نمو -6.0 فیصد رہی مگر سوئزرلینڈ کے لیے یہ زیادہ تشویش کی بات نہیں ہوگی، کیونکہ وہ ایسا ملک نہیں جو ایک دو سال اقتصادی شرح نمو کے کم ہو جانے سے کافی پیچھے چلا جائے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کا قرض زیادہ نہیں ہے۔ آمدنی کے مقابلے بھی اس کا خرچ زیادہ نہیں ہے۔ 2017 تک سوئزرلینڈ کا حکومتی قرض 41.8 فیصد تھا۔ 2017 میں اسے 242.1 ارب ڈالر کی آمدنی ہوئی جبکہ اس کا خرچ234.4 ارب ڈالر تھا۔ اس سے یہ اندازہ بڑی آسانی سے ہوجاتا ہے کہ اس کی آمدنی اور خرچ میں زیادہ فرق نہیں، کم سے کم اتنا فرق تو نہیں جو سوئز حکومت کے لیے باعث تشویش ہو۔
یوں بھی سوئز حکومت کو اقتصادی محاذ پر تشویش نہیں ہونی چاہیے،کیونکہ دنیا کے بیشتر ممالک کے لوگ وہاں اپنے روپے جمع کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ دونوں بڑے ممالک ہیں، دونوں کے پاس ایک سے بڑھ کر ایک بڑے بینک ہیں۔ اس کے باوجود امریکہ اور برطانیہ کے لوگ سوئز بینکوں میں ڈالر اور پاؤنڈ جمع کراتے ہیں۔ جن ملکوں کے لوگوں نے سوئز بینکوں میں سب سے زیادہ روپے جمع کر رکھے ہیں، گزشتہ برسوں سے ان میں برطانیہ سرفہرست ہے۔ یہ روایت پچھلے سال بھر برقرار رہی۔ اس کے بعد امریکہ کا نمبر آتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر سوئزرلینڈ کے پاس غیر ملکی زرمبادلہ کا ذخیرہ کافی زیادہ ہے۔ سب سے زیادہ غیرملکی زرمبادلہ رکھنے کے معاملے میں چین سرفہرست ہے۔ اس کے پاس 3,362,471 ملین امریکی ڈالر ہے، اس کے بعد جاپان کا نمبر آتا ہے۔ اس کے پاس 1,378,467 ملین امریکی ڈالر ہے۔ تیسرے نمبر پر سوئزرلینڈ ہے۔ اس کے پاس 1,070,369 ملین امریکی ڈالر ہے جبکہ وطن عزیز ہندوستان اس معاملے میں چوتھے نمبر پر ہے اور اس کے پاس 608,081 ملین امریکی ڈالر ہے۔ اس سے بھی سوئزرلینڈ کا اقتصادی پوزیشن کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان تمام باتوں کے باوجود سوئزحکومت اس طرف کیوں توجہ نہیں دیتی کہ اس کے بینکوں میں کسی ملک کے لوگوں کی بلیک منی جمع نہ ہو؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا مشکل ہے، کیونکہ سوئز حکام اپنے بینکوں میں غیر ممالک کے لوگوں کی جمع رقم کو بلیک منی مانتے ہی نہیں ہیں۔ پھر بلیک منی کی صفائی کا سوال ہی کہاں اٹھتا ہے۔ یہ باتیں اپنی جگہ ہیں اور اس بات کی اہمیت اپنی جگہ ہے کہ سوئزرلینڈ اچھا خاصا ایکسپورٹ کرتا ہے اور ایکسپورٹ کے مقابلے امپورٹ کم کرتا ہے۔ 2017میں اس نے 313.5 ارب ڈالر کی اشیا ایکسپورٹ کی تھی تو 264.5 ارب ڈالر کی اشیا ہی امپورٹ کی تھی۔ جون 2020تک 4.8 فیصد لوگ بے روزگار تھے۔ ان میں 15سے 24سال کے بے روزگار لوگوں کی تعداد10.4 فیصد تھی۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS