کامیابی کیلئے طویل المدتی حکمت عملی درکار ہے

0

عبد الغفارصدیقی
اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ سیاسی مقابلہ آرائی میں ایماندار لوگ ہار جاتے ہیں۔عام طور پراپنی ہار کا ٹھیکرا اللہ پر پھوڑا جاتا ہے۔کف افسوس ملتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی بے ایمان لوگوں کا ساتھ دیتا ہے۔اسی سبب سے بہت سے نیک اور ایماندار لوگ سیاست میں نہیں آتے۔ الیکشن کے درمیان نیک و بد اور فتح و شکست کی یہ بحث شہر کی ہر گلی اور ہر چوراہے پر ہورہی ہوتی ہے۔ہمارے ملک میں ابھی حال ہی میں دو ریاستوں،ایک میونسپل کارپوریشن اور کچھ سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہوئے ہیں۔ان انتخابات میں ہارنے والوں میں شاید کچھ اچھے لوگ بھی ہار گئے ہیں۔
اس ضمن میں پہلی بات تو یہ عرض کرنا ہے کہ دلوں کا حال اللہ ہی کو معلوم ہے،امیدوار کتنے ایماندار اور مخلص ہیں یہ بات یا تو امیدوار جانتا ہے یا اللہ جانتا ہے اگر کوئی شخص ’’تم ہی سر بلند رہوگے اگر تم مومن ہو‘‘ سے یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ مومن ہونے کی حیثیت میں اللہ کو اپنے وعدے کے مطابق اسے ہی فتحیاب کرنا چاہئے تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اس کی شکست اس کے لیے کھلا پیغام ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اسے یہ یقین رکھنا چاہئے کہ اللہ کے ہرفیصلے میں حکمت و مصلحت ہوتی ہے۔اگر اس نے شکست سے دوچار کیا ہے تو ضرور کوئی مصلحت پوشیدہ ہے۔البتہ اس موقع پر اللہ کی حکمت و مصلحت پر صبر کرنے سے پہلے اپنی علمی،فکری اور عملی کوتاہیوں کو دیکھنا چاہئے۔ اپنے اخلاص کے دعوہ پر کم اعتماد کرنا چاہئے۔
نیک اور ایماندار افراد اگرچہ خود ذاتی زندگی میں مخلص ہیں،وہ خدمت قوم کا جذبہ بھی رکھتے ہیں۔لیکن انھوں نے اپنے حلقہ انتخاب میں رائے دہندگان پر کوئی محنت نہیں کی ہے۔سوائے اس کے کہ وہ زبانی طور پر لوگوں سے مل کر یہ کہتے رہے کہ ’’بھائی میرا خیال رکھنا‘‘۔زیادہ سے زیادہ الیکشن کے دوران چائے پانی کا نظم کردیا،یا کوئی ضرورت مند آگیا تو اسے مجبوراً کچھ پیسے دے دیے،مجبوروں نے بھی یہ سوچ رکھا ہوتا ہے کہ نیتا جی کو الیکشن لڑنا ہے اس لیے سب کے سامنے ان سے مدد مانگو،نہیں دیں گے تو بدنام ہوجائیں گے۔نیتا جی قوم کے سوداگروں کی چاپلوسی میں لگے رہتے ہیں،بعض ایماندار افراد سوچتے ہیں کہ انتخاب جیتنے کے بعد پوری طرح ایمان داری برتیں گے ابھی انتخاب جیتنا ہے اس لئے سام دام دنڈ بھید سب سے کام لے لو۔
میں سمجھتا ہوں جس طرح سیب کی پیداوار کشمیر اور ہماچل جیسے برفیلے علاقوں میں ہی ہوسکتی ہے اور چائے کے باغان آسام و چیراپونجی و قرب و جوار میں ہی ممکن ہے۔اسی طرح نیکی کا درخت نیک ماحول میں ہی پھل پھول سکتا ہے۔جب تک رائے دہندگان کی اکثریت نیک نہیں ہوتی اس وقت تک کسی نیک انسان کا کامیاب ہونا ممکن نہیں ہے۔
اس وقت مسلم معاشرے کی جو تصویر ہے اس میں اجتماعی معاملات میں مخلص و ایمان دار ہونے کی بڑی اہمیت حاصل ہے۔اجتماعی معاملات میں اخلاص کا مطلب ہے کہ ہم ذاتی مفاد کو اجتماعی مفاد پر قربان کردیں،جہاں مسلم امت یا ملک کے باشندوں کا مفاد سامنے ہو اپنا انٹرسٹ چھوڑ دیں۔اس پہلو سے آپ اپنی پوری بستی کے ایمان دار لوگوں کا جائزہ لیجیے تو آپ دیکھیں گے جب اور جہاں ان کا ذاتی مفاد ٹکراتا ہے تو وہ اپنے ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں اور قومی مفاد کو بھول جاتے ہیں۔مفاد پرستی کی یہ بیماری ہماری قوم کے سو فیصد لوگوں میں ہے،خواہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں کتنے ہی نیک ہوں،پنج وقتہ نمازکے ساتھ تہجد گزار ہوں اور ان کے ہاتھ میں تسبیح کے دانے ہر وقت گردش میں کرتے ہوں۔لیکن آپ ذرا ان کے قریب ہوکر دیکھئے تو اندازہ ہوجائے گا کہ نیکی کا یہ لباس صرف ظاہری ہے باطن میں اس کا رتی برابر بھی شائبہ نہیں۔
انتخاب میں حصہ لینے والے بیشتر افراد جو خدمت خلق کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں اور جیتنے کے بعد بڑے بڑے کام کرنے کا اعلان کرتے ہیں عام حالات میں خدمت خلق سے دور رہتے ہیں۔اگر وہ عام حالات میں خدمت خلق کا کام کریں اور منصوبہ بند طریقے سے کریں تو ان سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ جیتنے کے بعد بھی کچھ کام کریں گے۔اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ ملک پر آر ایس ایس فکر کے حامل لوگوں کا کنٹرول ہے۔ہر جگہ انھیں کامیابی مل رہی ہے۔ان کی کامیابی کا بڑا سبب یہی ہے کہ انھوں نے منصوبہ بند طریقے سے کام کیا۔ان کا پہلا کام افراد سازی تھا،جس کے لیے انھوں نے اپنے اسکول کھولے اور حکومت سے بھی بڑا تعلیمی نظام کھڑا کیا،دوسری طرف حکومت کے تعلیمی نظام کو برباد کردیا خاص طور پر پرائمری نظام تعلیم کی ہوا نکال دی۔حکومت کے تعلیمی نظام کے چوپٹ ہوجانے کے بعد ہی سنگھ کے تعلیمی نظام کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔تعلیمی نظام کے ذریعے انھوں نے نئی نسل کو اپنے مقصد کے لیے تیار کیا،گزشتہ ستر سال میں انھوں نے تین نسلوں کی تربیت کی،پہلی نسل ان لوگوں کی اولاد تھی جنھوں نے جنگ آزادی کو دیکھا تھا اس لیے سنگھ کے نظریات کا ان پر کم اثر ہوا۔اس کے بعد دوسری نسل خود ان کے تربیت یافتہ افراد کی کوکھ سے پیدا ہوئی اور تیسری نسل کا سارا ذہن ہی مفلوج ہوگیا۔اسی تعلیمی نظام کے سبب لاکھوں کارکن ملے، ہزاروں آچاریوں کی شکل میں رہنما مل گئے،تنظیمی طور پر ایک مضبوط جماعت وجود میں آگئی،جس نے وقت آنے پر اقتدار پر قبضہ کرلیا۔
اگر ہمارے امیدواران یا ہماری کوئی سیاسی جماعت اسی طرح منظم ہوکر اور منصوبہ بند کام کرے تو کسی انقلاب کی امید کی جاسکتی ہے۔اگر ہمارے امیدواران اپنے حلقہ انتخاب میں پانچ، دس سال کا کوئی منصوبہ بنائیں،زمین پر کچھ ایسے کام کریں جن سے انھیں افرادی قوت بھی حاصل ہو،کارکن بھی ملیں اور اس حلقے کے رائے دہندگان کی ذہن سازی بھی ہوتو فتحیابی کی امید کی جاسکتی ہے۔کسی کو شہر کا چیرمین بننا ہے،تو اپنے شہر میں دوچار اسکول کھولے جاسکتے ہیں،کوئی ڈاکٹر ہے تو اسپتال بنواسکتا ہے،اس طرح اس کو افراد بھی ملیں گے اور اس پر آئندہ کے لیے یقین و اعتماد بھی کیا جاسکتا ہے۔
بعض امیدواروں کا خیال ہے کہ لوگ کام کی بنیاد پر ووٹ نہیں دیتے،بلکہ ذات و برادری یا پارٹی کے نام پر ووٹ دیتے ہیں،اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انتخابی سیاست میں یہ فیکٹر سب سے زیادہ کام کرتا ہے۔لیکن یہ کوئی مستقل قاعدہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ نظریہ کسی مضبوط بنیاد پر قائم ہے۔میونسپلٹی اور لوکل باڈیز کا حلقہ قدرے کم ہوتا ہے۔اگر اس چھوٹے حلقے میں کوئی شخص پانچ سال منصوبہ بند طریقے پر محنت کرے تو مجھے امید ہے کہ اس کو کامیابی ضرور ملے گی بشرط یہ کہ وہ اپنے دعوۂ ایمان اور خلوص میں سچا ہو۔ ورنہ اللہ تعالیٰ پوری بستی کو ایمانداروں کے ساتھ پلٹ دے گا۔