یکساں سول کوڈ کے پس پردہ پولرائزیشن کا تماشہ : شاہد زبیری

0
racolblegal.com

شاہد زبیری

سنگھ اور بی جے پی کو تیسرا اور آخری کھیل جو دکھانا باقی رہ گیا ہے، وہ یکساں سول کوڈ کا ہے اور اس آخری کھیل میں عوام کی آنکھوں پر اختلافات، تنازعات اور نفرت کی چادر ڈال کر نظر بندی کے سہارے بیوقوف بنانا اور جن صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات باقی رہ گئے ہیں، ان میں اور اس سے زیادہ 2024 کے پارلیمانی انتخابات میں پولرائزیشن کا کھیل کھیلنا ہے۔ نریندر مودی نے جب سے اقتدار سنبھالاہے، ان 9سالوں میں ان کے پٹارے سے مذہبی منافرت، اختلافات اور تنازعات کے کھیل کے علاوہ کچھ اور سامنے نہیں آیا۔ ملک آج معاشی لحاظ سے جہاں پہنچ گیا ہے، بیروزگاری، مہنگائی اور چند ہاتھوں میں دولت کا ارتکاز موی سرکار کا نما یاں کارنامہ ہے، چشم بینا اسے آسانی سے دیکھ سکتی ہے۔ کشمیر سے آرٹیکل 370 کا خاتمہ تو مودی سرکار کر چکی ہے، رام مندر کی بنیاد پر اس نے اقتدار حاصل کیا جس کی بنیاد وہ پہلے ہی مضبوط کرچکی تھی، اب اس کے پٹا رے میں یکساں سول کوڈ کا آخری کھیل باقی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ سنگھ اور بی جے پی نے جہاں رام مندر کے افتتاح کے لیے یکم جنوری 2024کی تاریخ طے کی ہے وہیں یکساں سول کوڈ کے ایشو کو اچھا لنے کے لیے بھی اس نے یہی ٹائمنگ رکھی ہے۔ اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ بچا نہیں ہے اور اس کے پس پردہ سنگھ اور بی جے پی نے پولرائزیشن کا کھیل شروع کر دیا ہے۔ یہ دونوںکی بقاء کا بھی سوال ہے ۔
مودی سرکار نے 2016 میں اس وقت بھی یکساں سول کوڈ کا راگ چھیڑا تھا جب 2017 میں یوپی اسمبلی کے انتخابات سر پر تھے اور دوسری مرتبہ 2018 میں، 2019 میں پارلیمانی انتخابات ہو نے والے تھے۔ حالانکہ مودی سرکار کے دور ہی میں لاء کمیشن نے سروے رپورٹ کی بنیاد پر یہ کہہ کر ہاتھ کھڑے کر دیے تھے کہ ہندوستان جیسے تہذیبی ، رواجی اور مذہبی اختلافات رکھنے والے متنوع اور کثیرجہتی ملک میں یکساں کوڈ کے نفاذ کے لیے حالات ابھی سازگار نہیں ہیں لیکن باوجود اس کے پہلے گجرات کی بی جے پی سرکار نے یہ شوشہ چھوڑا اور پھر بی جے پی کی اترا کھنڈ کی پشکر دھامی کی موجودہ سرکار نے اس ایشو کو اچھالا۔ اس نے اس کے لیے باقاعدہ جسٹس رنجنا دیسائی کی سربراہی میں یکساں سول کوڈ کا ابتدائی خاکہ (بلو پرنٹ ) تیار کرنے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے ڈالی۔سنگھ نے بی جے پی کو ایک لمحہ کے لیے اجازت نہیں دی کہ وہ اپنے اس کور ایجنڈہ سے ادھر ادھر ہو۔یہ بات دھیان رہے کہ آزادی سے پہلے انگریز حکمرانوں نے بھی یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی ہمت نہیں دکھائی تھی جبکہ کریمنل لاء انڈین پینل کوڈ کا نفاذ انگریز حکمرانوں نے آسانی سے کردیا تھا، اس لیے کہ 1857 کی پہلی جنگ آزادی جس کو انگریزوں نے بغاوت کا نام دیا تھا، اس نے انگریز حکمرانوں پر یہ حقیقت واضح کر دی تھی کہ ہندوستان کے لوگ اپنے مذہبی جذبات کے بارے میں بہت حساس ہیں، اس لیے اس نے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی جرائت نہیں دکھائی۔ اس کو معلوم تھا کہ اس میںہندوستان کے تمام مختلف مذاہب اور فرقوں کے اپنے اپنے پرسنل لاز ہیں،خاص طور پر شادی بیاہ، نکاح طلاق اوروراثت کے بارے وہ اپنے ان عائلی قوانین پر ہی عمل کرتے ہیں، اس لئے اس نے مذہبی معاملات میں دخل اندازی سے خود کو باز رکھا۔1937میں انگریزوں نے مسلمانوں کے اصرار پر مسلم پرسنل لاز (عائلی قوانین ) کی تدوین بھی مسلم ماہر قوانین اور مسلم علماء کے ہاتھوں کرائی تھی۔ اس سے پہلے راجہ رام موہن رائے جیسے ہندو مصلح کی تحریک پرمرد کے فوت ہو جا نے کے بعد ہندو عورت کے چتا کے ساتھ جل جانے یعنی ستی ہو جانے کے رواج پر پابندی کا قانون 1829 میں بنایاتھا۔ یہ صحیح ہے کہ ستی کے رواج پر پابندی تو لگی لیکن یہ رواج مکمل طور پر ختم نہیں ہوپایا۔ راجستھان جیسے صوبہ میں آزاد ی کے بعد بھی ہندو عورتوں کے ستی ہو جانے کی اکا دکا خبریں ملیں۔مسلم پرسنل لاز کی تدوین اور ستی کے رواج کا خا تمہ انگریزوں نے خود ان مذہبی فرقوں کی ایماء اور اصرار پر کیا جو ایسا چاہتے تھے۔ انگریزوں نے اس کو جبراً نہیں تھوپا۔ ایسا بھی نہیں کہ 1937 سے پہلے ہندوستانی مسلمان مسلم عائلی قوانین سے پہلے کسی اور قانون پر عمل کرتے تھے۔ انگر یزی عہد میں ان قوانین کی تدین کی گئی تھی ۔
ملک کی آزادی کے بعد جب ہندو کوڈ بل پاس کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا تو اس کی نہ صرف ہندو مہا سبھا اور آریہ سماج نے مخالفت کی بلکہ اس وقت کے صدر جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرساد بھی اس کے خلاف تھے۔کسی طرح ان کو راضی کیا گیا۔یہ کوڈ بل بھی الگ الگ حصوں میں مختلف اوقات میں پاس کیا گیا۔ جہاں تک آئین کے رہنمااصولوں کی دفعہ 44کی بات ہے تو اس بابت ماہر قوا نین کی مانیں تو اس کو دفعہ37 سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ دفعہ37سے دفعہ 44 تک کو اگر دیکھا جا ئے تو دفعہ 44 یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی سفارش تو کرتی ہے لیکن قانوناً جبریہ نفاذ کی اجازت نہیں دیتی۔ اسی لیے ہماری عدالتیں، عدالت عظمیٰ تک اس کے نفاذ کی سفارش تو کرتی رہی ہیں لیکن عدالتوں نے قانونی طور پر اس کے نفاذ کے لیے پابند نہیں کیاہے۔ ہر چند کہ یہ متنازع دفعہ اسٹیٹ کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ اس کے نفاذ کو اپنا ہدف بنا سکتی ہے لیکن اس کے نفاذ کو لازمی قرار نہیں دیتی ۔ بعض حلقے گوا ریاست کی مثال شد و مد کے ساتھ پیش کرتے ہیں لیکن وہ یہ بات نہیں بتا تے کہ گوا میں نہ صرف مسلمانوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے بلکہ بعض معاملات میں ہندوئوں کو بھی مستثنیٰ مانا گیا ہے۔ ماہر قوانین کے مطابق یہ استثناء ہندو مردوں کو بعض مجبوریوں کی بناء پر دوسری شادی کی اجازت دیتا ہے جوہندو مذہب میں نہیں ہے، چنا نچہ گوا کو چھوڑ کر ملک بھر میں مختلف مذاہب اور فرقے اپنے پنے پرسنل لاء کے مطابق شادی، بیاہ، نکاح، طلاق، وراثت اور جائیداد کے مسائل طے کرتے ہیں۔
اس مختصر مضمون میں موضوع کا تفصیل سے احاطہ ممکن نہیں لیکن اس کی ایک دو مثالیں تو سامنے کی ہیں جنوبی ہندوستان کے بعض فرقوں میں ہندو لڑکی کی شادی حقیقی ماموں کے ساتھ سب سے افضل مانی جا تی ہے۔ بعض پہاڑی علاقوں میں ہندئو وں کے بعض طبقوں میں زمین کی تقسیم کو روکنے کے لیے ایک عورت کے ایک سے زائد خاوند رکھنے کا رواج ہے۔ سوشولوجی کی نصابی کتابوں میں بھی اس کو پڑھا یا جاتا ہے۔ ایک طالب علم کی حیثیت سے بی اے کے سوشولوجی کے نصاب میں راقم نے خود یہ پڑھا ہے۔ علاوہ ازیں ہندو کوڈ بل کے تحت مشترکہ کنبوں کو انکم ٹیکس میں چھوٹ ملی ہو ئی ہے جو معاشی طور پر ایک بڑی راحت ہے۔ اس روشنی میں اگر دیکھا جا ئے تو سنگھ اور بی جے پی کی مودی سرکار کو ملک کی اقلیتوں مسلم جین، سکھ، عیسائی اور بودھ وغیرہ کو یکساں سول کوڈ کا پابند کر نے سے پہلے ہندو اکثریت کے لیے یکساں سول کوڈ کو نافذکے نفاذ کا تجربہ کر لینا چاہیے ۔
یہاں یہ بات دھیان رہے کہ لاء کمیشن کی آڑ لے کرمودی سرکار اس مسئلہ پر عوام کو گمراہ کر نا چاہتی ہے اور لاء کمیشن آزاد نہیں ہے بلکہ وزارت قانون کے تحت کام کرتا ہے۔ مودی سرکارمیں ہی اس سے پہلے لاء کمیشن یکساں سول کوڈ کے نفاذ میں آنے والی دشواریوں اور خود کے سروے کی بنیاد پر اس کے نفاذ سے پلہ جھاڑ چکا ہے لیکن اب مودی سرکار نے پھر اس ایشو کو انتخابی پولرائزیشن کے لیے ہوا دی ہے۔ آزاد ہندوستان میں اس مسئلہ نے اس وقت سب سے زیادہ شدت اختیا ر کی تھی جب 1985 میں شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ نے شاہ بانوکے حق میں فیصلہ سنایا تھا جس کے خلاف مسلمانوں کا سیلاب سڑکوں پر اتر آیا تھا۔ بعد میںجس کی کوکھ سے ہمارے بہت سے سنگین مسائل نے جنم لیا۔ اس تناظر میں مولانا ارشد مدنی کی یہ بات صد فیصد صحیح ہے کہ یہ معاملہ صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ تمام ہندوستانیوں کا ہے۔ ہم سڑکوں پر احتجاج نہیں کریں گے اور قانون کے دائرے میں تمام ممکنہ اقدامات کریں گے۔ مذہبی معاملات میں سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ انہوں نے یہ بات مسلم دانشوروں کے وفد سے کہی ہے۔
[email protected]