موربی سانحہ کے کچھ اہم پہلو

0

پروفیسر نیلم مہاجن سنگھ
سانحات کا اثر ہر انسان پر پڑتا ہے۔ یہ واقعات گہری چھاپ چھوڑتے ہیں۔ گجرات میں 135سے زیادہ افراد کی موت نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان میں عورتوں اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔ موربی پل تو ٹوٹا لیکن ساتھ ہی ان کے خاندان کی اپنے پیاروں سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئے۔ ایک طرف تو گجرات میں انتخابی ماحول ہے اور دوسری طرف اس سانحہ نے سبھی فریقوں کو جذباتی طور پر بہت ٹھیس پہنچائی ہے۔ ٹھیکیدار کو نا اہل قرار دیا جا رہا ہے۔ موربی پل کی نئی منزل بہت بھاری تھی اور غیر متوقع طو ر پر بڑی تعداد کا پل پر چڑھ جانا اس سانحہ کی اہم وجوہات ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اس سانحہ پر گہری تکلیف اور تعزیت کا اظہار کیا ہے اور سبھی سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ اس درد کی گھڑی میں سیاسی بیان بازی نہ ہو ۔ کانگریس پارٹی نے تو گجرات ماڈل کی پردہ فاش ہونے کا الزام لگایا ہے۔
اس سانحہ کے پیچھے کا منظرنامے کا مطالعہ کرنا بہت ضروری ہوگیا ہے۔ موربی پل کی آمدنی اور اس کا انتظام اجنتا مینوفیکچرنگ پرائیوٹ لمیٹڈ (اوروا گروپ)کے ذریعہ کیا جا رہا تھا۔ ساتھ ہی اسٹاف کی تقرری ، ٹکٹ بکنگ، کلکشن، رکھ رکھائو اور صفائی ستھرائی سمیت تمام انتظامی امور اور سبھی اخراجات کی تفصیل اورووا گروپ کے ذریعہ ہی کی جا رہی تھیں۔ کوئی دوسری ایجنسی چاہے وہ سرکاری ہو یا غیر سرکاری اس میں مداخلت نہیں کرے گی۔ سمجھوتے کے ساتویں اور آخری شق میں یہ نشاندہی ہے۔ موربی میں کیبل برج کے فرش کو چار لیئر والی ایلومنیم کی شیٹ سے ٹھیک کیا گیاتھا جس کی وجہ سے پل پر کافی وزن بڑھ گیا تھا۔ ساتھ ہی کیبل کو بدلا نہیں گیاتھا چونکہ اس سلسلے میں گرفتار کیے گئے 9لوگوں نے 150لوگو ںکی جان لی ہے۔ انہیں عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ استغاثہ نے اس اوروا گروپ کمپنی کو قصور وار ٹھہرایا جسے مرمت کا ٹھیکہ دیا گیا تھا۔ عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ کمپنی اس کام کے لیے اہل نہیں تھی۔ چار ملزموں کو پولیس حراست ہے۔ جبکہ پانچ دیگر افراد کو عدالتی ریمانڈ پر بھیج دیاگیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے موربی پل گرنے کے متاثرین کے 26 ممبران سے ملاقات کی ہے۔ موربی سول اسپتال میں پل گرنے اور زخمیوںسے ملنے اور جائے حادثہ کے دورہ کر نے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی اے ایس پی دفتر بھی پہنچے۔ سبھی اس بات پر حیران ہیں کہ اس سانحہ کا سبب کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے 14نومبر کو سنوائی کے لیے پل ٹوٹنے کے سانحہ کی جوڈیشیل انکواری والے مطالبہ کی عرضی کو سماعت کے لیے رکھا ہے۔ مچھو ندی پر ابھی بھی راحت کے کام کیے جارہے ہیں۔ این ڈی آر ایف کمانڈنٹ وی وی این پرسنا کمار نے بتایا’ ایسا شک ہے کہ ندی کے تہہ میں کچھ لاشیں جمع ہوگئی ہیں۔ اس لیے ہم نے گہرے پانی میں اپنے غوطہ خوروں کی مدد سے آپریشن شروع کیا ہے۔‘ وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کو حالات کا جائزہ لینے کے لیے موربی کے اس مقام کا جائزہ لیا جہاں پر پل ٹوٹا تھا۔
مودی کے ساتھ گجرات کے وزیراعلیٰ بھوپیندر پٹیل بھی تھے ۔ ویسے تو پانچ لاکھ روپے کی رقم حادثے میں مرنے والوں کے ورثا کو دیے جانے کا اعلان کیا ہے۔ پی ایم مودی نے موربی کا دورہ کیا اور متاثرین کے اہل خانہ سے ملاقات کی ۔ موربی پل ٹوٹنے کے سانحہ میں بچنے والے لوگوں نے اپنے دوستوں کے کھوئے جانے کا درد وزیراعظم کو بتایا کہ ’ہم میں سے 6لوگ چلے گئے ہیں۔ موربی نگر پالیکا کے چیف ایگزیکیٹو آفیسر نے نجی کمپنی کے ساتھ پانچ سال کا ایگریمنٹ کیا تھا۔ اس ایگریمنٹ کے مطابق مارچ 2037تک یہ سمجھوتہ قابل عمل رہے گا۔ اس کمپنی کو 2007میں اور پھر 2022میں پل کی مرمت کا کام سونپا گیاتھا۔ کیبل ، بدلے ہوئے فرش کا وزن اٹھانے کی حالت میں نہیں تھے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے حالات کا جائزہ لیا اور ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی اور کہاکہ اس سانحہ کے تمام پہلوئوں کے جانچ کرنا ضروری ہے۔ ایف آئی آر میں اویرا کمپنی کے مالکوں اور نگر پالیکا افسران کا نام ایف آئی آر میں نہیں لیا گیا ہے۔ ریاست میں چنائو سے پہلے اس سانحہ پر الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ چل رہا ہے۔ کانگریس کے لیڈر پی چدمبرم نے منگل کو ٹوئٹ کرکے پوچھا کہ گجرات سرکار اور بی جے پی نے اس سانحہ کے 48گھنٹے بعد بھی بنیادی سوالوں کا جواب کیوں نہیں دیا؟ ’ اگر کوئی سوال پوچھا جاتا ہے تو وہ اس کو اس سانحہ پر سیاست کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔ اگر کوئی جواب نہیں دیا جاتاہے تو وہ کیا ہے؟ ‘
کئی لوگ ابھی بھی لاپتہ ہیں اور اس نہر میں گندے پانی کی وجہ سے کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے اور یہ سب گمشدہ شخص کے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ بچائو کام میں لگے لوگوں کو اس سانحہ میں اب کسی کے زندہ بچنے کی بالکل امید نہیں ہے۔ بین الاقوامی میگزین اسٹرکچر اینڈ انفراسٹکچر میں شائع ہونے والے 2020کے ایک مطالعہ میں ہندوستان میں 1977سے 2017 تک پلوں کی تعمیر میں ناکامیوں اور خامیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کے مطابق پلوں اور پیدل پلوں کو چھوڑ کر 2,130پلوں کو مناسب حالات میں رکھنے میں ناکامی ہورہی ہے۔ ایک مطالعہ کے مطابق ہندوستان میں قدرتی آفات نے 2,10پلوں کے نمونے اس کے ڈھانچے کی بنیاد پر جمع کیے ہیں جن میں 80.3فیصد کے پلوں کے ڈھانچوں کی ناکامی پر سب سے تباہ کن اثر ڈالا ہے۔ قدرتی آفات کے علاوہ پلوں کی ناکامی کے 10.1فیصد اسباب میں اس میں لگنے والے سامان کے معیار میں کمی بتائی جارہی ہے۔ جبکہ اوور لوڈنگ نے پلوں کو غیر معیاری بنانے کا تناسب3.28فیصد سبب ہے۔
اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پلو ں کے ناکام ہونے کے دیگر اسباب بھی ہیں۔ جیسے کہ غیر مطمئن افراد کے ذریعہ دھماکے ، گاڑیوں یا جہازوں کے ساتھ حادثات وغیرہ وغیر۔ موربی نگر پالیکا کے چیف ایگزیکٹیو سندیپ سنگھ جھالا نے کہا ہے کہ گجرات کے موربی میں مچھو ندی پر بنے پل کو 15سال سے چلانے اور رکھ رکھائو کے لیے اووریوا کمپنی کو ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اس سال مارچ میں اس پل کو عوام کے استعمال کے لیے بند کردیا گیا تھا ۔ اس کی مرمت اور تزئین کاری کی جا رہی تھی۔ گجراتی سال نو کے دن تعمیر نو کی مکمل پوری ہونے کے دن 26 اکتوبر کو دوبارہ کھول دیا گیا لیکن نگر پالیکا نے ابھی تک اس پل کے لیے فٹنس سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا۔ آخر کار یہی کہنا ہوگا کہ کچھ گہری تکنیکی بے ضابطگیوں کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا۔ اس معاملہ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ توجہ ہٹی تو حادثہ پیش آیا۔ اعلیٰ معیار والے انجینئرنگ کے پروجیکٹوں میں کرپشن اور غیر پیشہ وارانہ طریقے سے انتخاب نہیں ہونا چاہیے۔
(مضمو ن نگار سینئر صحافی اور سالیٹسر برائے انسانی حقوق ہیں)
[email protected]