اخلاص: برکات وثمرات

0

آصف تنویر تیمی
اخلاص دین کی بنیاد اور اساس ہے۔ بلا اخلاص اسلام کا تصور نہیں ممکن نہیں۔ مسلمان کا کوئی نیک عمل بلا اخلاص کے قبول نہیں ہوتا ہے۔ موجودہ زمانے میں مخلص بندوں میں کمی اور مکاروں اور دیکھاوا کرنے والوں کی بہتات ہے۔ چنانچہ بے عملی اور ریاکاری کے اس زمانے میں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ اخلاص کے موضوع کو زیر تحریر لایا جائے تاکہ ہمارے اعمال ونیت کی اصلاح ہو، اس لئے کہ آخرت میں وہی عمل مقبول ہوگا جس پر اخلاص کی مہر لگی ہوگی۔
اخلاص عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی کسی چیز کا ہرقسم کی نجاست وغلاظت سے پاک وصاف ہونا ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں اخلاص ایک معبود کی عبادت کے پختہ ارادے کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا:’’آپ کہہ دیجئے کہ میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہوں۔ میری جانب وحی کی جاتی ہے کہ سب کا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہئے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے‘‘۔( الکہف: ۱۱۰)اخلاص کی تعریف کا تقاضہ یہ ہے کہ ایک مسلمان کی اطاعت وبندگی کا مقصد صرف اور صرف تقرب الہی کا حصول اور ریاکاری سے اجتناب ہو۔
اللہ کے نیک بندے ہر حال میں اپنے اعمال سے اللہ کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد اپنے رب کی تعظیم، توقیر، اس کے احکام کی پیروی، اس کی عبادت،اس کی محبت، اس کی رویت، جنت کا حصول، اس کے بے پایاں اجر وثواب کی امید، اس کے عقاب کا خوف، اور جہنم سے نجات ہوتا ہے۔اخلاص ہی حقیقی معنوں میں دین اور مذہب کا خلاصہ ہے۔اس کے تعلق سے قرآن کریم میں متعدد آیات موجود ہیں اللہ تعالی نے فرمایا:’’اور انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں۔ ابراہیم حنیف کے دین پر اور نماز کو قائم رکھیں اور زکوۃ دیتے رہیں یہی ہے دین سیدھی ملت کا‘‘۔( البینہ: ۵)دوسرے مقام پر فرمایا:’’ آپ کہہ دیجئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالی کی اس طرح عبادت کروں کہ اسی کے لئے عبادت کو خالص کرلوں‘‘۔ ایک اور جگہ فرمایا:’’پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے‘‘ ،’’خبر دار! اللہ تعالی ہی کے لئے خالص عبادت کرنا ہے‘‘( الزمر: ۲-۳) مذکورہ تمام آیتوں کا لب لباب بس اتنا ہے کہ ہم سب عبادت کے معاملے میں شرک کی آلائش سے بچیں، اخلاص کو دینی امور میں شرط اولین قرار دیں، اور یہ ذہن میں ڈال رکھیں کہ تمام سابقہ نبیوں کا دین بھی اخلاص تھا،اور یہی ان کی دعوت کا نقطہ آغاز بھی۔اللہ تعالی نے فرمایا:’’اور ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ(لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سواتمام معبودوں سے بچو‘‘۔(النحل: ۳۶) دوسری جگہ فرمایا:’’ اور تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو‘‘۔( الأنبیاء: ۲۵)
اخلاص کا شمار اعمال قلوب میں ہوتا ہے۔ اللہ تعالی کی نگاہ میں اس عمل کی بڑی قدر ومنزلت ہے۔ امام ابن القیم جوزیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:’’ دل سے تعلق رکھنے والے اعمال میں اخلاص روح کی حیثیت رکھتا ہے، آدمی کے ظاہری اعمال اگر اس سے خالی ہوں تو اس کی مثال اس جسم کی طرح ہے جس کے اندر جان نہ ہو اور نیت دل سے تعلق رکھنے والا عمل ہے‘‘۔ (بدائع الفوائد ۳؍۱۹۲)اخلاص، اعمال کی قبولیت کے دوشرطوں میں سے ایک ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اللہ تعالی اسی عمل کو قبول کرتا ہے جس کے اندر اخلاص ہو اور اس کا مقصد اللہ کی رضا ہو‘‘۔( سنن نسائی:۳۱۴۰، علامہ البانی نے صحیح قرار دیا ہے) اخلاص کی اہمیت کے پیش نظر اس صفت سے متصف لوگوں کی شان کو اللہ نے قرآن کریم میں بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:’’اور اس قرآن میں موسی(علیہ السلام) کا ذکر بھی کر، جو چنا ہوا اور رسول اور نبی تھا‘‘۔( مریم: ۵۱) یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:’’ اوراس عورت نے یوسف( علیہ السلام) کی طرف کا قصد کیا اور یوسف(علیہ السلام) اس کا قصد کرتے اگر وہ اپنے پروردگار کی دلیل نہ دیکھتے، یونہی ہوا اس واسطے کہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی دور کریں۔ بے شک وہ ہمارے چنے ہوئے بندے میں سے تھا‘‘۔( یوسف: ۲۴)محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا:’’آپ کہہ دیجئے کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو جو ہمارا اور تمہارا رب ہے، اور ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اورتمہارے لئے تمہارے اعمال،اور ہم تو اسی کے لئے مخلص ہیں‘‘۔( البقرۃ: ۱۳۹)
اللہ تعالی نے ان لوگوں کی توبیخ بھی کی ہے جو صفت اخلاص سے عاری ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا:’’یقینا اللہ تعالی اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالی کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناہ اور بہتان باندھا‘‘۔( النساء: ۴۸) اللہ تعالی نے مشرکین کے اعمال کے بارے میں فرمایا:’’اور انہوں نے جو اعمال کئے تھے ہم نے ان کی طرف بڑھ کر انہیں پراگندہ ذروں کی طرح کردیا‘‘۔( الفرقان: ۲۳) اس آیت کی تفسیر کے ضمن میں امام ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:’’مشرکین نے اپنے جن اعمال کو نجات کا باعث سمجھا تھا وہ انہیں دن قیامت میں کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکیں گے اس لئے کہ ان میں اخلاص تھا نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور پیروی، اور ہر وہ عمل جو ان دونوں شرطوں سے خالی ہو وہ باطل قرار پاتا ہے‘‘۔
اخلاص کا معاملہ کبھی کبھار انسانی طبیعت پر شاق گزرتا ہے۔ آسانی کے ساتھ دل اس کی طرف مائل نہیں ہوتا۔ خواہشات اور نفسانی شہوت راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔اس کے باوجود اگر کوئی مسلمان اپنے اندر اس عظیم ترین صفت کو پیداکرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو یقینا وہ اجروثواب کا مستحق ہے۔ اخلاص کا معاملہ صرف عام لوگوں کے لئے ہی دشوارگزار نہیں ہوتا بلکہ علماء اور صالحین کی راہ میں بھی مشکلات کھڑی کرتا ہے۔مشہور تابعی سفیان ثوری رحمہ اللہ سے مروی ہے:’’ مجھے میری نیت سے زیادہ کسی چیز نے پریشان نہیں کیا، اس کے اندر باربار تبدیلی واقع ہوتی ہے‘‘۔( الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع، خطیب بغدادی ۱؍ ۳۱۷)یوسف بن الحسین الرازی کہتے ہیں:’’ اخلاص دنیا کی عزیز ترین شے ہے، میں اپنے دل سے ریاکاری کو نکالنے کی بڑی جتن کرتا ہوں، پھر بھی ریاکاری باربار اپنا رنگ بدل کرنمودار ہوجاتی ہے‘‘۔( جامع العلوم والحکم، ابن رجب ۱؍۸۴) عبداللہ بن مطرف کہتے ہیں:’’ اعمال صالحہ میں اخلاص پیداکرنا عمل کرنے سے مشکل ہے‘‘۔( حلیۃ الأولیاء:۱۰؍۱۲۱)
اخلاص کے بے شمار برکات وثمرات ہیں جنہیں ہمیں اپنے مدنظر رکھنا چاہئے تاکہ ہمارے اندر سے دیکھاوا اور دنیا طلبی خارج ہوسکے۔ اخلاص کے برکات وثمرات میں سے چندیہ ہیں:
(۱) جنت کی نعمتوں کا حصول: اللہ تعالی نے فرمایا:’’مگر اللہ تعالی کے خالص برگزیدہ بندے۔ انہیں کے لئے مقررہ روزی ہے۔ (ہرطرح کے) میوے، اور وہ باعزت واکرام ہوں گے۔ نعمتوں والی جنت میں ‘‘۔( الصافات: ۴۰-۴۳)ان آیتوں کا مفاد یہ ہے کہ اللہ کے نیک بندے اپنے اعمال میں اخلاص کے بدلے جنت کی نعمتوں سے مالا مال ہوں گے انہیں عذاب لاحق نہیں ہوگا۔
(۲) اعمال کی قبولیت: اخلاص، اعمال کی قبولیت کے لئے بنیادی شرط ہے۔ امام ساجی رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’بلا پانچ چیزوں کے علم مکمل نہیں ہوسکتا؛ اللہ کی معرفت، حق کی معرفت، عمل میں اخلاص، سنت کی پیروی اور رزق حلال۔ علم اگر ان اوصاف سے کسی وصف سے خالی ہوتو اس علم کا کوئی فائدہ نہیں‘‘۔ (الجامع لأحکام القرآن، للقرطبی ۲؍۲۰۸)
(۳) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا حصول: جس بندے میں جس قدر اخلاص کی صفت موجود ہوگی وہ اسی قدر آخرت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے پانے کا حقدار ہوگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ قیامت میں میری شفاعت پانے والے خوش نصیب وہ ہوں گے جو دل وجان سے اس دنیا میں کلمہ توحید کا اقرار کرتے ہیں‘‘۔( صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۹۹) مولانا صدیق حسن خان لکھتے ہیں:’’ آخرت میں شفاعت کے مستحق اخلاص کے حامل لوگ ہوں گے، مشرکوں کو شفاعت نصیب نہیں ہوگی، شفاعت اللہ تعالی کا بڑا انعام ہے جو اہل توحید کو حاصل ہوگا‘‘۔ (الدین الخالص، ۲؍۳۰۷)
(۴) حسد سے پاکی: اخلاص سے دل کو تازگی اور مسرت ملتی ہے۔ مذموم اخلاق سے طہارت وپاکیزگی ہوجاتی ہے۔ اسی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا:’’تین کاموں میں مومن کا دل خیانت نہیں کرتا: عمل کو اللہ کے لئے خلوص کے ساتھ ادا کرنا، مسلمان حکمرانوں کی خیر خواہی کرنا اور ان کی اجتماعیت میں شامل رہنا کیوں کہ ان کی دوسروں کو بھی شامل ہوتی ہے‘‘۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: ۳۰۵۶) مومن کا دل خیانت نہیں کرتا اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن ان تین کاموں کو بہتر سے بہتر انداز سے انجام دینے کی کوشش کرتا ہے۔
(۵) گناہوں کی معافی اور ثواب میں اضافہ: اخلاص گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے۔ اس کی وجہ سے عمل صالح کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔اگر عمل معمولی بھی ہوتو اللہ تعالی اس کے اجر کو بڑھا دیتا ہے۔مشہور محدث عبد اللہ بن مبارک کہتے ہیں:’’بسا اوقات معمولی عمل کا ثواب حسن نیت کی وجہ سے بڑھ جاتا ہے اور بسا اوقات بڑا عمل بھی بدنیتی کی وجہ سے ضائع ہوجاتا ہے‘‘۔(سیر أعلام النبلاء، للذہبی ۸؍۴۰۰)جامع ترمذی کی حدیث ہے کہ قیامت میں گناہوں سے بھرے ۹۹ رجسٹر کو ایک پلڑے میں رکھا جائے گا اور دوسرے پلڑے میں اخلاص کی ایک چھوٹی سی پرچی ہوگی ،اخلاص والا پلڑا وزنی ہوجائے گا۔
(۶)غلبہ اور فتح یابی: اس وقت دنیا کے سارے لوگ فتح ونصرت کے متمنی ہیں۔ ظالم سے نجات وعافیت کی کوششیں اور دعائے بکثرت کی جارہی ہیں تاہم فتح ونصرت حاصل نہیں ہورہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ ہماری عبادتوں میں اخلاص کا نہ پایا جانا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اس امت کی مدد اللہ تعالی اس امت کے کمزور لوگوں کے کی دعاؤں ان کی نمازوں اور ان کے اخلاص کی وجہ سے کرتا ہے‘‘۔ ( سنن نسائی، حدیث نمبر: ۳۱۷۸، علامہ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے) ایک دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے لوگوں کو اخلاص کی شرط پر نصرت وتمکین کی بشارت سنائی ہے۔اسلاف کی زندگی کا جائزہ لینے سے اس حقیقت کا پتہ چلتا ہے کہ اسلام کی سربلندی کا راز عقائد، اعمال اور آپسی معاملات میں اخلاص ہے۔ یہی عنصر آج مسلمانوں سے غائب ہے جس کی وجہ سے ملک وبیرون ملک میں ذلیل وخوار ہورہے ہیں۔
(۷)لوگوں میں مقبولیت: مخلص بندوں کے لئے اللہ تعالی عام لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا ڈال دیتا ہے، وہ مقبول خالق کے ساتھ ساتھ مقبول خلائق بھی بن جاتا ہے۔ برعکس اس آدمی کے جو اپنے عمل سے لوگوں کو خوش کرنا اور ان کی واہ واہی حاصل کرنا چاہتا ہے ایسا شخص برجگہ بے آبرو ہوتاہے۔معروف تابعی مجاہد کہتے ہیں:’’ جب بندہ اللہ تعالی کی طرف مائل ہوتا ہے تو اللہ تعالی مومنوں کے دلوں کو اس کی طرف مائل کردیتا ہے‘‘۔فضیل بن عیاض کہتے ہیں:’’ جو مشہور ہونا چاہتا ہے مشہور نہیں ہوپاتا ، اور جو اپنی شہرت کا خواہاں نہیں ہوتا اللہ اس کو شہرت عطا کردیتا ہے‘‘۔(اعلام الموقعین ۲؍۱۸۰)
اخلاص کی وجہ سے مباحات پر بھی اجروثواب ملتا ہے۔اچھے کام کی نیت ہو مگر مخلص بندہ کسی وجہ سے نہ کرپائے تو بھی اس کو ثواب حاصل ہوتا ہے۔ نیت میں خلوص کی وجہ سے اللہ تعالی بندے کو دنیاوی مصائب ومشکلات سے نجات دیتا ہے۔ مخلص شخص شیطان کے مکر وفریب سے محفوظ رہتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالی کی خاص توفیق میسر ہوتی ہے۔ آزمائش کے وقتوں میں بھی مخلص بندے بہ آسانی گلو خلاصی حاصل کرلیتے ہیں۔ اللہ تعالی ہم سب کو حسن نیت اور حسن عمل کی توفیق عطاکرے۔
rvr