ایتھوپیا میں قیام امن کی جانب اہم پیش رفت

0

مشرقی افریقہ کے ملک ایتھوپیا کو عیسائی دنیا میں منفرد مقام حاصل ہے۔ایتھوپیائی عیسائیوں کے بارے میں کہاجارہاہے کہ وہ سلیمان ؑ کے خاندان کے لوگ ہیں اور چند دہائی قبل ایتھوپیا میں حضرت سلیمانؑ کے ورثاکی حکومت قائم تھی۔دنیا کے تمام حکمراں خاندانوں ،بادشاہوں کے لئے وہ احترام کا مرکز تھے۔ برطانیہ کی حکومت جس کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتاتھا، اس کے حکمراں بھی حضرت سلیمانؑ کے ورثا کے آگے احترام سے سرخم کرتے تھے،مگر افریقہ کے دیگر ملکوں کی طرح ایتھوپیا کے موجودہ اور سابقہ خطوں میں خانہ جنگی اور تشدد عام بات تھی۔ایتھوپیا ایک طویل عرصہ سے خانہ جنگی ، مذہبی خلفشار اور قبائلی رقابتوں کا گڑھ بنا ہوا تھا۔چند سال قبل ایتوپیا کے ایک نوعمر اور تعلیم یافتہ لیڈر ابی محمد نے نہ صرف یہ کہ اس خان جنگی کو ختم کرنے کی کوششیں کی بلکہ پڑوسی ممالک جو کہ ایتھوپیا میں مداخلت کررہے تھے ، ان کو جنگ بندی کے لئے راضی کرلیا۔ ایک عام الیکشن میں جب وہ منتخب ہوئے تو ا ن کے اس سیاسی ایجنڈے کو کامیابی قرار دیاگیا۔پڑوس کے کئی ممالک جو کہ ایتھوپیا میں مختلف قبائل ، فرقوں اور زبان بولنے والوں کو مدد اور حمایت دے رہے تھے کہ وہ اس بات کے لئے راضی کیا کہ وہ فاقہ کشی اور خانہ جنگی کے شکار اس ملک میں مداخلت بند کریں اور یہا ںکے لوگوں کو پر امن زندگی بسر کرنے کا موقع دیں۔
ابی احمد کی ان مصالحتی کوششوں اور افہام وتفہیم کی رویہ کی وجہ سے پوری دنیا میں ان کی ستائش کی گئی یہاں تک کہ ابی احمد کو نوبل پرائز سے نوازا گیا۔پوری دنیا میں ابی احمد کے جذبہ افہام وتفہیم کی ستائش کی گئی ، مگر افریقہ کے ایک خطے تگرے میں جو کہ عیسائی اکثریتی علاقہ ہے تگرے باغی جو کہ پہلے سے ہی مسلح تھے اور سرگرم ہوگئے اور انہوں نے علیحدہ ریاست کا مطالبہ کرنا شروع کردیا۔یہ صورتحال ایک امن رضا کار وزیر اعظم کے لئے بڑا چیلنج تھی۔تگرے میں سرگرم تگرے پیوپلز فرنٹ (ٹی پی ایل ایف)کی علیحدگی پسندی اور دہشت گردانہ پسند کی وجہ سے اسے دہشت گرد گروپ قرار دے دیاگیا۔ ایتھوپیا کی سرکار اور ٹی پی ایل ایف کے درمیان تشددایک جنگ کی صورت اختیارکرگیا جن کی اثرات نہ صرف ایتھوپیا پر بلکہ آس پاس کے ممالک پر بھی دکھائی دینے لگے۔حالات بے قابو ہوتا دیکھ کر سوڈان ،ایریٹریااور چارڈ وغیرہ کے دہشت گرد سرکاری افواج اور مختلف قبائل کی فوجیں ایتھوپیا میں مداخلت کرنے لگی۔پورا ملک خانہ جنگی کا شکار ہوگیا۔
ابی احمد کے حکومت کو تگرے میں فیصلہ کن انداز میں کارروائی کرنی پڑی۔ خیال رہے کہ کئی حلقے ایتھوپیا کو عیسائی اکثریتی ملک قرار دیتے ہیں مگر بعد میں جو معتبر اعدادوشمار یہ بات سامنے آئی کہ ایتھوپیا میں مسلمانوں کی تعداد کافی ہے اوردیگرمذہبی گروپ تعداد اس سے کم ہے۔اس کے باوجود مغربی ممالک یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ عیسائی اکثریت کے باوجود اقتدار سے باہر ہے۔جب کہ ابی احمد کی قیادت میں بننے والی حکومت ایک جمہوری طورپرسخت حکومت تھی۔
اقوام متحدہ اور دیگر طاقتوں کی مداخلت سے پچھلے دنوں نومبر 2022میں جنوبی افریقہ کی راجدھانی پریٹوریا میں ایک جنگ بندی معاہدہ ہوا اور یہ طے پایا کہ تگرے کے جنگجوہتھیار ڈالیں گے اور انتخابی عمل میں شامل ہوں گے اورعندلس ربابا کی حکومت خطے میں ضروریات زندگی فراہم کریں گے اورپابندیوں کو نرم کریں گے۔اس معاہدہ کی رو سے تگرے کے ٹی پی ایل ایف کوپارلیمنٹ نے دہشت گرد تنظیموں سے باہر کرکے ملک میں افہام تفہیم کی رفتار کو تیزی دی۔اس سے قبل مغربی طاقتوں بطور خاص امریکہ نے ایتھوپیا میں تعمیراتی کاموں کو فروغ دینے ،قیام امن اور انسانی مدد پہنچانے کے لئے ایک بڑا قدم اٹھایا اور وزیرخارجہ اینتھونی بلنکن نے ایتھوپیا کا دورہ کیا اور 331بلین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا۔امریکہ کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کی ایتھوپیا کو ملنے والی امدادی رقم 780ملین پہنچ گئی ہے۔ظاہر ہے کہ یہ قدم نہ صرف ایتھوپیا میں ترقیاتی کاموں کورفتار دے گااور براعظم افریقہ میں امریکہ کی پوزیشن کو بہتر بنائے گا۔امریکہ کے سامنے ایک بڑا چیلنج مختلف محاذوں پر روس اور چین کے بڑھتے اثر ورسوخ کو بھی کنٹرول کرنا ہے۔ کئی افریقی ممالک مغربی طاقتوں کی بڑھتی موجودگی کی وجہ سے خائف ہیں اور انہوں نے مختلف محاذں پرروس اور چین سے تعاون حاصل کرنا شروع کردیاہے۔ مغربی ممالک اسی رجحان کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔
rt

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS