Image:The Conversation

water shortagesرمضان المبارک کے مد نظرصاف پانی کی سپلائی کا مطالبہ
نئی دہلی ( محمدیامین ،ایس این بی) : جمنا پار کے بیشتر علاقوں کی جل بورڈ لائنوں میں گندہ پانی کی سپلائی سے لوگ بیحد پریشان ہیں اور بورنگ کے پانی کا استعمال کرنے پر مجبور ہورہے ہیں جس سے لوگوں کی صحت کو خطرہ لاحق ہے ۔سیلم پور کے حکیم امام الدین ذکائی اور ڈاکٹر محمد کاشف کا کہنا ہے کہ خراب پانی پینے و عدم صاف صفائی سے چکن گنیا، ڈینگو، ملیریا،بخار، ہیضہ، آنتوں کی سوزش،الٹی دست وپیٹ کی دیگر بیماریوں میں لوگوں کا ملوث ہونا عام بات ہے جبکہ حفظان صحت کے لئے صاف پانی کے استعمال کا اہم دخل ہے ۔ مصطفی آباد کے علیم انصاری کا کہنا ہے کہ لوگ گزشتہ کئی مہینے سے صاف پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور جب تھوڑی دیر کے لئے جل بورڈ کی لائنوں میں پانی آتا ہے تو وہ بور ویل کا خراب پانی بدبو دارہو تا ہے جو پینے کے لائق نہیں ہوتا جس کی شکایت ممبر اسمبلی سے کرنے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی جاتی جس سے لوگوں میں ایم ایل اے کے خلاف کافی ناراضگی ہے ۔ قاری فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ جمنا پار کے بیشتر علاقوں میں گنگا کے پانی کی سپلائی بند کر کے بور ویل کے پانی کی سپلائی کردی گئی ہے جس پینے سے لوگ طرح طرح کی بیماریوں میں ملوث ہوتے جارہے ہیں۔ جعفر آبادکے مجاہد خان نے جل بورڈ کی لائنوں کا پانی دکھایا جس کا رنگ تبدیل تھا جس تعلق سے مقامی ممبر اسمبلی کو بتانے کے باوجود کوئی توجہ نہیں دی گئی۔آفتاب آزر کا کہنا ہے کہ سیور لائن کافی پتلی اور برسوں پرانی ہے جس کا گندہ پانی جل بورڈ کی لائنوں میں جانے لگا ہے جس کے پینے سے بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ ہے جس طر ف منتخب نمائندوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر شہناز پروین کا کہنا ہے کہ پینے کے صاف پانی کی قلت سے بورنگ کا پانی پینے کے لئے مجبور ہیں جسے حکومت اخبارات ، ٹیلی ویزن اور جگہ جگہ بورڈ آویزاں کر کے بورنگ کا کھارا پانی پینے سے منع کرتی ہے مگر مجبوری کے تحت فلٹر کرکے استعمال کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ جمنا پار کے بیشتر علاقوں میں گزشتہ کئی مہینوں سے خراب پانی کی سپلائی ہے جس کے ازالہ کے لئے عوامی نمائندوں کو اپنی ذمہ داری نبھاکر صاف شفاف پانی کی سپلائی کو یقینی بنانے کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ چند دنوں میں رمضان المبارک کا مہینہ بھی شروع ہونے والا ہے ۔ سماجی کارکن حاجی آفتاب احمد کاکہنا ہے کہ سیلم پور، بابر پور، مصطفی آباد ، گھونڈہ اور کراول نگر کے ممبران اسمبلی کی ذمہ داری ہے کہ وہ صاف پانی کی سپلائی کو یقینی کرائیں اور مین مین مقامات پر پانی کے ٹینکرپہنچوائیں تاکہ لوگوں کی پریشانی کا خاتمہ ممکن ہوسکے ۔ شری رام کالونی راجیو نگر کے سابق کونسلر حاجی آس محمد کا کہنا ہے کہ عام آدمی پارٹی و اس کے قائد اروند کجریوال پانی کے تعلق سے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن اگر وہ شری رام کالونی راجیو نگر میں پینے کے پانی کے تعلق سے انکواری کرائیں تو پتہ لگے گا کہ لوگ صاف پانی کے لئے بوند بوند کو ترسنے پر مجبورہیں۔ آل انڈیا مسلم ایکتا کمیٹی کے چیئرمین حاجی اکرام حسن کا کہنا ہے کہ پینے کے صاف پانی کی قلت سے لوگ پینے کا پانی خرید نے پر مجبور ہورہے ہیں اور اسی وجہ سے جگہ جگہ لوگوں نے پانی کے پلانٹ لگا رکھے ہیں جو گھر گھر اور دکانوں پر سپلائی کررہے ہیں جس کے مد نظر حکومت دہلی کو جل بورڈ کی لائنوں میں پینے کے صاف پانی کی مسلسل سپلائی کو یقینی بنانا چاہئے کیونکہ رمضان المبارک کا مہینہ بھی شروع ہونے والا ہے جس میں صاف شفاف پانی کا استعمال لوگوں کی اولین ترجیحات میں شامل رہتا ہے۔سیلم پور کے عبدالرحمن اور مصطفی آباد کے ایم ایل اے حاجی محمد یونس کا کہنا ہے کہ پینے کے صاف پانی کی مسلسل سپلائی کے لئے ضروری اقدامات کئے جارہے ہیں۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here