کس کے پالے میں رہیں گے کس کے ساتھ جائیں گے شرد پوار

0

شا ہد زبیری
ہندوستانی سیاست کے بھی رنگ نرا لے ہیں ،اصولوں اور آدرشوں کی بجا ئے سیاسی مفادات نے لیڈروں کو ابن الوقت بنادیا تو پارٹیوں نے سیاسی اصولوں اور نظریات سے خود کو آزاد کرلیا ہے۔اسکا آغاز اس وقت ہوا جب جے پرکاش نرائن کی قیادت میں بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے لیڈر اور مختلف الخیال پارٹیاں اس وقت کی وزیرِ اعظم اندرا گا ندھی کی مطلق العنانی کیخلاف ایک چھتری کے نیچے جمع ہو گئی تھیں اور بعد میں اندرا گاندھی نے ملک میں ایمر جنسی کا نفاذ کردیا تھا جس کے نتیجہ میں تمام سیاسی سر گر میاں غیر قانونی قرار دیدی گئی تھیں اور تمام سیاسی لیڈران جیلوں میں ٹھونس دئے گئے تھے لیڈران ہی نہیں وہ صحافی بھی داخلِ زنداں کر دئے گئے تھے جو اندرا گاندھی کی مطلق العنا نیت کیخلاف قلم چلا رہے تھے۔ان پارٹیوں اور لیڈران میں وہ بھی تھے جو ہندو راشٹر کے خواب کوآنکھو ں میں بسائے ہوئے تھے اور وہ بھی جو سماجی انصاف اور سماجی مساوات ،سیکولر ، سوشلسٹ اورجمہوری اقدار کو سینے سے چمٹائے ہوئے تھے لیکن بائیں بازو کی کمیو نسٹ پارٹیاں ان کیساتھ نہیں تھیں وہ اندرا گا ندھی کے پا لے میں تھیں۔ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے قد آور لیڈر سیتا رام یچوری نے اس بابت ایک ملاقات میں راقم الحروف سے اپنے مئوقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پورا سنگھ پریوار اور اس وقت کی جن سنگھ موجودہ بی جے پی جے پر کاش نرائن کی چھتری کے نیچے کھڑے تھے ہم نے اس وقت بھی اس پر اعتراض کیا تھا اور اور سنگھ پریوار و جن سنگھ کے ساتھ لئے جا نے کو ملک کے سیکولرزم ،سوشلزم اور جمہوری اقدار کیلئے خطرہ کی گھنٹی بتا یا تھا لیکن اس وقت ہماری کسی نے نہیں سنی اور نتیجہ سامنے ہے کہ دو سیٹوں والی جن سنگھ نے بعد میں دوہری رکنیت کے سوال پر خود کو جنتا پارٹی سے لگ کر لیا تھا اور جن سنگھ کے چہرہ پر بھا رتیہ جن سنگھ کا مکھوٹا لگا دیا گیا اور پارلیمنٹ میں دو سیٹوں والی جن سنگھ اور سنگھ پریوار نے سرکاری اداروں میں اپنے آدمی اہم عہدوں پر بٹھا دئے تھے پھر ایک دن وہ بھی آیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اٹل بہاری باجپئی وزیرِ اعظم کی کرسی پر جلوہ افروز ہو گئے ۔
سیتا رام یچوری کا خطرہ صحیح ثابت ہوا آج دو سیٹو ں والی جن سنگھ جو بی جے پی بن چکی ہے پارلیمنٹ میں مکمل اکثریت کیساتھ اندرا گا ندھی سے زیادہ مطلق العنان بن کر مر کز میںسرکار چلا رہی ہے اپوزیشن ہی نہیں وہ سپریم کورٹ کو بھی انگوٹھا دکھا رہی ہیں اور مقنّنہ اور عدلیہ کی تکرار روز کا معمول بن گئی ہے ،سیکولرزم اور سوشلزم پر سوال کھڑے کئے جا رہے ہیںحد تو یہ ہیکہ مرکزکی مودی سرکار پر ہندوستان کے آئین کو طاق پر رکھنے کے الزامات لگ رہے ہیں آئین کو یکسر بدلنے کی آوازیں بی جے پی کے اندر سے اُٹھ رہی ہیں نائب صدرِ جمہوریہ دھینگر ہوں یا وزیرِ اعظم کی معاشی صلاحکار کمیٹی کے چیئر مین ڈاکٹر دیب رائے ،کھل کر آئین ہند کو مکمل طور بدلنے کی باتیں کہ رہے ہیں19اگست کے ایک ہندی روزنامہ میں دیب رائے نے اپنی اس نظریہ سے انکار نہیں کیا دلیل یہ دی کہ ایک کالم نگار کا اپنا ایک نظریہ ہوتاہے جس کا اظہار وہ اپنے کالم میں کرتا ہے یہ بات رائے نے تب کہی جب جب وزیرِ اعظم کی معاشی صلاحکار کمیٹی نے دیب رائے کے آئین بدلنے کے نظریہ سے پلّہ جھاڑ لیا جو آزاد میڈیا کے ہائے توبہ مچا نے کا نتیجہ ہے ۔ تادمِ تحریر وزیرِ اعظم کے آفس اور بی جے پی کیطرف سے پھر بھی اس بابت خاموشی نہیں توڑی گئی ہے اور دیب رائے کے نظریہ کی تردید نہیںکی گئی ہے ۔
ملک کے ایسے سنگین حالات میں اگر یہ خبریں اخبارات کی زینت بنتی ہیں کہ نو تشکیل شدہ اپوزیشن اتحاد’ انڈیا’ کے قدآور لیڈر اور مہاراشٹر کی سیاست کے مہارتھی شرد پنوار ڈانوا ڈول ہو رہے ہیں اور’ میں ادھر جائوں یا ادھر جائوں’ کی کیفیت سے دو چار ہیں تو تشویش کی بات تو مانی جا ئیگی ہی ۔آخر سیکولرزم کے دعویدار شرد پنوار ہندو راشٹر کی وکالت کرنے والی پارٹیوں کیساتھ جا نے والے باغیوںسے رابطہ بنا ئے رکھیں گے تو سوال اٹھنا فطری ہے ۔
اس سارے تنازع نے اس وقت سر اٹھا یا جب این سی پی کے دوسرے بڑے لیڈر اور شرد پنوار کا دایاں ہاتھ مانے جا نے والے ان کے بھتیجے اجیت پنوار این سی پی سے ناطہ توڑ کر بی جے پی کی چھتر چھایا میں چلے گئے اور مہارشٹر سرکار میں نائب وزیرِ اعلیٰ بن گئے بات اگر اتنی ہی رہتی تو بھی شرد پنوار کی وفاداری پر انگلیاں نہ اٹھتی لیکن اجیت پنوار کے پالا بدلنے کے بعد شرد پنوار نے ابھی تک نہ تو مہا راشٹر اسمبلی کیلئے پارٹی کی طرف سے کوئی وہپ جا ری کیا اور نہ ہی کوئی ایسی خبر ہماری نظر سے گذری کہ پارٹی کو دو لخت کرنے والے اجیت پنوار کے اس قدم پر انہوں نے کو ئی نرم یا سخت بیان دیا ہو اور نہ پارٹی سے ان کا اور ان کے ساتھی ممبرانِ اسمبلی کا اخراج کیا ۔اجیت کمار اور ان کیساتھ این سی پی سے بغاوت کر نے والے پارٹی کے ممبرانِ اسمبلی شرد پنوار سے کبھی خفیہ اور کبھی اعلانیہ ملاقاتیں کررہے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے جس کو لیکر شرد پنوار شک کے دائرہ میں ہیں اسمیں شرد پنوار کا اپنا ڈھل مل رویّہ بھی ذمّہ دار ہے۔ شرد پنوار اپوزیشن کے اعتراض کی پرواہ نہ کرتے ہوئے گذشتہ دنوں مہا راشٹر کے پُنے شہر میں لوک مانیہ تلک راشٹریہ ایوارڈ کی تقریب میں وزیرِ اعظم مودی کیساتھ اسٹیج پر بیٹھے ۔شرد پنوار کے اس رویّہ کو بی جے پی اور سنگھ کی وکالت کر نے والا میڈیا بھی خوب ہوا دے رہا ہے شائد اس کا احساس شرد پنوار کو بھی ہو نے لگا ہے اسی لئے 19 اگست کے اخبارات میں انکا ایک بیان سامنے آیا ہے جسمیں انہوں نے15 اگست کو قوم کے نام خطاب کے دوران وزیرِ اعظم نے جو کچھ کہا اس پر گرفت کی ہے اور بی جے پی کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے اور الزام لگا یا ہیکہ” بی جے پی جمہوری طرز پر منتخب حکومتوں کو گرا نیکی سازش رچتی ہے ۔انہوں نے مہار اشٹر میں ایک ریلی میں کہا کہ بی جے پی مستحکم سرکار کی وکا لت کرتی ہے لیکن سچائی یہ ہیکہ وہ قانونی طور منتخب ریاستی حکومتوں غیر مستحکم کر نے اور کمزور کر نیکی سازش کرتی ہے ان کا اشارہ این سی پی اور شیو سینا و دگر پارٹوں کی ساجھا اودھے ٹھاکرے کی سرکار میں بغاوت کرانے اور ایکناتھ شنڈے کی سرکار بنا ئے جا نیکی طرف تھا ۔شرد پنوار نے وزیرِ اعظم کی 15اگست کی تقریر کا حوالہ دیتے ہو ئے کہا کہ وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ واپس پھر آئیں گے میں انہیں بتا نا چا ہتا ہوں کہ ایسا ہی مہاراشٹر کے سابق وزیرِ اعلیٰ دیوندر فرڈناویس نے بھی کہا تھا وہ اقتدار میںضرور واپس آئے لیکن کمتر ـعہدے پر ۔ ــ” شرد پنوار کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسی ماہ کے آخیر میں اپوزیشن اتحاد کی تیسری اور اہم میٹنگ ممبئی میں ہو نے والی ہے جسمیں مشترکہ منیمم پرو گرام کو آخری شکل دیجا نی ہے ۔اس سے پہلے شرد پنوار کی سیاسی وفاداری پر سوال اٹھنا اپوزیشن اتحاد کیلئے نیک فال نہیں ۔ بی جے پی اور اسکا ہمنوا میڈیا بھی یہ خبریں اڑا رہا ہیکہ مودی سرکار میں شرد پنوار کو وزیرِ زراعت کا عہدہ یا نیتی آیوگ کا چیئر مین بنائے جا نیکی پیشکش کی گئی ہے اور بی جے پی ہر قیمت پر اپوزیشن اتحاد کی ممبئی میں ہو نے والی میٹنگ سے پہلے پہلے شرد پنوار کو اپنے پالے میں کھینچنا چا ہتی ہے۔ اگر شرد پنوار اجیت پنوار اور ان کے ساتھیوں کی بغاوت کے بعد باغی ممبرانِ اسمبلی اور اجیت پنوار کیخلاف کوئی سخت قدم اٹھا تے جو ابھی تک نہیں اٹھا یا ہے اور اپوزیشن اتحاد کی بات مان کر پُنے شہر میں ہو نیوالی تقریب میںوزیرِ اعظم مودی کیساتھ اسٹیج شیئر نہ کرتے تو اپوزیشن کیساتھ ان کی وفاداری شک کے دائرہ میں نہ آتی لیکن انہوں نے ابھی تک نہ اجیت پنوار اور باغی ممبرانِ اسمبلی کیخلاف کسی کارروائی کا کوئی عندیہ دیا اور نہ ہی وزیرِ اعظم مودی کیساتھ اسٹیج شیئر کر نیکی مجبوری بتا ئی ۔ایسے میں ممبئی میں ہو نے والی اپوزیشن اتحاد کی تیسری میٹنگ سے پہلے وزیرِ اعظم کیخلاف دیا گیا بیان ان کی سیاسی وفاداری پر لگے داغ کو دھوپائیگا اسپر کچھ نہیں کہا جا سکتااور یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ شرد پنوار کس پالے میں رہیں گے اور کس کے ساتھ جائیں ؟۔
rrrr

 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS