شرمناک واردات

0

جن جگہوں کا شمار محفوظ ترین جگہوں میں ہوتا ہے، ان میں عدالتیں بھی شامل ہیں۔ جن لوگوں کو محفوظ ترین لوگوں میں شمار کیا جاتا ہے، ان میں جج بھی شامل ہیں مگر جج اگر مشتبہ حالت میں ہلاک ہو جائیں، عدالت کے احاطے میں گولیاں چلیں اور ملزم کو ہلاک کر دیا جائے تو پھر یہ امید کیسے کی جا سکتی ہے کہ جج بے خوف ماحول میں انصاف دینے کے لیے فیصلے سنائیں گے اورغیر قانونی کاموں میں ملوث کوئی شخص عدالت کی طرف دیکھنے کی جرأت بھی نہیں کرے گا؟ 24 ستمبر، 2021 کو دہلی کے علاقے روہنی کی عدالت میں جو واقعہ پیش آیا، وہ حیرت انگیز اور افسوس ناک ہی نہیں، شرم ناک بھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جتیندر مان عرف گوگی مارچ 2020 میں گڑگاؤں سے گرفتار کیا گیا تھا تو اسے پولیس کی بڑی کامیابی سمجھا گیا تھا اور کیوں نہ سمجھا جاتا، اس وقت گوگی پر قتل، اقدام قتل، استحصال، ڈکیتی کی وارداتوں سمیت 19 الزامات تھے۔ گوگی کے ’شاندار کارناموں‘ کو دیکھتے ہوئے دہلی اور ہریانہ کی سرکاروں نے اس کے سرپر 7 لاکھ روپے کا انعام رکھا ہوا تھا، اس لیے 24 ستمبر،2021 کو اسے دو پہر میں تہاڑ جیل سے پیشی کے لیے روہنی کی عدالت میں لایا گیا تو اسی حساب سے پولیس اس کے ساتھ تھی۔ دہلی پولیس کے لیے یہ بات ناقابل فہم نہیں تھی کہ اس طرح کے گینگسٹر کو کہیں لانا لے جانا کتنا جوکھم بھرا ہوتا ہے۔ ان کے بھاگنے کا اندیشہ رہتا ہے تو مخالف گینگ کے لوگوں کے ان پر حملہ کرنے کا بھی خدشہ رہتا ہے۔ گوگی کے ساتھ دہلی پولیس کے جوان تھے جب مخالف گینگ کے دو لوگ وکیل کی پوشاک میں آ دھمکے اور چشم زدن میں گوگی پر گولیوں کی برسات کر دی اور اسے موقعۂ واردات پر ہی مار گرایا۔ جوابی کارروائی میں پولیس نے ان دونوں حملہ آوروں کو بھی مار ڈالا۔ بعد میں یہ خبریں آئیں کہ دونوں حملہ آوروں کی شناخت راہل تیاگی اور وکی کے طور پر کی گئی ہے۔ واقعے کے دوران 35 سے 40 راؤنڈ گولیاں چلنے کی خبریں آئی ہیں۔ اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ عدالت کے احاطے کا منظر کچھ وقت کے لیے کیسا دہشت ناک رہا ہوگا۔ یہ سوال جواب طلب ہے کہ روہنی کورٹ سے وابستہ جج، وکلا اور دیگر لوگ کیا آسانی سے مطمئن ہو جائیں گے کہ اب آئندہ ایسا واقعہ نہیں ہوگا؟ کیا ان کے ذہن میں یہ بات نہیں آئے گی کہ گینگسٹر عدالت کے احاطے میں اپنی کارروائی انجام دے سکتے ہیں تو پھر اس کے بعد ان کے لیے ’کارکردگی کا مظاہرہ‘ کرنا کتنا آسان ہوگا؟ ان سوالوں کی اہمیت آج اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے، کیونکہ دو مہینے بھی نہیں ہوئے، 28 جولائی، 2021 کو دھنباد ڈسٹرکٹ اور سیشن جج اتم آنند کو ایک آٹو رکشہ دھکا دیتے ہوئے نکل گیا تھا اور ان کی موت ہوگئی تھی۔
روہنی کورٹ کا واقعہ بظاہر ان سنگین واقعات میں ایک واقعہ ہے جو اس سے پہلے ہوئے ہیں مگر دہلی فسادات کے بعد یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو دہلی پولیس کی بڑی بدنامی کی وجہ بن جائے تو حیرت نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ یہ بات تو اہم ہے کہ گولیاں عدالت کے احاطے میں چلیں، جانیں عدالت کے احاطے میں گئیں، اہم یہ بات بھی ہے کہ مسلح گینگسٹر عدالت کے احاطے میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ سوال یہی ہے کہ وہ عدالت کے احاطے میں پہنچنے میں کامیاب کیسے ہوئے؟ کیا پولیس وکلا کی تلاشی نہیں لیتی کہ وہ وکیل کے بھیس میں وہاں پہنچ گئے؟ کیا وکیلوں کی تلاشی لینے سے قانون نے پولیس کو منع کیا ہے یا وکیل کا لباس زیب تن کرلینے سے ہی پولیس اسے وکیل سمجھ لیتی ہے، کچھ اور نہیں سمجھتی؟ تفتیش اس زاویے سے بھی ہونی چاہیے کہ یہ پولیس کی چوک ہے اور واردات اچانک انجام دی گئی یا واردات انجام دینے کے لیے کوئی سازش رچی گئی تھی۔ دہلی پولیس کی طرف سے یہ بات کہی گئی ہے کہ جوائنٹ پولیس کمشنر (شمال رینج) روہنی کورٹ کی واردات کی تفتیش کریں گے ۔ ان کی تفتیش کے بعد پولیس کا مؤقف سامنے آپائے گا لیکن دہلی پولیس نے جیسے دہلی فساد کی تفتیش کی، وہ بھی ایک مثال ہے، اس لیے تفتیش کے بعد رپورٹ پر بھی ان لوگوں کی نظر ہوگی جو حقیقت کو اپنے طور پر تجزیوں سے پرکھتے ہیں، سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فی الوقت یہی کوشش ہونی چاہیے کہ عدالتوں کے احاطوں میں پوری سکیورٹی رہے اور اس کے باہر بھی ان لوگوں کو پوری سکیورٹی فراہم کرائی جائے جو عدلیہ کے نظام سے وابستہ ہیں۔ ججوں اور وکلا کو خوفزدہ کیا جائے گا، پولیس سوالات کے گھیرے میں ہوگی، تو انصاف کے مندروں کے دروازوں پر جانے کی ہمت کتنے لوگ کر پائیں گے اور پھر جمہوری نظام کا کیا ہوگا، کیونکہ جمہوری نظام کے چار ستون میں ایک ستون عدلیہ بھی ہے؟
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here