شاہد زبیری: گجرات میںساتویں مرتبہ بی جے پی کی کامیابی اور کانگریس کی شکست کیوں؟

0

شاہد زبیری

کانگریس کے نو منتخب ممبر اسمبلی جگنیش میوانی کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کانگریس کی شرمناک شکست پر افسوس جتایا اور کہا کہ کانگریس نے گجرات کے انتخابات میں ان کا پوری طرح استعمال نہیں کیا جو لوگوں کی نبض پہچانتا ہے جس کو پورے گجرات میں انتخابی جلسوں کو خطاب کرنے کا موقع نہیں دیا گیا ۔ ممکن ہے کہ ان کے اس بیان کو ان کی خود ستائی مانا جا ئے لیکن جگنیش میوانی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ جہاں جہاں ان کو موقع ملا انہوں نے بلقیس اجتماعی عصمت دری کیس کے 11مجرموں کی سزاکی معافی کے ایشو کو خوب اچھا لا اور گجرات کے ووٹروں کے ضمیر کو جھنجھوڑا۔
جگنیش میوانی کے اس بیان سے یہ تو صاف ہے کہ کانگریس نے گجرات اسمبلی کے اس انتخاب کو پوری طرح کیل کانٹوں سے لیس ہو کر نہیں لڑا اور اس سنجیدگی اور محنت سے نہیں لڑا جس محنت اور سنجیدگی سے بی جے پی نے لڑا ہے ۔حیرت کی بات ہے کہ پوری انتخابی مہم سے سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے چہرے غائب تھے کانگریس کے نو منتخب صدر ملکارجن کھڑگے کے علاوہ کنہیا کمار اور عمران پرتاپ گڑھی کے کاندھوں پر ساری ذمّہ داری تھی۔ انہوں نے گجرات کی خاک چھانی لیکن کانگریس کو خاک چاٹنی پڑگئی۔ گزشتہ انتخاب میں کانگریس نے 77اور بی جے پی نے 99سیٹیں جیتی تھیں اور کانگریس ایک مضبوط اپوزیشن بن کر ابھری تھی لیکن ان پورے 5سال میں کانگریس نے ایک مضبوط اپوزیشن کا کردار نہیں نبھایا۔ نہ وہ ان کمبینسی فیکٹر کو بھنا پائی ، سرکاری ملازمین کی پرانی پینشن بحالی کا ایشو بھی اس کے کام نہیں آیا اور نہ بلقیس بانو کے اجتماعی عصمت دری کیس کے مجرموں کی معافی پر وہ بی جے پی کو گھیر پائی اور تو اور موربی کے جھو لے حادثہ میں 130افراد کی ہلاکت پر بھی کانگریس نے کوئی مضبوط اسٹینڈ نہیں لیا۔جبکہ اس سب کے باوجود بی جے پی نے ان 5سالوں میں نہ صرف اپنے تین وزرائے اعلیٰ تبدیل کئے بلکہ پوری کا بینہ کی اوور ہالنگ بھی کی تھی اور اس مرتبہ 40فیصد اپنے ممبرانِ اسمبلی کے ٹکٹ بھی کاٹ دئے تھے لیکن وہ پھر بھی اپنا قلعہ بچا لے گئی، 149 سیٹوں پر جھنڈے گاڑدئے اورکامیابی کے ریکارڈ توڑ دئے تجزیہ نگاروں کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ بی جے پی کا ووٹ شئیر بھی گزشتہ انتخاب کے مقابلہ4فیصد بڑھاہے جبکہ کانگریس جہاں 77سیٹوں سے 17پر لڑھک گئی اس کا30فیصد ووٹ شیئر بھی کم ہو گیا۔ کانگریس جس شر مناک شکست سے گجرات میں دو چار ہوئی ہے بی جے پی کو ہماچل میں اس کا سامنا نہیں کرنا پڑا وہاں وہ ایک مضبوط اپوزیشن کی حیثیت میں اب بھی ہے ایسا ہی معاملہ دہلی کے بلدیاتی انتخابات کا ہے وہاں بی جے پی ہاری ضرور ہے لیکن منظر سے غائب نہیں ہوئی وہاں بھی وہ مضبوط اپوزیشن کی حیثیت رکھتی ہے جبکہ آپ پارٹی کامیاب تو ہوگئی لیکن اس کا ووٹ شیئر کم ہوا ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ کانگریس نے گجرات کو اپنے وقار کا مسئلہ نہیں بنایا جبکہ بی جے پی کیلئے گجرات کے قلعہ پر قبضہ رکھنا اس کی ناک کاسوال بن گیا تھا۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ دونوں کا آبائی صوبہ ہے اور بی جے پی گجرات ماڈل کی تشہیر بہت کرتی رہی ہے یہی سبب ہے کہ ایسا لگ رہاتھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات میں ہی ڈیرہ ڈال دیا ہے۔ انہوں نے پوری انتخابی مہم میں درجنوں انتخابی ریلیوں سے خطاب کیا۔ گجرات میں ان کے روڈ شو کا حجم 50کلو میٹر تک پھیل گیا تھا جو اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے نتیجہ سامنے ہے کہ 99سے 149سیٹیوں پر جیت درج ہوئی۔ گجرات اسمبلی کی انتخابی تاریخ بتا تی ہے کہ بی جے پی سے پہلے 1985کے گجرات انتخابات میں کانگریس نے 149سیٹیں جیتیں تھی یا اب بی جے پی نے اتنی سیٹوں پر قبضہ کیا ۔کمیونسٹ پارٹی نے بنگال میں سات مرتبہ مسلسل کا میابی کا ریکارڈ بنایاتھا اور اب ایسا ہی ریکارڈ بی جے پی نے گجرات میں بنا لیا ہے ۔پورے ملک کے سیاسی اور معاشی منظر نامہ کو دھیان میں رکھیں تو حیرت ہوتی ہے کہ جی ایس ٹی کی وصولیابی کو لے کر جس طرح چھاپے پڑ رہے ہیں اور تاجر طبقہ بی جے پی سے ناراض ہے ، کسانوں میں ایک مرتبہ پھر ابال آرہا ہے ،مہنگا ئی نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے رسوئی گیس سے لے کر ڈیژل اور پٹرول کے داموں میں آگ لگی ہے پھر بھی بی جے پی اگر گجرات میں ریکارڈ بنا رہی ہے تو آخر کیوں اور کیسے ؟ ۔ سوال یہ بھی حیرت میں ڈالنے والا ہے کہ گجرات کے مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی بی جے پی امیدواروں نے جیت درج کرا لی کیا بی جے پی کے بارے میں مسلمانوں کی سوچ بدل گئی یا کجریوال اور اویسی کی پارٹیوں کی مہربانی ہے۔ انہوں نے مسلم ووٹ کی بندر بانٹ کر لی اور جو ووٹ کانگریس کی جھولی میں جا تا وہ آپ پارٹی اور انجمن اتحاد المسلمین میں بٹ کر بے اثر ہو گیا اور بی جے پی کیلئے راہ ہموار ہوگئی ۔آپ پارٹی کی بلا سے بی جے پی کو پھر سے گجرات میں اقتدار مل گیا وہ تو اس پر خوش ہے کہ اس کو اتنے ووٹ تو مل گئے کہ اس کو قومی پارٹی کا درجہ مل گیا ۔ کہا جا رہا ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کا انتشار بی جے پی کی کا میابی کی ضمانت بن گیا ہے عام آدمی کو بی جے پی کا متبادل نظر ہی نہیں آرہا ہے ۔بی جے پی مخالف پارٹیاں اپنے اپنے چہروں کی برتری اور اپنی اپنی پارٹی کی بالا دستی کو لے کر ایک دوسرے سے الجھی ہوئی ہیں۔ کجریوال اپنی پارٹی کو کانگریس کے متبادل کے روپ میں ابھارنے اور 2024کے انتخابات میں نریندر مودی کی جگہ لینے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ ترنمول ممتا بنرجی کو وزرارتِ عظمیٰ کی مسند پر دیکھنا چاہتی ہے اور این سی پی شرد پوار کو وزیر اعظم بننے کا حقدار سمجھتی ہے اگر یہ سب ایسا ہی چلتا رہا تو پھر کون ہے جو بی جے پی کے کامیابی کے رتھ کو 2024 میں آگے بڑھنے سے روک پائے گا ۔
آنے والے سالوں میں ملک کی 9ریاستوں میں اسمبلی کے انتخابات ہو نے والے ہیں جن میں سے کچھ ریاستیں ایسی ہیں جہاں 2023 میں نومبر دسمبر میں اسمبلی انتخابات ہو نا طے ہیں جب تک دور دور تک ایسے آثار دکھا ئی نہیں دیتے کہ اپوزیشن جماعتوںمیں کوئی سیاسی اتحاد ہو سکتا ہے ۔بلاشبہ کانگریس اپوزیشن جماعتوں میں اس گئی گزری حالت میں بھی بہتر دکھا ئی دیتی ہے وہ پورے ملک میں اپنا تنظیمی ڈھانچہ رکھتی ہے لیکن اس کے پاس اب کو ئی چہرہ ایسا نہیں جو نریندر مودی کو چیلنج کر سکے یا بی جے پی کو للکار سکے کانگریس کے راہل گاندھی کی’ بھارت جوڑو یاترا ‘ بھی اپنے ساتھ آنے والی بھیڑ کو ووٹ میں بدلنے کی حیثیت میں نظر نہیں آتی گجرات کا انتخاب اس کی مثال ہے۔ ہماچل میں کانگریس کی کا میابی کی وجوہات میں کانگریس کی مقبولیت کو کم، بی جے پی کی گٹ بازی کوز یادہ دخل ہے لیکن بی جے پی اتنی کمزور نہیں ہوئی کہ وہ کانگریس کو چیلنج نہ کر سکے وہ ہماچل میں اقتدار سے بے دخل ہو نے کے بعد بھی مضبوط اپوزیشن کی شکل میں موجود ہے۔ دہلی، گجرات اور ہماچل کے انتخابات سے بھی اگر اپوزیشن جماعتوں نے کچھ سبق نہیں لیا تو وہ محض عوام کی ناراضگی کے بل پر بی جے پی کو مرکز اور صوبوں کے اقتدار سے بے دخل نہیں کر پائیں گی۔اپوزیشن کو عوام کے سامنے خود کو بی جے پی کا متبادل ثابت کرنا پڑے گاجس کے امکانات فی الحال معدوم دکھا ئی پڑتے ہیں۔
[email protected]