نفرت انگیز تقاریر معاملے میں سپریم کورٹ سخت

0

عدالت عظمیٰ کا اترا کھنڈ سرکار کونوٹس ، 10دن کے اندر جواب طلب
اظہار الحسن
نئی دہلی (ایس این بی ) : سپریم کورٹ نے ہری دوار اور قومی راجدھانی خطہ دہلی میں حال ہی میں منعقد پروگراموں میں مبینہ طور سے نفرت پھیلانے والی تقریر کرنے والے لوگوں کے خلاف جانچ اور کارروائی کو پابند کرنے کا حکم دینے کی اپیل کرنے والی عرضی پر بدھ کو مرکزی سرکار، دہلی پولیس اور اتراکھنڈ پولیس سے جواب مانگا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے صحافی قربان علی اور پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق جج اور سینئر وکیل انجنا پرکاش، سابق وزیر اور سینئر وکیل سلمان خورشیدکی عرضی پر استغاثہ فریقین کو نوٹس جاری کئے ہیں۔ عرضی میں مسلم کمیونٹی کے خلاف نفرت پھیلانے والی تقاریر کرنے کے معاملات کی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) سے آزادانہ اور غیر جانب دارانہ جانچ کرانے کا حکم دیے جانے کی اپیل کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اترا کھنڈ دھرم سنسد معاملے میں جمعیۃعلماء ہند نے بھی ایک عرضداشت 4جنوری کوداخل کی ہے،صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا ارشدمدنی کی ہدایت پر عرضداشت جمعیۃ علما قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزاراعظمی کی جانب سے داخل کی گئی ہے۔ دوران سماعت آج جمعیۃ علما ء ہند کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن ، ایڈوکیٹ صارم نوید و دیگر موجود تھے۔
دریں اثنا چیف جسٹس این وی رمن ،جسٹس سرویہ کانت اور جسٹس ہما کوہلی کی بنچ نے جب کہا کہ وہ عرضی پر نوٹس جاری کر رہی ہے اور اس نے 10دن بعدسماعت کیلئے اسے لسٹیڈ کیا ہے، تو عرضی گزاروں کی طرف سے سینئر وکیل سبل نے کہا کہ ایک دقت ہے کہ اس بیچ 23 جنوری کو علی گڑھ میں ایک ’دھرم سنسد ‘ کا انعقاد ہونے والا ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ اس کا انعقاد کیا جائے۔ مسٹر سبل نے بنچ سے اس معاملے کو 17 جنوری کو سماعت کیلئے لسٹیڈ کئے جانے کی اپیل کی۔ بنچ نے کہا کہ ہم آپ کو متعلقہ حکام کو درخواست دینے کی اجازت دیتے ہیں ۔انہیں اس پر کارروائی کرنے دیجئے۔
عرضی میں خاص طور پر17اور19دسمبر 2021 کو ہری دوار اور دہلی میں کی گئی مبینہ طور سے نفرت پیدا کرنے والی تقاریر کا ذکر کیا گیا ہے اور اس طرح کی تقریروں سے نمٹنے کیلئے عدالت عظمیٰ کے رہنما اصولوں پر عمل کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ایک پروگرام ہری دوار میں یتی نرسمہا نند کی طرف سے اور دوسرا پروگرام راجدھانی دہلی میں ’ہندو یوا واہنی‘ کی طرف سے منعقد کیا گیا تھا۔معاملے کی سماعت کی شروعات میں کپل سبل نے ’دھرم سنسد ‘ میں کہی گئی باتوں کے ایک صفحہ کی نقل کاذکر کیا اور کہا کہ وہ اس مواد کو پڑھ کر معاملے کو سنسنی خیز نہیں بنانا چاہتے۔ بنچ نے کہا کہ وہ ریاستوں کو نوٹس جاری کرے گا۔ اس پر سبل نے اپیل کی کہ مرکز کو بھی نوٹس جاری کیا جائے،کیونکہ عدالت عظمیٰ کے پہلے حکم کے مطابق انہیں اس طرح کی چیزیں روکنے کیلئے نوڈل افسر تقرر کرنے ہوں گے۔سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے مہاتما گاندھی کے پڑ پوتے تشار گاندھی کی طرف سے ایک مداخلت عرضی کا ذکر کیا۔ محترمہ جے سنگھ نے اس کی عرضی پر عدالت عظمیٰ نے 2019 میں فیصلہ سنایا تھا کہ سبھی ریاستوں کو یہ پابند کرنے کیلئے نوڈل افسر تقرر کرنا ہوگا کہ بھیڑ کے ذریعہ کسی کا پیٹ پیٹ کر قتل نہیں کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ’میری عرضی یہی ہے کہ عدالت کے حکم پرعمل نہیں کیا جا رہا ہے۔ برائے مہر بانی مداخلت کی اجازت دیجئے۔یہ میری اپیل ہے۔بنچ نے کہا کہ فی الحال وہ عرضی کے اس کے سامنے لسٹیڈحکام کو نوٹس جاری کر رہی ہے۔ کپل سبل نے کہا کہ برائے مہر بانی آگے کی سماعت کیلئے کوئی نزدیکی تاریخ دی جائے، کیونکہ انہوں نے ایک اور دھرم سنسد کا اعلان کردیا ہے۔ آج اتر پردیش میں جو ہورہا ہے کہ اس کے بیچ اگلی دھرم سنسد کا انعقاد علی گڑھ میں 23جنوری کو ہونا ہے۔ بنچ نے سماعت کے دوران پوچھا کہ کیا عدالت عظمیٰ کی کوئی اور بنچ اس طرح کے معاملے کو اٹھانے والی عرضی پر پہلے سے سماعت کر رہی ہے۔ اس کے جواب میں سبل نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کی کسی دیگر بنچ کے سامنے اس طرح کا کوئی معاملہ التوا نہیں ہے۔
بنچ نے کہا کہ ہم نوٹس جاری کر رہے ہیں۔اس نے کہا کہ اسے دس دن بعد کیلئے لسٹیڈ کیجئے۔
ہم دیکھیں گے کہ کیا یہ معاملہ کسی دیگر معاملے سے جڑا ہے، تو ہم اسے لسٹیڈ کریں گے، ورنہ ہم سماعت کریں گے۔