ثانیہ مرزاریٹائرمنٹ کے فیصلے پرنظرثانی کر سکتی ہیں

0

ہندوستان کی سنسناتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے ریٹائرمنٹ کے فیصلے کی وجوہات بیان کر تے ہوئے ایک ویب سائٹ کے پروگرام میں کہا کہ مختلف عوامل کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں نے رواں سال کے اختتام پر ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا ہے،میں 35 سال کی ہو چکی ہوں، 2،3 سرجری بھی ہوئیں، بچے کی پیدائش کہ سبب جسم پر اثر پڑا،اب کھیل کی سرگرمیوں کے بعد تازہ دم ہونے میں تھوڑی مشکل پیش آتی ہے۔ ثانیہ کاکہناہے کہ اذلان ابھی بچہ ہے، اس کی کورونا ویکسی نیشن نہیں ہوئی، اس کو ساتھ لے کر جہازوں میں سفر کرنا بھی خطرے سے خالی نہیں ہوتا، میرے لیے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ آسان نہیں تھا، اگراس ایک سال میں جسم نے ساتھ دینا شروع کر دیا تو فیصلہ تبدیل بھی کر سکتی ہوں۔بہرحال ٹینس میں 19 سال کا طویل سفر رہا ہے، اس دوران جو کچھ حاصل کیا اس پر میں بہت خوش ہوں۔انھوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ پر دکھ تو ہمیشہ ہوتا ہے،مگر یہ زندگی کی حقیقت ہے، کسی نہ کسی وقت تو کھیل کو خیرباد کہنا ہی پڑے گا، میں 6سال کی عمر سے ٹینس کھیل رہی ہوں، یہ میری زندگی کا اہم حصہ ہے، اگر اس کو خیرباد بھی کہہ دیا تو کسی نہ کسی طرح کھیل سے وابستہ رہوں گی، اپنی اکیڈمی پر توجہ دینے کیلئے وقت ملے گا۔ریٹائرمنٹ کے فیصلے پر شوہر شعیب ملک کے ردعمل پر انھوں نے کہا کہ میرے والدین سمیت کسی کو معلوم نہیں تھا کہ میں کوئی ایسا فیصلہ کرنے والی ہوں، اس لیے سب کو حیرت بھی ہوئی۔ بہرحال شعیب میرے ہر فیصلے کو سپورٹ کرتے ہیں، ہم ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرتے ہیں، ہم دونوں پروفیشنل کھلاڑی ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ جسم کس حدتک چیلنج قبول کرنے کے قابل ہے۔ثانیہ مرزا نے کہاکہ بائیوببل میں کھیل کو جاری رکھنا سخت چیلنج ہوتا ہے، ٹینس میں تو ببلز ایک سال پہلے ہی ختم کر دیے گئے تھے، اس سے تھوڑی آسانی بھی ہوئی، بچے کو ساتھ رکھتے ہوئے 20 سے25 روز تک ایک ہی کمرے تک محدود رہنا جسمانی اور ذہنی طور پر بہت مشکل تھا،کرکٹ میں تو بائیو ببل اب بھی چل رہے ہیں، لوگوں کو اندازہ نہیں کہ ان حالات میں کھیلنا اور پرفارم بھی دکھانا کتنا بڑا چیلنج ہے، کھلاڑیوں کو جسمانی اور ذہنی طور پر فٹ رہتے ہوئے توقعات کے مطابق پرفارم کرنے کے سخت دباؤکا سامنا ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS