سلام سے پتھردل بھی نرم بن جاتے ہیں

0

محمدمدثرحسین اشرفی پورنوی
سلام میں وہ برکت اورپیار ہے کہ کسی دشمن کو بھی کیاجائے تووہ سلام کاجواب دے کرسلام کرنے والے کی طرف ضرورمتوجہ ہوگا۔ اس کاپتھردل بھی موم کی طرح نرم ہوجائے گا۔ سلام میں پہل کرنے والا تکبراورگھمنڈ سے دوررہتاہے، سلام کرنے سے آپس کی الفت ومحبت پروان چڑھتی ہے اوراتحادواتفاق کی راہ مزید ہموارہوتی ہے۔ سلام میں پہل کرنے والانیکی کازیادہ مستحق ہے۔ سلام کرنے سے ٹوٹے دل جڑتے ہیں اور گھر آباد ہوتا ہے۔ سب سے بڑی خوبی جوتمام خوبیوں پرفوقیت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ سلام کرنا سرکاردوعالمؐ کی سنت ہے۔مگریہ کس قدرافسوس کامرحلہ ہے کہ آج امیروں کاذہن بن گیاہے کہ غریب ہم کوسلام کریں، بڑوں (عمردراز) کی یہ سوچ بن گئی ہے کہ چھوٹے(کم عمر) ہم کوسلام کریں ، جاہلوں کایہ طریقہ بن گیاہے کہ علماء ہم کوسلام کریں، سماج میں حکمراں کی یہ فکرہے کہ رعایاہم کوسلام کریں۔ان سب کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ سلام میں پہل کرنے سے آپ کی عزت ووقارمیں نہ صرف یہ کہ اضافہ ہوگا بلکہ آپ کانام سنتوں پر عمل کرنے والوں کی فہرست میں درج کیاجائے گا جوبہت اہم اعزازہے ۔
اللّٰہ تعالیٰ قرآن عظیم میں ارشادفرماتاہے’’ اورجب تمہیں کوئی کسی لفظ سے سلام کرے توتم اس سے بہترلفظ جواب میں کہویاوہی کہہ دوبیشک اللّٰٰہ ہرچیزپرحساب لینے والاہے‘‘ ( النساء86-)۔
اس آیت کی تفسیرکرتے ہوئے، حضرت صدرالافاضل مولاناسیدنعیم الدین اشرفی مرادآبادی ؒ رقم فرماتے ہیں: سلام کرناسنت ہے اورجواب دینافرض اورجواب میں افضل یہ ہے کہ سلام کرنے والے کے سلام پرکچھ بڑھائے مثلاًپہلاشخص السلام علیکم کہے تودوسراشخص وعلیکم السلام ورحمۃ اللّٰہ کہے اوراگرپہلے نے ورحمۃ اللّٰہ بھی کہاتھاتویہ وبرکاتہ اوربڑھائے پس اس سے زیادہ سلام وجواب میں اورکوئی اضافہ نہیں ہے …آدمی جب اپنے گھرمیں داخل ہوتوبی بی کوسلام کرے ۔ہندوستان میں یہ بڑی غلط رسم ہے کہ زن وشوہرکے اتنے گہر ے تعلقات ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کوسلام سے محروم کرتے ہیں باوجودیہ کہ سلام جس کوکیاجاتاہے اس کے لئے سلامتی کی دعا ہے …بہترسواری والاکمترسواری والے کواورکمترسواری والاپیدل چلنے والے کواورپیدل بیٹھے ہوئے کواورچھوٹے بڑے کواورتھوڑے زیادہ کوسلام کریں (خزائن العرفان) ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسولؐ نے فرمایا کہ اللّٰہ نے آدم ؑکواپنی صورت پرپیداکیا، جن کے قدکی لمبائی ساٹھ گزتھی،توجب انہیں پیداکیاتوفرمایاجاؤان لوگوں پرسلام کرووہ فرشتوں کی ایک جماعت تھی بیٹھی ہوئی، توغورسے سنووہ تمہیں کیاجواب دیتے ہیں پھروہ ہی تمہارااورتمہاری اولادکاتحیہ ہے۔چنانچہ آپ ؑگئے توکہاالسلام علیکم۔ ان سب نے کہاالسلام علیک ورحمۃ اللّٰہ،انہوں نے ورحمۃ اللّٰہ بڑھادیا(مرات المناجیح)۔حضرت ابوسعیدخدریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا’’ راستوں میں بیٹھنے سے بچاکرو ۔لوگ عرض گزارہوئے کہ یارسول اللّٰہ! ہمیں ایسی جگہوں پربیٹھنے کے سواچارہ نہیں کیونکہ وہاں ہم گفتگوکرتے ہیں ۔فرمایاجب تم نے انکارکردیاکہ بیٹھناضروری ہے توراستے کاحق اداکیاکرو ۔عرض گزارہوئے کہ یارسول اللّٰہ! راستے کاحق کیاہے؟ فرمایاکہ نگاہ نیچی رکھنا، ہاتھ روکنا، سلام کاجواب دینا، نیکی کاحکم کرنااوربرائی سے روکنا‘‘
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول ؐنے فرمایاکہ ایک ایمان والے کے دوسرے ایمان والے پرچھ حقوق ہیں ۔ (1) جب بیمارہوتواس کی عیادت کرے ۔ (2) مرجائے توجنازے میں شریک ہو ۔ (3) بلائے تواس کی دعوت قبول کرے ۔ (4) جب اس سے ملے توسلام کرے ۔ (5) چھنکے تواس کاجواب دے ۔ (6) اوراس کی خیرخواہی کرے خواہ وہ غائب ہویاموجود ۔ حاصل یہ ہے کہ سلام کوعام کیاجائے، اس سوچ وفکرمیں نہ رہاجائے کہ فلاں ہم کوسلام کرے، بلکہ اس عمل صالح وکارخیرمیں پیش پیش رہ کرزیادہ ثواب حاصل کیاجائے۔ سلام کرنے میں کسی غریب کوکسی امیرپرفوقیت نہ دی جائے، جیساکہ فی زمانہ یہ مذموم طریقہ رواج پارہاہے کہ امیروں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے انہیں جھک کرسلام کیاجاتاہے جب کہ غریبوں کونظراندازکردیاجاتاہے، بلکہ سنت کے مطابق سلام کیاجائے ۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
1
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here