صبیح احمد: ’یاترا‘ مکمل، اب نئے سفر کا آغاز

0

صبیح احمد

راہل گاندھی کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ 30 جنوری کو جموں و کشمیر کی راجدھانی سری نگر میں بخیر و خوبی مکمل ہوگئی۔ تمل ناڈو کے کنیا کماری سے 7 ستمبر کو شروع ہونے والی اس یاترا کے دوران راہل نے تقریباً 3570 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔ کل 146 دنوں کے اس سفر میں انہوں نے 14 ریاستوں کی سرحدوں کو چھوا۔ ان میں تمل ناڈو کی کنیا کماری سے لے کر کیرالہ، آندھرا پردیش، کرناٹک، تلنگانہ، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، گجرات، راجستھان، یوپی، دہلی، ہریانہ اور پنجاب اور جموں و کشمیر شامل ہیں۔ ’بھارت جوڑو یاترا‘ شروع کرنے سے پہلے راہل گاندھی نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اس یاترا کا مقصد سیاسی نہیں ہے بلکہ وہ دل سے دل جوڑنے کے لیے نکلے ہیں۔ حالانکہ راہل کا کہنا ہے کہ ان کے دورے کا مقصد سیاسی نہیں ہے، لیکن کانگریس نے اس دوران ملک کے جنوب سے شمال کا سفر کرتے ہوئے 372 لوک سبھا سیٹوں پر توجہ مرکوز کی ہے۔ سینئر کانگریس لیڈروں کا یہ دعویٰ بہت حد تک درست ہے کہ ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے ذریعہ راہل گاندھی کی نئی شبیہ بنانے میں کافی حد تک کامیابی ملی ہے۔ بلاشبہ تقریباً 5 ماہ کے بعد راہل عوام سے جڑے ایک سنجیدہ لیڈر کے طور پر ابھرکر سامنے آئے ہیں۔ اپوزیشن خیمہ میں ایک نیا اعتماد پیدا ہوا ہے۔ جن ریاستوں سے راہل کی یاترا گزری وہاں اپوزیشن کے لیڈر راہل کی یاترا میں شامل ہوئے۔ جہاں شیوسینا کے ادھو گروپ سے تعلق رکھنے والے سنجے راؤت، پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی، نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ اور سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کو راہل کے ساتھ دیکھا گیا، وہیں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بھی اس دورے کے بعد راہل سے ملاقات کی بات کہی۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور مایاوتی نے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ حالانکہ تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے سی آر اور مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے یاترا سے دوری برقرار رکھی۔
جب راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا ستمبر 2022 میں خاص طور پر ان کے سیاسی مخالفین کے شکوک و شبہات اور عدم دلچسپی کے ساتھ شروع ہوئی، بہت سے لوگوں نے اسے بستر مرگ پر پڑی پارٹی کی آخری ہچکیوں سے تعبیر کی تھی۔ کانگریس وہ جماعت تھی جس نے ہندوستان کو آزادی دلانے میں اہم کردار ادا کیا اور 1947 سے اب تک ملک کے سیاسی منظر نامہ پر اسی کا غلبہ رہا۔ لیکن 2014 کے بعد سے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے بیٹے اور سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے پوتے، راہل گاندھی نے 2 تباہ کن انتخابی شکستوں کے دوران کانگریس کی قیادت کی۔ وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ہندو قوم پرستی کی سیاست کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے ہونے والی ان شکستوں نے کانگریس کو تقریباً بے جواز اور بے اثر بنا دیا۔ راہل گاندھی کو بی جے پی اور میڈیا نے ’پپو‘ (ایک نا سمجھ لڑکا) اور ’راہل بابا‘ (اعلیٰ طبقہ سے وابستہ) کہہ کر طنز کے تیر و نشتر خوب چلائے۔ انہیں اشرافیہ، ناتجربہ کار اور عام ہندوستانیوں سے منقطع بتاکر بدنام کیا گیا۔
حالانکہ راہل گاندھی نے 2019 میں کانگریس کے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، لیکن وہ پارٹی کا چہرہ اور حقیقی رہنما بنے رہے۔ بڑھتے ہوئے انتخابی نقصانات، پارٹی صفوں میں پھیلی ہوئی بد نظمی اور مایوسی پارٹی کا مقدر بن چکی تھی۔ لیکن جیسے ہی انہوں نے پہلے کیرالہ اور پھر کرناٹک میںروزانہ تقریباً 15 میل چلنا شروع کیا، کچھ نمایاں تبدیلیاں دیکھنے کو ملنے لگیں۔ یاترا کے دوران راہل گاندھی کے پیغامات کہ وہ سماجی ہم آہنگی، ہندو مسلم اتحاد اور وزیراعظم نریندر مودی کے زیر قیادت تفرقہ انگیز اور اکثریتی سیاست کے عروج کے خلاف یہ یاترا کر رہے ہیں، عام لوگوں کو بڑی تعداد میں اپنی طرف متوجہ کرنے لگے۔ راہل گاندھی جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے، وہ خود کو ایک منجھے ہوئے اور قابل بھروسہ سیاستداں کے طور پر ثابت کرتے چلے گئے۔ کچھ لوگوں کے لیے تو وہ قابل احترام ’گرو‘ بن گئے۔ ان کے محبت اور یکجہتی کے پیغام نے ایک ایسے وقت میں جب مذہبی قوم پرستی کی سیاست کے عروج نے پورے ملک میں تقسیم اور نفرت کا ماحول بنا دیا ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا پر ہم آہنگی اور محبت کا راگ چھیڑ دیا ہے۔ دریں اثنا بی جے پی کے زیر حکومت ریاستوں میں یاترا کے اثرات کو زائل کرنے کی بہت کوششیں کی گئیں۔ یاترا کے خلاف پروپیگنڈہ کے تحت راہل گاندھی کی ٹی شرٹ کو موضوع بنانے کی بھر پور کوشش کی گئی لیکن یہ ٹی شرٹ علامتی طور پر اہمیت اختیار کر گئی۔ مخالفین کی یہ تدبیر بھی الٹی پڑ گئی۔ راہل گاندھی کی بڑھتی ہوئی بڑی داڑھی، ایک سادھو یا مقدس آدمی کی طرح کا ان کا حلیہ اور یہاں تک کہ شدید ٹھنڈ کے دوران بھی ان کی ہاف بازو کی سفید ٹی شرٹ دھیرے دھیرے قومی سطح پر گفتگو کا ایک اہم حصہ بن گئی۔ کنیا کماری میں 7 ستمبر کو یاترا کے آغاز میں راہل کے چہرے پر ہلکی داڑھی تھی لیکن تقریباً 5 ماہ بعد ان کی شکل بالکل بدل گئی تھی۔ چہرے پر گھنی داڑھی تھی تو سر کے بال بھی بڑھ گئے تھے۔ راہل کی سفید ٹی شرٹ پر بھی کافی بحث ہوئی جسے پہن کر وہ سخت سردی میں بھی چلتے نظر آئے۔ راہل گاندھی نے خود یہ کہتے ہوئے اس سیاسی کایاپلٹ کو تسلیم کیا ہے کہ ’ راہل گاندھی آپ کے ذہن میں ہیں۔ میں نے انہیں مار ڈالا ہے۔ وہ اب نہیں ہیں‘۔ بلا شبہ اس یاترا نے اب راہل گاندھی کو ایک نئے عوامی لیڈر کے طور پر ثابت کر دیا ہے۔
کانگریس کے اندر ’بھارت جوڑو یاترا نے نہ صرف قیادت کو پھر سے زندہ کیا بلکہ نیچے سے اوپر تک پوری پارٹی میں نئی جان پھونک دی ہے۔ اس بات کا اعتراف67 سال کی عمر میں بھی روزانہ یاترا میں شامل ہونے والے کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے بھی یہ کہتے ہوئے کیا ہے کہ ’سچ کہوں تو تنظیم کے اندر ایک سنگین بحران تھا،ذہنی دبائو تھا، مایوسی تھی، افسردگی تھی۔ پچھلے 30 سے 40 سالوں میں ہم نے آئیڈیاز اور نظریات کا میدان بی جے پی کے حوالے کر دیا تھا اور سیاسی گفتگو سے غائب ہو گئے تھے۔ اب پارٹی کے اندر لوگوں میں اجتماعی مقصد کا بہت بڑا احساس پیدا ہوا ہے۔اور 10 سالوں میں پہلی بار کانگریس ہندوستان میں بیانیہ ترتیب دے رہی ہے۔‘ مذہبی اور سیاسی تناظر میں اس یاترا کی کافی تاریخی اہمیت ہے۔ یہ یاترا برداشت اور قربانی کو ظاہر کرتی ہے۔ مہاتما گاندھی کی 1930 کی یاترا سب سے زیادہ مشہور تھی جسے ’سالٹ مارچ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، جب گاندھی جی انگریزوں کے نافذ کردہ قوانین کے خلاف احتجاج میں 200 میل سے زیادہ پیدل چلے تھے۔ بلاشبہ ایک بڑی سیاسی پیش رفت کو رفتار دینے کے لیے یہ یاترا ایک مثبت کوشش تھی اور راہل گاندھی نے اس دوران جو ایشوز اٹھائے وہ درحقیقت بہت ہی اہم ہیں۔ بہرحال اب اس یاترا کے مکمل ہونے کے بعد اتحاد، ہم آہنگی اور سماجی انصاف کے پیغام کو آگے بڑھانے کے لیے طویل مدتی پالیسی اور سیاسی فریم ورک کی ضرورت ہے۔
[email protected]

 

 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS