یوکرینی فورسز کے خیرسون پر میزائل حملے میں 4 افراد ہلاک

0

ماسکو(ایجنسیاں) : روس کی جانب سے متنازع ریفرنڈم کے بعد ضم کیے گئے یوکرین کے شہر خیرسون میں ایک میزائل حملے میں 4 افراد ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حال ہی میں روس سے انضمام شدہ یوکرین کے 4 علاقوں میں سے ایک خیرسوں میں فوج کشی کے خلاف مزاحمت جاری ہے جس کے باعث صدر پوٹن نے ان علاقوں میں مارشل لا کے نفاذ کا اعلان بھی کیا تھا۔مارشل لا کے نفاذ کے اعلان کے باجود یوکرین کے حامیوں کی جانب سے مزاحمت جاری ہے اور آج ایک میزائل حملے میں 4 افراد ہلاک ہوگئے۔ روسی اہلکاروں نے الزام عائد کیا کہ یہ حملہ یوکرینی فوج نے دریائے دنیپرو کے پل کو پار کرنے واے شہریوں پر کیا۔روس کا خیرسون پر قبضے، جبری الحاق اور مارشل لا کے نفاذ بعد سے بڑی تعداد میں شہری نقل مکانی کر رہے ہیں اور روسی فوج اور ان کے حمایت یافتہ باغیوں نے شہر کے خارجی و داخلی راستوں پر نفری اور گشت بڑھادیا ہے۔
ادھر یوکرین نے اپنے چار علاقوں کے روس کے ساتھ جبری الحاق کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنی سرزمین واپس لینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یوکرینی فوج نے ان علاقوں میں روسی فوجیوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب امریکہ کے محکمۂخارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے یوکرین کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بھی ایسے ثبوت ملے ہیں کہ ایرانی فوجی اہلکار کرائیمیا میں موجود تھے۔نیڈ پرائس نے میڈیا سے گفتگو میں ایران پر رو س کو خودکش ڈرونز فراہم کرنے اور انھیں استعمال کرنے کی مدد فراہم کرنے کا الزام عائد کیا جس کی ایران نے تاحال تردید یا تصدیق نہیں کی۔
دوسری جانب یوکرین کے صدر ولادی میرزیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کی طرف سے یوکرین کے توانائی سے متعلق تنصیبات پر حملوں نے یوکرینی پاور گرڈ کو میدان جنگ بنا دیا ہے۔ جس کے بعد حیران کن حد تک یوکرینی شہریوں کے ایک یورپ کی طرف نیا انخلا شروع ہو گیا ہے۔
صدر زیلنسکی کے مطابق ‘ روسی قیادت نے یوکرین کے توانائی کے نظام کو تباہ کرنے کے لیے اسے میدان جنگ بنانے کے احکامات دیے ہیں۔ ان روسی کارروائیوں کے اثرات ہمارے لیے اور یورپ کے تمام لوگوں کے لیے سخت خطرناک ہیں۔’صدر زیلنسکی نے یورپی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا ‘روس کی ان کارروائیوں کے بعد یوکرینی شہریوں کی یورپ کی طرف نقل مکانی کی ایک نئی لہر کا آغاز ہو گیا ہے۔’
واضح رہے یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے یوکرین کے طول و عرض میں روسی میزائلوں سے کیے گئے حملوں کے نتیجے میں اب تک یوکرین کے 30 فیصد سے زیادہ توانائی مراکز اور بجلی گھر تباہ ہو چکے۔