حکومتوں سے زیادہ حکمرانوں کو بدلنے کی ضرورت

0

عبدالسلام عاصم
بنگال جو آج سوچتا ہے وہ باقی ہندوستان کل۔ ’’دانشورانہ انقلاب‘‘ کے لحاظ سے سابقہ صدی کے اس مشہور ِ زمانہ قول سے اتفاق اور اختلاف کے جاری سفر میں یہ کس نے سوچا تھا کہ اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں ’’اسمبلی انتخاب‘‘کے حوالے سے اس قول کی شکل یوں بدل جائے گی: بنگال جو آج کرتا ہے وہ پنجاب اور اترپردیش کل۔ان دونوں ریاستوں میں حکمراں جماعتیں داخلی سیاسی بحران سے دوچار ہیں۔ سابقہ قول جہاں روشن خیال ہندوستانی سیاسی رہنما گوپال کرشن گوکھلے سے منسوب ہے، وہیں اُسے تازہ شکل وزیراعلیٰ مغربی بنگال ممتا بنرجی نے دی ہے جن کے نام کا دوسرا شناختی حصہ صرف دستاویزی استعمال کے لیے ہے۔ عام تقریر و تحریر میں انہیں جاننے، ماننے اور چاہنے والے سبھی ممتا دیدی یا زیادہ بے تکلفی میں صرف دیدی کہہ کر ہی مخاطب کرتے ہیں۔ محترمہ بنرجی کے ساتھ مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات کے دوران ایک سانحہ گزرا تھا۔ وہ ایک مبینہ سیاسی حملے کی زد میں آگئی تھیں۔ اس کے بعداُن کی زندگی کی بقا کے حق میں سیاسی دوا اور دعا کی لہر دوڑ گئی، جن کی بالترتیب اثر انگیزی اور قبولیت کا زمانہ گواہ ہے۔
انتخابی سفر کے تازہ موڑ پر پنجاب میں وزیراعظم نریندر مودی کو بھی ایک انتخابی جلسے کے راستے میں سلامتی کے محاذ پر خطرہ پیش آیا اور وہ جلسہ گاہ تک نہیں پہنچ سکے۔ سرکاری اور اخباری حلقوں نے اس واقعہ کا بھی پرزور نوٹس لیا ہے۔دیکھنا ہے پنجاب کے ووٹروں کا کیا ردعمل ہوتا ہے جہاںاس واقعہ نے بی جے پی کو بہرحال حکمراں کانگریس کو زد میں لینے کا سیاسی موقع فراہم کر دیا ہے۔ ہر چند کہ کانگریس کی عبوری صدر محترمہ سونیا گاندھی نے 5 جنوری کے اِس سانحہ کے فوراً بعدپنجاب کے وزیراعلیٰ چرن جیت چنی سے رابطہ قائم کرکے اُن پر زور دیا کہ وزیراعظم کی سلامتی میں خلل کے ذمہ داروںکے خلاف کارروائی کی جائے لیکن پنجاب کی سیاست میں اتھل پتھل سے باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ اُس واقعہ کے ممکنہ نتائج مرتب ہو چکے ہیں جس کے اگلے دن ہی ملک کے کئی حصوں میں سربراہِ حکومت کی سلامتی اور درازیٔ عمر کی دعائیں مانگی گئی تھیں۔
واضح رہے کہ جس طرح مغربی بنگال کی اکثریت اور اقلیت دونوں کا ایک بڑا اعتدال پسند حلقہ کبھی سی پی آئی ایم کی قیادت والے بایاں محاذ کا بنیادی ووٹر ہوا کرتا تھا، اُسی طرح سابقہ صدی کے آخری عشرے کے وسط تک پنجاب میں بھی قومی اکثریت اور اعتدال پسند اقلیت کے لوگ کانگریس کے بنیادی ووٹر تھے۔ شرومنی اکالی دل اور بی جے پی کے اتحاد نے اکیسویں صدی کے آغاز سے عین پہلے وہاں کے ان ووٹروں کی وفادریاں حاصل کرنا شروع ضرور کردی تھیں لیکن ریاست میں بہرحال کانگریس کا ویسا صفایا نہیں ہوسکا جیسا بنگال میں بایاں محاذ کا ہوا۔ باوجودیکہ بدلے ہوئے ماحول میں ایسا نہیں لگتا کہ کانگریس 2017 کے نتائج دہرا پائے گی جب اُس نے قومی اکثریت کے غلبے والے 45 حلقوں میں سے 33 حلقوں میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔
مغربی بنگال میں جس طرح ممتا بنرجی کے ساتھ پیش آنے والے سانحہ کا اثر زائل کرنے کیلئے اسے اپوزیشن کی طرف سے ڈرامہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی، اُسی طر ح پنجاب میں بھی نریندر مودی کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کی مسلسل گونج سے پریشان وزیراعلیٰ پنجاب نے سانحہ کے تیسرے دن ہی کچھ زیادہ جارحانہ موقف اختیار کر لیا اور میڈیا کو یہ تاثر دے دیا کہ وزیراعظم کی ریلی میں کم بھیڑ کی اطلاع ملنے پر ان کی جان کے خطرے کی نوٹنکی رچی گئی ہے۔ ساتھ ہی یہ الزام بھی لگایا کہ بی جے پی ریاست میں ’’جمہوری طور پر منتخب حکومت کو گرانے‘‘کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ فیروز پور کے ایس ایس پی ہرمن ہنس کی معطلی کے ریاستی ڈی جی پی کی طرف سے جاری احکامات کو بھی خارج کردیا۔ صف بندی والی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ یہ تیور اور اقدامات نظریاتی سیاست کے حق میں جا سکتے ہیں۔ ویسے تو پنجاب میں تقریباً ہر الیکشن حکمراں اور اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے والوں کو ادھر سے اُدھر کردیتا ہے لیکن اس بار درون ِکانگریس جہاں سب خیریت نہیں وہیں بی جے پی اور شرومنی اکالی دل کو بھی کسانوں کی تحریک نے ایک دوسرے سے الگ کر دیا ہے۔ ایسے میں دیکھنا ہے کہ تینوں زرعی قوانین کو ساقط کرنے کے مرکزی حکومت کے فیصلے اور وزیراعظم کی سلامتی خطرے میں پڑنے کے واقعہ کا ووٹروں پر کیا ملا جلا اثر پڑتا ہے۔
اترپردیش میں بھی مغربی بنگال کی انتخابی حکمت عملیاں الگ الگ خیموں کا حصہ ہیں۔ ممتابنرجی کی دیدی والی پہچان کے الگ الگ روپ کے کئی دعویدار میدان عمل میں اترے ہوئے ہیں۔ سماجوادی رہنما اکھلیش یادو جہاں بھیّا، بابو یا ببوا بنے ہوئے ہیں، وہیں ان کی اہلیہ ڈمپل نے تو 2017 کے انتخابات میں ہی بہو سے بھابی تک کا الیکشن رُخی روپ دھار لیا تھا۔پرینکا گاندھی’’لڑکی ہوں لڑ سکتی ہوں‘‘ کے پُر کشش نعرے کے ساتھ ووٹروں کے درمیان ہیں۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس رُخ پر کانگریس کی نئی حکمت عملی خاتون ووٹروں کی نئی نسل پر اثر ڈال رہی ہے۔ اِن حکمت عملیوں کی آزمائش کی شکل اس لحاظ سے مختلف ہے کہ بنگال میں ممتابنرجی نے جو سیاسی چال اقتدار بچانے کیلئے چلی تھی، وہ پنجاب اور اترپردیش کی حکومتوں کو اقتدار بدر کرنے کیلئے چلی جارہی ہے۔ اترپردیش میںیہ چال کتنی کامیاب ہوگی اورکتنی ناکام، اس کا اندازہ وزیراعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی کے صرف ایک مبینہ بیان سے لگایا جا سکتا ہے کہ مقابلہ اسّی اور بیس کے درمیان ہے۔
جمہوری سیاست کا سارا حساب کتاب ایک طرف، انتخابی موڑ پر اعدادو شمار کے حوالے سے اس طرح کی اکثریت اور اقلیت رُخی سوچ انتخابی سیاست کی صحت پر کورونا سے زیادہ بڑا سوالیہ نشان لگا رہی ہے۔اِن دنوں سوشل میڈیا پر جہاں حقیقت بیانی کے نام پر ایک دوسرے کے خلاف زہر گھولا جا رہا ہے، اس طرح کی باتیںکیا گل کھلا سکتی ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ البتہ ایک ایسے سماج کو جس کی عمومی سوچ سننے اور عمل کرنے تک محدود ہو، یہ سمجھانا انتہائی دشوار ہے کہ ’’لوہا لوہے کو کاٹتا ہے‘‘سے مراد یہ نہیں کہ ’’ نفرت سے نفرت کو ختم کیا جاسکتا ہے‘‘۔اِس تفہیم کیلئے ماننے سے جاننے تک سفر ناگزیر ہے۔
اترپردیش ملک کی وہ ریاست ہے جو قومی سیاست پر سماجی اعتبار سے سب سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔ مستقبل کے ہندوستان کی ہمہ جہت یایک جہت سیاست کی راہ اترپردیش سے ہی ہموار ہوگی جو اپنے اندر طاقتور اور کمزور دونوں کو بالترتیب نفع اور نقصان سے حظ اٹھانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ ایک سے زائد مذاہب کی یادگاروں کی یہ سرزمین وقت گزرنے کے ساتھ سب کیلئے بہت تنگ کیوں ہوتی جارہی ہے! اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔حالات سے مایوس کم اور پریشان زیادہ رہنے والوں کا خیال یہ ہے کہ اب اِنتخابات کے ذریعہ حکومت سے زیادہ حکمرانوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ووٹروں کو بیدار کیا جائے کہ وہ ایسے حکمراں سامنے لائیں جو اُس نصاب سیاست کو بدلنے کی طاقت اور صلاحیت رکھتے ہوںجس میں سرِدست ’’اتحاد‘‘ کا ہر سبق ’’نفاق‘‘ سے آلودہ ہے اور’’یک جہتی‘‘ کا ہر باب’’ علیحدگی پسندانہ تذکروں‘‘ کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ یہ تجزیہ حالات کا کامل احاطہ کرتا ہے لیکن واقعات اور سانحات کے اخباری دستاویزات کو سرے سے مسترد بھی نہیں کیا جا سکتا۔
(مضمون نگار یو این آئی اردو کے سابق ادارتی سربراہ ہیں)
[email protected]