اجر

0

جاوید اقبال صدیقی
عدیل صاحب شہر کی بہت اونچی ایک عمارت کے پانچویں منزل پر واقع کسی سرکاری ادارے میں کام کرتے تھے۔وہ صحت کے معاملے میں بہت محتاط تھے اور اپنا دوپہر کا کھانا گھر سے لاتے تھے۔ان کے دفتر کے سامنے کوریڈور کے کونے میں ایک بلی اپنے تین بچوں کے ساتھ رہتی تھی۔
دوپہر کے کھانے میں سے جو بچ جاتا،عدیل صاحب اسے بلی کے لیے ایک برتن میں رکھ دیتے،جسے بلی اور اس کے بچے کھا لیتے۔دفتر کا چوکیدار بھی بلی کا خیال رکھتا اور برتن کو دھو دیتا۔
بلی کے بچے ابھی چھوٹے ہی تھے کہ رمضان کا مہینہ آگیا۔یہ سوچ کر کہ بلی اور اس کے بچوں کے لیے کھانے کا حصول مشکل ہوجائے گا۔عدیل صاحب سحری اور افطاری کا بچا ہوا کھانا بلی کے لیے گھر سے لانے لگے۔
بلی اس بندوبست سے بہت خوش تھی۔وہ صبح سے ہی آ کر برتن کے پاس بیٹھ جاتی۔جب وہ کھانا لا کر بلی کے برتن میں ڈال دیتے تو بلی اور اس کے بچے مزے لے کر کھاتے۔
بلی عدیل صاحب سے اس قدر مانوس ہو گئی تھی کہ جب گھر جانے کے لیے وہ لفٹ کے پاس پہنچتے تو بلی کوریڈور کے کونے سے اُٹھ کر لفٹ کے پاس آجاتی گویا انہیں خدا حافظ کہہ رہی ہو۔
وہ بلاناغہ بلی کے لیے کھانا لاتے۔وہ نماز روزے کے پابند تھے۔اسی طرح وقت سے پہلے دفتر پہنچنا اور مقررہ وقت پر دفتر سے گھر کے لیے روانہ ہونا ان کا معمول تھا۔ان کے پاس ذاتی سواری نہیں تھی،اس لیے بس سے دفتر آتے جاتے تھے۔ان کا گھر دفتر سے بیس پچیس کلو میٹر دور ایک مضافاتی علاقے میں تھا۔
رمضان المبارک کی25 تاریخ تھی۔ عدیل صاحب نے اپنے بچوں سے وعدہ کیا تھا کہ دفتر سے واپس آنے کے بعد وہ انہیں عید کی خریداری کے لیے لے جائیں گے۔لہٰذا انہوں نے جلدی جلدی دفتر کا کام سمیٹا اور عمارت سے نیچے اُترنے کے لیے لفٹ کے پاس آ کر لفٹ کا بٹن دبا دیا۔
انہیں خیال آیا کہ آج بلی نظر نہیں آ رہی۔انہوں نے لفٹ کے پاس کھڑے کھڑے بلی کو آواز دی اور کوریڈور کے دوسری جانب دیکھنے لگے۔یہ خاصا لمبا راستہ تھا، جب کہ لفٹ درمیان میں نصب تھی۔بلی تو انہیں نظر آگئی مگر خلاف معمول وہ ان کے پاس آنے کے بجائے وہیں کھڑے کھڑے میاؤں میاؤں کرنے لگی۔
اسی دوران لفٹ آ گئی۔عدیل صاحب کا دل چاہا کہ لفٹ پر سوار ہوجائیں پھر یہ سوچ کر کہ بلی یا اس کے بچے کسی مصیبت میں نہ ہوں وہ کوریڈور کی دوسری جانب کھڑی بلی کے پاس چلے گئے۔بلی آگے بڑھ کر ان کے پیروں سے لپٹنے لگی۔انہوں نے اِدھر اُدھر نگاہ دوڑائی،مگر انہیں بلی کی پریشانی کی کوئی وجہ سمجھ میں نہ آئی۔
بلی کے بچے بھی ایک طرف کھیل رہے تھے۔بلی کی طرف سے مطمئن ہو جانے کے بعد وہ لفٹ کے ذریعے عمارت سے اُتر کر بس اسٹاپ کی طرف روانہ ہوئے۔اس دوران پانچ دس منٹ گزر گئے۔جب وہ اسٹاپ پر پہنچے تو بس جاچکی تھی۔ دوسری بس کچھ دیر بعد آتی تھی۔
آج انہیں جلدی گھر پہنچنا تھا اور پھر ان کے راستے میں ایک ریلوے پھاٹک آتا تھا،جہاں بعض اوقات ٹرین گزرنے کی وجہ سے دیر ہو جایا کرتی تھی۔وہ ان ہی سوچوں میں گم تھے کہ بس آ گئی اور وہ اس میں سوار ہو گئے۔اتفاق سے انہیں بس میں بیٹھنے کی جگہ مل گئی اور ٹھنڈی ہوا لگنے سے انہیں نیند آ گئی۔
یکایک شور کی آوازیں سن کر انہوں نے آنکھیں کھول کر کھڑکی سے باہر دیکھا تو ان کا دل دہل گیا۔سڑک پر ایک خوف ناک منظر تھا۔ہر طرف افراتفری تھی۔فلاحی اداروں کے رضاکار اور بہت سی ایمبولینس کھڑی تھیں۔معلوم کرنے پر انھیں پتا چلا کہ وہ بس جو دفتر سے دیر سے نکلنے کی وجہ سے ان سے چھوٹ گئی تھی،اسے حادثہ پیش آ گیا ہے۔
بس پھاٹک بند نہ ہونے کی وجہ سے ٹرین کی زد میں آ گئی ہے۔بہت سے مسافر زخمی تھے اور رضاکار انہیں اُٹھا کر ایمبولینس میں ڈال رہے تھے۔پولیس کی بہت سی گاڑیاں بھی موقع پر موجود تھیں۔جو لوگوں کو منتشر کر رہے تھے۔
اب اللہ پاک کی رضا ان کی سمجھ میں آئی کہ بلی ان کو کیوں بلا کر لے گئی تھی اور کس طرح دیر ہو جانے کی وجہ سے ان سے وہ بس چھوٹ گئی تھی۔ عدیل صاحب نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا،جس نے بلی کو وسیلہ بنا کر انہیں ایک بڑے حادثے سے محفوظ رکھا۔ rvr