پنجاب : کانگریس کے سامنے عام آدمی پارٹی کا چیلنج

0
image:businessstandard

پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی پوزیشن دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے مقابلے میں بہتر دکھائی دے رہی ہے خاص طور پر ایسے حالات میں کہ جب اکالی دل حاشیہ پر ہے اور کانگریس پارٹی میں اس قدر اختلافات ہیں کہ بعض اوقات خانہ جنگی کے مناظر دیکھنے میں آتے ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے چھوٹی ریاست ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں پر بہت زیادہ محنت کیے بغیر 2017کے الیکشن میں زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا مگر مالوہ خطے میں محدود رہ جانے کی وجہ سے پارٹی کو دوسرے علاقوں میں وہ کامیابی نہیں ملی۔ بعد ازاں پارٹی کے اندر اختلافات نے جنم لینا شروع کیا اور خدمت خلق کے جذبے کے تحت کام کرنے کا دعویٰ کرنے والی عام آدمی پارٹی کے لیڈروں میں لیڈر آف اپوزیشن (ایل او پی) کے عہدہ کو لے کر ایسی چھینا جھپٹی ہوئی کہ پارٹی کے دو ٹکرے ہوگئے۔ الیکشن سے چند ماہ قبل امریندر سنگھ کے دور اقتدار میں عام آدمی پارٹی سے ٹوٹ کر بننے والی پنجاب ایکتا پارٹی جو کہ ستپال سنگھ کھیرا کی قیادت میں علیحدہ شناخت بنائے ہوئی تھی کانگریس پارٹی میں شامل ہوگئی۔ اب الیکشن کی گہما گہمی میں ایسے لگ رہا ہے کہ عام آدمی پارٹی پہلے کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہے اور کجریوال لگاتار اس کوشش میں ہیں کہ دہلی کے ساتھ پنجاب کو بھی سر کرلیا جائے۔ وہ لگاتار پنجاب کا دورہ کررہے ہیں۔ اب پارٹی متحد دکھائی دے رہی ہے مگر پنجاب کا وزیر اعلیٰ کے عہدے کا امیدوار کون ہونا چاہیے اس پر تجسس برقرار ہے۔ بھگونت سنگھ مان جو کہ سنگرور پارلیمانی حلقہ سے عام آدمی پارٹی کے ٹکٹ پر ممبر پارلیمنٹ چنے گئے تھے اور لوک سبھا میں وہ اکیلے عام آدمی پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ ہیں، وزیر اعلیٰ کے چہرے کے طور پر پیش کیے جاسکتے ہیں مگر ان کے نام کا اعلان کرنے میں پارٹی قیادت کو تامل ہے۔
حقیقت یہ کہ 2017میں شکست کھانے کے بعد شرومنی اکالی دل اپنے قدموں پر کھڑی نہیں ہوسکی ہے۔ کانگریس پارٹی کو اینٹی ان کمبنسی کا سامنا ہے اور کئی حلقے عام آدمی پارٹی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کی قیادت ماحول کو بھانپ گئی ہے اور ہرطریقے سے برسر پیکار ہے کہ وہ کسی طرح کانگریس پارٹی کی خانہ جنگی اور بدنظمی کو سامنے لاکر اقتدار سے بے دخل کردے۔ 2017 کے اسمبلی الیکشن میں عام آدمی پارٹی نے 20سیٹوں پر کامیابی حاصل کرلی تھی مگر کچھ ممبران اسمبلی بدلتے حالات کی وجہ کانگریس میں چلے گئے تھے پھربھی اس کے 17ممبران اسمبلی آخر تک پارٹی کے ساتھ رہے۔ پنجاب اسمبلی میں سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور لیڈر ایچ ایس پھلکا کے سیاست چھوڑنے کے بعد اور ایم ایل اے کی سیٹ سے استعفیٰ کے بعدستپال سنگھ کھیرا اور اب ہرپال سنگھ چیما لیڈر آف اپوزیشن ہیں۔ تمام چیلنجز کے باوجود چیما ریاستی اسمبلی میں اپنی لیڈر شپ کو قائم رکھنے میں کامیاب رہے۔ اس معاملے میں کوٹکاپور کے ایم ایل اے کلتار سنگھ سندھاون اور ان کے مددگار سنم اسمبلی حلقے کے نمائندے امن اروڑہ پارٹی کا پرچم بلند رکھنے میں کامیاب رہے۔ 2022کا الیکشن آتے آتے پارٹی نے اپنی کھوئی ہوئی زمین کسی حد تک پانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی بتایا جاچکا ہے کہ عام آدمی پارٹی مالوہ خطے میں 18سیٹیں جیتی تھی جبکہ 2سیٹیں دوآبہ خطے میںملی تھیں۔ مانجھا میں وہ اپنا کھاتہ نہیں کھول پائی۔ پارٹی کی قیادت مرکزی لیڈروں کے ساتھ کام کرکے مانجھا میں اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ عام آدمی پارٹی 117 سیٹوں میں سے 109پر اپنا امیدوار عوام کے سامنے لاچکی ہے۔ عام آدمی پارٹی نے کسانوں کی ایک جماعت ایس ایس ایم کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی کوشش کی تھی مگر ایس ایس ایم کے ارادے بلند ہیں اور دونوں میں سمجھوتہ نہیں ہوپایا ہے۔ قارئین کے سامنے یہ بات بھی رہے کہ عام آدمی پارٹی چنڈی گڑھ میونسپل کارپوریشن میں اچھی کارکردگی پیش کرچکی ہے اگرچہ اس کو میئر کے عہدہ پر اپنا امیدوار منتخب کرانے میں کامیابی نہیں مل پائی۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here